*اسلام میں حقوقُ العباد کا مقام اور مسلم معاشرہ*

(یہ ایک نایاب تقریر ہے)

*از فضیل اختر قاسمی بھیروی*


الحمدلله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد الأنبياء و المرسلين و على آله و اصحابه اجمعين أما بعد

*محترم سامعینِ کرام اور حضرات حکم صاحبان*

آج کی اس بابرکت انجمن میں میں جس موضوع پر لب کشائی کرنے جا رہا ہوں، وہ محض کوئی علمی عنوان نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی زندگی و موت کا فیصلہ کرنے والا عنوان ہے *"اسلام میں حقوقُ العباد کا مقام اور مسلم معاشرہ"*۔

حضراتِ محترم! اگر میں کہوں کہ آج ہمارا سب سے بڑا زوال، سب سے بڑا بحران، سب سے بڑا فتنہ حقوقُ العباد کی پامالی ہے تو خدا کی قسم ایک لفظ بھی مبالغہ نہ ہوگا۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ وہ بنیاد ہے جس پر دین کھڑا ہے، یہ وہ ستون ہے جس پر ایمان استوار ہے، یہ وہ ذمہ داری ہے جس سے حساب ٹل نہیں سکتا۔

*معزز سامعین کرام*

اسلام نے بندوں کے حقوق کو صرف اخلاقی تعلیم نہیں بنایا، بلکہ اسے ایمان کا معیار قرار دے دیا۔ قرآن نے لاجواب و بے مثال انداز میں اس کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے: "وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا" لوگوں سے نرم بات کرو۔ اسی طرح حدیثِ نبوی بھی اعلان کرتی ہے: "المسلم مَن سلم المسلمون من لسانه ويده" وہی کامل مسلمان ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔ مگر افسوس! آج ہم اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں، مگر بندوں کے دل توڑنے میں اس سے بھی زیادہ مشغول، ہماری نمازیں طویل سے طویل ہوتی ہیں، مگر زبانیں تلخ ہوتی جارہی ہیں؛ تسبیح کے دانے گھومتے ہیں، مگر دل کینہ سے بھرا ہوا؛ چہرے سنت کے مطابق، مگر سیرت کہیں دور بھٹکتی ہوئی؛ ظاہری دین سلامت، مگر باطنی اخلاق قبرستان ہو چکے ہیں۔

*محترم سامعینِ کرام!*

کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں؟ ہم نے عبادات کو دین سمجھ لیا اور معاملات کو دنیا۔حالانکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم قیامت کے دن سب سے زیادہ کس چیز کے محتاج ہو؟ نیکیوں کے محتاج!" لیکن افسوس! ہمارے اعمال کے پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، اگر ہم نے آج بندوں کے حقوق پامال کیے۔

*حضراتِ سامعین با تمکین!* دین کا انصاف دیکھئے کہ حقوقُ اللہ میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: "اگر چاہوں تو معاف کر دوں!" مگر حقوقُ العباد میں اعلان فرمایا: "ان ﷲ لا يمنع ذا حق حقه" میں کسی صاحبِ حق کا حق نہیں روکتا! اب سوچئے زخم انسان نے دیا ہے تو مرہم انسان لگائے گا، دل انسان نے توڑا ہے تو معافی انسان دے گا، حق انسان کا کھایا ہے تو حساب بھی انسان کے ساتھ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کے دور کا معاشرہ روشنی کا مینار تھا، کیوں؟ اس لئے کہ ان کے نزدیک حقوق العباد عبادت سے کم نہ تھے، بلکہ کئی مرتبہ اس سے بھی زیادہ اہم سمجھے جاتے تھے۔

*محترم سامعینِ کرام!*

آج ہمارا دل زخمی ہے، گھر ٹوٹے ہوئے، خاندان بکھرے ہوئے، محلے نفرت سے بھرے ہوئے، امت ہزار ٹکڑوں میں تقسیم! آخر ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ ہم نے چالیس دن کے اعتکاف کو تو لازم پکڑ لیا، مگر بوڑھی ماں کے دل کو آرام دینا چھوڑ دیا۔ ہم نے تہجد کی پابندی کر لی، مگر پڑوسی کے حقوق بھول گئے۔ ہم نے داڑھی ضرور بڑھا لی، مگر زبان کا زہر نہ نکالا۔ ہم نے سنتیں اختیار کرلیں، مگر سیرتِ محمدی ﷺ سے فاصلہ بڑھتا گیا۔

آج گلی گلی جھگڑا ہے، گھر گھر فساد ہے، عدالتوں میں مقدمات کے انبار ہیں، بھائی بھائی کا دشمن ہے، پڑوسی پڑوسی سے بے زار ہے، داماد سسرالیوں کے خون کا پیاسا ہے، بیوی شوہر کے لئے امتحان، شوہر بیوی کے لئے آزمائش، ہر طرف آگ ہے، دھواں ہے، فتنہ ہے، عداوت ہے۔ یہ سب کیوں؟ صرف اس لیے کہ حقوق العباد ہمارے کردار سے نکل گئے۔

*حضراتِ محترم!*

شورش کاشمیری کہا کرتے تھے: "امت کی بربادی مسجدوں کے کمیٹی ممبروں سے شروع نہیں ہوئی، بلکہ ان زبانوں سے ہوئی جو نماز کے بعد بھی لوگوں کا خون پیتی رہیں" اور آج یہی ہو رہا ہے۔ گناہ صرف وہ نہیں جو فرض چھوڑ دینے سے ہوتا ہے، بڑا گناہ وہ ہے جو کسی کی عزت پامال کرنے سے ہوتا ہے۔

*محترم سامعینِ کرام!*

ذرا اپنے دلوں میں جھانک کر دیکھئے کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم زبان سے روز کتنے لوگوں کا دل زخمی کرتے ہیں؟ کتنے دل توڑتے ہیں؟ کتنے رشتے بگاڑتے ہیں؟ کتنے گھروں میں آگ لگاتے ہیں؟ کتنے غریبوں کی حالت سے بے پروا رہتے ہیں؟ کتنے یتیموں کو نظرانداز کرتے ہیں؟ کتنے والدین کے جذبات کو روندتے ہیں؟ اور یہ سب کرتے ہوئے ہم پھر بھی سمجھتے ہیں کہ ہم "نیک" ہیں؟ اے امتِ محمد ﷺ! یہ دھوکہ چھوڑ دو، جس نے دل توڑا، اس کی نمازیں مقبول نہیں۔ جس نے پڑوسی کو ستایا، اس کا روزہ معتبر نہیں۔

جس نے یتیم کا مال کھایا، اس کا حج قبول نہیں۔ جس نے عزتیں پامال کیں، اس کی کوئی عبادت بارگاہِ الٰہی تک نہیں پہنچتی۔

*سامعینِ کرام!*

یہ معاشرہ ہمیں پکار رہا ہے، یہ امت ہمیں آواز دے رہی ہے، مسلمانوں اٹھو! حقوق العباد کو زندہ کرو، ورنہ یاد رکھو کعبہ کی دیواریں بھی گواہی دیں گی کہ فلاں شخص اللہ کے گھر آ تو گیا، مگر انسانوں کے دل اجاڑ کر آیا۔

اسلام کا نام لینے والوں!

اسلام کی بنیاد صرف عبادت گزار پیشانیوں پر نہیں، بلکہ انسانوں کے درمیان قائم ہونے والے عدل، محبت، دلسوزی اور خیر خواہی پر بھی رکھی گئی ہے۔ اگر دین کو ایک عمارت سمجھا جائے تو اس کا ستون بندوں کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔ قرآن نے جگہ جگہ انسانوں کے حقوق کو رب کے ذکر کے ساتھ جوڑا ہے، گویا شریعت یہ اعلان کرتی ہے کہ جو خدا کا ہے وہ ایک طرف، مگر جو بندوں کا ہے اُس کی پاداش نہ دنیا میں معاف ہوتی ہے نہ آخرت میں۔

*مذہبِ اسلام کے شیدائیوں!*

اسلامی معاشرے کا حسن یہ تھا کہ وہاں رشتہ داروں کی عزت محفوظ تھی، پڑوسی کی دیوار امان تھی، یتیم کا دل ٹوٹا ہوا نہیں چھوڑا جاتا تھا، مسافر بے سہارگی کے اندھیروں میں تنہا نہیں پڑتا تھا، اور مزدور اپنی مزدوری کے لیے کسی کے در کا محتاج نہیں رہتا تھا۔ یہ وہ اہتمام تھا جس نے مدینہ کی گلیوں کو جنت کے نمونے میں بدل دیا تھا۔ نہ جھوٹ کی بازگشت، نہ بدگمانی کی آندھیاں، نہ بے انصافی کی گرد۔ لیکن آج یہی امت دوسروں کے حقوق غصب کرنے میں ایسی اندھی دوڑ میں لگ گئی ہے کہ گویا آخرت کی عدالت کا کوئی وجود ہی نہیں۔

میرے معزز و محترم سامعین کرام!

ذرا اپنے اعمال کا جائزہ لیجئے ہماری محفلیں بدگمانی سے بھری، زبانیں غیبت سے آلودہ، دل حسد کے زخموں سے چور، اور ہاتھ ظلم کرنے کے مواقع ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ رشتہ داری کی رسیاں کمزور ہو چکی ہیں، بھائی بھائی کا دشمن ہے، پڑوسی پڑوسی سے بے خبر، باپ اولاد کو بھول بیٹھا، اولاد والدین سے بے نیاز ہو گئی۔ کون سا حق ہے جس پر کلہاڑی نہیں چل رہی؟ کون سی ذمہ داری ہے جسے پامال نہیں کیا جا رہا؟ خواتین کے حقوق تو گویا سینے پر بوجھ بنا دیے گئے ہیں۔ ان کے احساسات کا مذاق، ان کے مال پر قبضہ، ان پر چیخ پکار، ان کی عزت پر حملے۔یہ ساری نافرمانیاں ایسے انجام رکھتی ہیں جن کا تصور بھی روح کو لرزا دیتا ہے۔ اسی طرح شوہر کے حقوق کی پامالی، اس کی نافرمانی، اس کے گھر کا نظم توڑ دینا، یہ سب بھی اس رب کے یہاں معمولی گناہ نہیں۔ یہی حال والدین کا ہے۔ اُن کے بڑھاپے کی لرزتی ہوئی آوازیں آج ہمارے نوجوانوں کے کانوں تک پہنچتی ہی نہیں۔ وہ والدین، جنہوں نے زندگی سانس سانس کر کے اولاد کے لیے قربان کی، آج اسی اولاد کے تیور دیکھ کر خاموشی میں پناہ لیتی ہے۔ اسلام نے یہاں بھی ہمیں جھنجھوڑ دیا: اللہ کی رضا والدین کی رضا میں ہے، اور اس کا غضب والدین کی ناراضی میں۔ اور وہ یتیم، وہ مسکین، وہ بوڑھے، وہ معذور، وہ مزدور، یہ سب ہماری ذمہ داری تھے، مگر ہم میں سے کتنے ہیں جو ان کے حقوق کو رب کی امانت سمجھ کر ادا کرتے ہیں؟ مزدور کی مزدوری روک کر، یتیم کا مال کھا کر، غریب پر طنز کر کے، معذور کا مذاق اڑا کر ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں یہ سب ختم ہو جائے گا؟ ارے نہیں اور ہرگز نہیں! یہ ظلم کا ہر ذرّہ قیامت کے دن پکارے گا؛ ہر چیخ کو آواز ملے گی؛ ہر قطرۂ اشک کو زبانی ثبوت دیا جائے گا۔

*حضراتِ محترم!*

یہ بھی نہ بھول جائیے کہ حقوق العباد صرف مالی یا جسمانی معاملات میں نہیں، زبان کے استعمال میں بھی ہیں۔ آپ کسی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کس لہجے میں کہتے ہیں؟ اس کے پیچھے کی نیت کیا ہے؟ سب لکھا جا رہا ہے۔ غیبت، بہتان، چغل خوری، طعن و تشنیع، یہ سب کے سب ایسے گناہ ہیں جو انسان کی نیکیوں کو ایسے چاٹتے ہیں جیسے دیمک لکڑی کو۔ انسان حیران کھڑا رہ جائے گا کہ میں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، قرآن مجید کی تلاوت کی، مگر ترازو خالی کیوں ہے؟ تو جواب آئے گا کہ تمہاری نیکیاں اُن لوگوں کو دے دی گئیں جن کی تم نے زبان سے عزتیں لوٹیں، جن کے دل توڑے، جن پر تہمتیں لگائیں، جن کی پیٹھ پیچھے زخم لگائے۔

افسوس صد افسوس! مجھے بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کا مسلمان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ عدالت سے جیت گیا تو حق اس کے پاس آ گیا۔ حالانکہ قرآن اور حدیث دونوں اعلان کرتے ہیں کہ باطل دنیا کی عدالت میں کچھ دیر سر اٹھا سکتا ہے، مگر آخرت کی عدالت میں اس کا کوئی گزر نہیں۔ جو زمین ظلم سے لی، وہ سانپ بن کر لپٹے گی۔ جو مال دھوکے سے لیا، وہ جہنم کا انگارہ بنے گا۔ جو عزت چھینی، وہ قیامت کے دن تلوار بن کر لوٹے گی۔ مسلمانوں یہیں پر بس نہیں حد تو یہ ہے کہ ہم نے گناہ کو معمولی سمجھ لیا ہے، اور حقوق العباد کی پامالی کو ترقی کا راستہ بنا لیا ہے۔ ہم یہ گمان رکھتے ہیں کہ دوسروں کے مال سے ہمارا کاروبار بڑھے گا، دوسروں کی زمین سے ہماری کھیتی پھیلے گی، دوسروں کے پیسے روک کر ہم اپنی دنیا بچا لیں گے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم جو اپنے حق میں اضافہ سمجھ رہے ہیں وہ دراصل جہنم کے سامان میں اضافہ ہے۔ ہم جو اپنے لیے کامیابی سمجھ رہے ہیں وہ در اصل ابدی خسارہ ہے۔ ہم جو اپنی چالاکی سمجھ رہے ہیں، وہ در اصل آخرت کی تباہی ہے۔

*محترم سامعینِ کرام!*

جہاں بات حقوق العباد کی آتی ہے، وہاں اسلام ہمیں صرف نصیحت نہیں کرتا، بلکہ ہمیں پکارتا ہے، اس لیے کہ حقوق العباد محض انسانی معاملات نہیں، الٰہی امتحانوں کے بنیادی ستون ہیں۔ یہاں کسی زبان کی شعلہ بیانی نہیں چلتی، یہاں ترازو کا پلڑا صرف عدل کی بنیاد پر جھکتا ہے۔ آج جب ہم اپنے معاشرے کی طرف دیکھتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ ہماری مسجدیں تو آباد ہیں، مگر دلوں کے دروازے ویران؛ عبادتیں تو بڑھ گئی ہیں مگر کردار گھٹ گئے؛ ظاہری تقویٰ تو موجود ہے مگر باطنی ذمہ داریاں غائب ہیں۔

عزیزوں یہی وہ لمحہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ کی وہ گرجدار تنبیہ سنائی دیتی ہے کہ مفلسی نماز روزہ نہ ہونے سے نہیں، حقوق العباد ضائع ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک شخص قیامت میں آئے گا، نمازیں بھی ساتھ، روزے بھی ساتھ، صدقات بھی ساتھ، مگر زبان کی چوٹیں، ہاتھ کی زیادتیاں، دل آزاری کی تاریخیں بھی ساتھ۔ ادھر اعمال نیکیوں کے ترازو سے نکال کر مظلوموں کے کھاتوں میں منتقل ہونے لگیں، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں تو ظالم کے نامۂ اعمال میں دوسروں کے گناہ منتقل ہونے لگیں۔ کیا یہی انجام ہم چاہتے ہیں؟ کیا یہی تقدیر ہم اپنے ہاتھوں لکھ رہے ہیں؟

*محترم سامعینِ کرام!*

آج کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان عبادت گزار تو ہے مگر مسلسل بدخلق بنتا جا رہا ہے؛ دین دار تو ہے مگر بے انصاف ہوتا جا رہا ہے۔ مسجدوں میں صفیں بھر دیتا ہے مگر گھروں میں دل توڑ دیتا ہے؛ سجدوں میں عاجزی دکھاتا ہے مگر زبان سے تکبر ٹپکتا ہے؛ قرآن پڑھتا ہے مگر اس کے اخلاقی احکام نظرانداز کرتا ہے۔ اسلام نے ہمیں ایسی امت بنایا تھا جو لوگوں کے دلوں کا مرہم ہو، زخم دینے والی نہیں؛ ہمسائے کے سائے کی راحت ہو، اس کی تکلیف کا سبب نہ ہو؛ بازار کا عدل دکھانے والی ہو، اس کا دھوکا نہ ہو؛ معاشرے کی امان ہو، اس کا خوف نہ ہو۔ مگر افسوس! آج ہر زیادتی پر ایک مذہبی جملہ چپکا دیتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ بات ختم ہو گئی۔ نہیں! حقوق العباد میں معاملہ اللہ کے ہاں بغیر معافی کے ختم نہیں ہوتا۔

*محترم سامعینِ کرام!*

اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ دوبارہ زندہ ہو، اس کی روح بیدار ہو، تو ہمیں عبادتوں کے ساتھ کردار کا جہاد بھی کرنا ہوگا۔ ہمیں نماز کے ساتھ نرم مزاجی، روزے کے ساتھ دل کی صفائی، حج کے ساتھ زبان کی حفاظت، اور زکوٰۃ کے ساتھ دل کی سخاوت بھی زندہ کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے گھروں میں عدل، اپنی مجلسوں میں احترام، اپنے لین دین میں دیانت، اپنے رویّوں میں شرافت، اور اپنی گفتگو میں محبت کو واپس لانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے امت کا وقار بحال ہوگا، یہی وہ زینہ ہے جس سے اللہ کی مدد اترے گی۔

*محترم سامعینِ کرام!*

کبھی غور کیجیے، جب مسلمانوں نے حقوق العباد کو زندہ رکھا تھا تو وہ دنیا کے لیے مثال تھے؛ ان کے فیصلے عدل کی گواہی تھے؛ ان کے کردار روشنی کی کرنیں تھیں؛ ان کے اخلاق دلوں کے دروازے کھول دیتے تھے۔ آج ہمیں پھر اسی دروازے کو کھٹکھٹانا ہے۔ ہمیں اپنی نسلوں کو یہ سبق دینا ہے کہ عبادتیں تمہیں اللہ تک پہنچاتی ہیں، مگر اخلاق تمہیں اللہ کے بندوں تک پہنچاتے ہیں اور دونوں کے بغیر کوئی راستہ مکمل نہیں ہوتا۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زبان کو نرم کریں گے، اپنے معاملات میں سچائی لائیں گے، کسی کے حق کو نہ ماریں گے، کسی کا دل نہ توڑیں گے، معاف کرنا سیکھیں گے، پیار بانٹیں گے، نرمی اپنائیں گے، اور اسلام کے ان روشن اصولوں کو اپنے گھروں، اپنی گلیوں، اپنے معاشرے میں زندہ کریں گے۔ یہ صرف تقریر کا جذبہ نہیں، یہ امت کی بقا کا راستہ ہے، یہ دلوں کے مریض معاشرے کا علاج ہے، یہ بکھری ہوئی امت کے لیے واحد سہارا ہے۔ میں انہی چند باتوں پر اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔

و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين

*از قلم فضیل اختر قاسمی بھیروی*

*متعلم شعبۂ تخصص فی الفقہ و الافتاء والقضاء جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد*

22 نومبر 2025ء