شرافت کا چولہ اور دل کا پاپ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم قارئین : دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بدن پر شرافت کا چولہ اور چہرے پر پارسائی کا نقاب اوڑھے پھرتے ہیں۔ گفتگو سنیں تو لگتا ہے اخلاق و اخلاص کا آخری نسخہ انہی کے پاس ہے، القاب سنیں تو محسوس ہوتا ہے کہ علم و تقویٰ کی ساری دولت انہی کے حصے میں آئی ہے، اور نام ایسا کہ لوگ مرعوب ہوکر اپنی زبانیں بند کرلیں۔
لیکن جناب!
چولہ بدن پر ہوتا ہے، دل پر نہیں۔ دل کی حقیقت کبھی نہ کبھی کسی واقعے میں ضرور ظاہر ہوجاتی ہے۔ اس کا تعلق غریب یا امیر، عالم یا جاہل، صاحبِ منصب یا عام آدمی ہونے سے نہیں۔ دل میں اگر کدورت، حقارت، حسد یا بے وجہ دشمنی کا پاپ گھر کرجائے تو بڑے سے بڑا لقب بھی اسے پاک نہیں کرسکتا۔یہ بات میں کسی کتابی مطالعے کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا۔
یہ میرا تجربہ ہے؛ میں نے اسے دیکھا بھی ہے اور محسوس بھی کیا ہے۔ اسی لیے میرا مشورہ ہے کہ کسی کے بڑے نام سے مرعوب نہ ہوں؛ اس کے کردار کو دیکھیے۔ لباس نہیں، رویہ دیکھیے۔ منصب نہیں، یہ دیکھیے کہ وہ اپنے قریبی اور اس شخص کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے جس سے اسے کوئی فائدہ نہیں۔
کیونکہ بعض لوگ کتابوں میں بہت بڑے ہوتے ہیں، مگر دل کے صفحات پر انسانیت کا ایک باب بھی نہیں لکھ پاتے۔
مظاہر علوم کا ایک واقعہ
میری طالب علمی کا زمانہ تھا۔ میں مظاہر علوم سہارنپور جدید کا متعلم تھا۔ ہمارے علاقے کے ایک بڑے ادارے کے ایک بڑے نام والے عالمِ دین اپنی کسی ضرورت کے سلسلے میں سہارنپور تشریف لائے اور مدرسے میں بھی آئے۔ ان کے کئی شاگرد بھی وہاں زیرِ تعلیم تھے۔استقبال اور ملاقات کے لیے بہت سے طلبہ آئے۔ میں بھی انہی میں شامل تھا۔
جو طالب علم ان کے پاس آتا، اس سے خیریت دریافت کرتے، کچھ نصیحت کی باتیں کرتے، ہمدردی کا اظہار کرتے، حالات پوچھتے۔ لیکن جب میں سامنے آیا تو عجیب خاموشی تھی۔
نہ خیریت، نہ سوال، نہ گفتگو، نہ توجہ۔
گویا میں وہاں موجود ہی نہیں تھا۔ حالاں کہ خونی رشتے کے اعتبار سے میں ان کے بہت قریب تھا۔ اس وقت میں دنیا کو آج کی طرح نہیں سمجھتا تھا۔ دل میں سوال اٹھا:
آخر مجھ سے ایسی کیا خطا ہوگئی؟
دل میں ایسی کون سی کدورت ہے کہ ایک رسمی سی خیریت بھی پوچھنا مشکل ہوگیا؟ جب گھر آیا تو والد صاحب سے ذکر کیا۔ انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا: بیٹا چھوٹی چھوٹی باتوں سے دل پریشان نہیں کرتے۔"
بات درست تھی، مگر الجھن باقی رہی۔ میں سوچتا رہا کہ شاید گھر میں کوئی پرانی رنجش ہو، بڑوں کے درمیان کوئی اختلاف ہو۔ لیکن اگر کوئی رنجش تھی بھی تو بڑوں کی بات تھی؛
بچوں سے کیا دشمنی؟
گاؤں کے بزرگ یہ بھی بتایا کرتے تھے کہ میرے والد اور دادا کے اس شخص پر ایسے احسانات تھے جنہیں وہ آسانی سے ادا نہیں کرسکتے تھے۔
مگر شاید ہر دل احسان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
کچھ دلوں میں احسان داخل تو ہوجاتا ہے، احسان شناسی نہیں ہوتی ۔
زخم بھولا نہیں تھا، صرف دب گیا تھا
وقت گزرتا گیا۔ میں نے اس واقعے کو بھلانے کی کوشش کی۔ سوچا شاید میری غلط فہمی ہو، شاید حالات ایسے ہوں، شاید میں ہی زیادہ حساس تھا۔خیر وقت گذرتا گیا پھر قریب ہی 2024ء میں وہی کہانی دوبارہ سامنے آگئی۔
ہمارے درمیان اب پہلے کے مقابلے میں کچھ آپسی دوریاں ضرور تھیں، مگر جب مطلب ہوتا تو یہی شخص خیریت بھی پوچھ لیتا اور مطلب کی بات بھی کرلیتا۔
تب ایک حقیقت سمجھ میں آنے لگی:
کچھ تعلقات رشتوں سے نہیں، ضرورتوں سے زندہ رہتے ہیں۔
ضرورت ہو تو آپ عزیز، ضرورت ختم تو اجنبی۔
فائدہ ہو تو احترام، فائدہ نہ ہو تو شاید آپ قابلِ دید بھی نہیں!
. بیماری نے حقیقت پھر سامنے رکھ دی.
اسی دوران ان کی طبیعت کافی ناساز ہوگئی اور علاج کے لیے بنگلور آنا پڑا۔والد صاحب بار بار اصرار کرتے رہے کہ ملاقات کرو، کسی بہتر ڈاکٹر کو دکھانے میں مدد کرو۔
میں چاہتا تو پرانا واقعہ یاد کرکے کہہ دیتا:
"جس شخص نے میری خیریت پوچھنا ضروری نہیں سمجھا، میں اس کی خیریت کے لیے کیوں دوڑوں؟"
لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔
میں نے اپنا زخم ایک طرف رکھا۔کیوں کہ بچپن کا زخم اگرچہ دب گیا تھا مگر ان سے ارادتاً و قصداً ملنے کا کبھی سوچا نہیں تھا مگر والد کے اصرار پر ان کے دل کے بہت بہت قریب ایک شخص کے ساتھ ان کی ملاقات کے لئے گیا،اور جانے سے قبل کئی ہسپتالوں کے اعلیٰ ذمہ داروں اور تعلقات والوں سے بات کی علاج و معالجہ کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کی۔
میں یہ سب عزت حاصل کرنے کے لیے نہیں کررہا تھا۔
میرا خیال صرف اتنا تھا:
بیماری میں انسانیت کا امتحان ہوتا ہے، حساب کتاب کا نہیں۔
مگر وہاں پہنچ کر پھر وہی منظر دیکھا۔
کئی لوگ ان سے مل رہے تھے، گفتگو کررہے تھے، خیریت پوچھ رہے تھے، مشورے کررہے تھے۔
اور میں؟
صبح سے از قبلِ مغرب تک موجود رہا، مگر مجھ سے ایک سوال تک نہیں کیا گیا۔
ایسا محسوس ہوا جیسے میں انسان نہیں، کمرے میں رکھا ہوا ایسا سامان ہوں جس کی موجودگی سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
تب دل نے ایک تلخ حقیقت محسوس کی اس کی کیفیت زیرِ قلم نہیں آ سکتا :بس اتنا کہ جہاں اثر و رسوخ، وہاں التفات؛
جہاں فائدہ، وہاں محبت؛ جہاں تعلقات، وہاں مسکراہٹ؛ اور جہاں صرف خلوص ہو، وہاں خاموشی!
یہ بھی ایک عجیب قسم کی پارسائی ہے—ایسی پارسائی جس کا ترازو انسان کو اخلاق سے نہیں، فائدے سے تولتا ہے۔یہی سب باتیں ذہن میں گشت کرنے لگی اور عجیب الجھن سا محسوس ہونے لگا.
وقت کا ایک عجیب مذاق"
وقت کبھی کبھی بڑا بے رحم مگر بہترین آئینہ ثابت ہوتا ہے۔جسے انسان معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتا ہے، حالات کبھی اسی کے دروازے تک لے آتے ہیں۔ان کے خاص قریبی لوگ مجھ سے پوچھتے، مشورے کرتے رہے۔ میں نے مزید کوئی رہبری بذاتِ خود اپنے ذمہ نہیں لی، مگر چپکے سے میرے ہی تعلقات کے ذریعے ان کے علاج و معالجے میں سہولت پیدا ہوئی۔
ان کی عزت ہوئی، ان کا احترام ہوا، حتیٰ کہ ایک مدرسے میں ان کا احترام بھی میرے ہی ذریعے سے کیا گیا۔
میں یہ سب احسان جتانے کے لیے نہیں کہہ رہا۔ بلکہ صرف اتنا کہ:
جسے انہوں نے بے اثر سمجھ کر نظرانداز کیا تھا، وقت نے اسی نا چیز کے تعلقات کو ان کے لیے مفید بنادیا۔
مگر افسوس!
اگر اتنا سب کچھ دیکھ لینے کے بعد بھی دل کی کدورت نہ پگھلے تو پھر مسئلہ حالات میں نہیں، دل میں ہوتا ہے۔
پاپی تھا، پاپی ہی رہا!
اس واقعے نے مجھے ایک سبق دیا:
بعض لوگ بدلتے نہیں، صرف حالات بدلتے ہیں۔ چہرہ وہی رہتا ہے، دل وہی رہتا ہے، صرف ضرورت بدل جاتی ہے؛ اور ضرورت بدلتے ہی رویہ بدل جاتا ہے۔
تب مجھے عوام کا مشہور مقولہ یاد آیا:
"آنکھ بند کرکے کھانے والی بلی سے کبھی وفا کی امید مت رکھنا۔"
اور: "سانپ کو دودھ پلانے سے پہلے سوچ لینا کہ موقع ملتے ہی یہ کاٹے گا۔"
یہ مقولے شاید کسی مدرسے کے نصاب میں شامل نہ ہوں، مگر زندگی کے مدرسے میں ان کے سبق بہت سخت ہوتے ہیں۔
کچھ لوگ آپ کے خلوص کو احسان نہیں، اپنا حق سمجھتے ہیں۔
آپ کی محبت کو محبت نہیں، اپنی ضرورت سمجھتے ہیں۔
آپ کی خاموشی کو شرافت نہیں، آپ کی کمزوری سمجھتے ہیں۔
اور جب ضرورت ختم ہوجاتی ہے تو وہ بھی ختم ہوجاتے ہیں۔لہٰذا اگر کبھی آپ کو اپنے ساتھ ایسا محسوس ہو تو بغض، حسد اور کدورت بڑھانے کے بجائے بہتر ہے کہ سلام کے سوا ان سے فاصلہ ہی رکھا جائے۔
شرافت کا اصل امتحان
عالم ہونا اور صاحبِ اخلاق بھی ہونا نصیب کی بات ہے.بڑا مدرسہ علم دے سکتا ہے، مگر بڑا دل انسان کو خود بنانا پڑتا ہے۔
بڑے القاب زبان کو مل سکتے ہیں، مگر بڑا ظرف کردار سے پیدا ہوتا ہے۔ اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب سامنے کوئی بااثر شخص ہو؛ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سامنے ایسا انسان ہو جس سے آپ کو کوئی فائدہ نہ ہو۔
وہاں آپ اس کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں؟
وہی آپ کی حقیقت ہے۔ بااثر سے محبت آسان ہے، بے اثر سے حسنِ سلوک اصل اخلاق ہے۔ امیر کی عزت کرنا آسان ہے، کمزور کو عزت دینا کردار ہے۔ اپنے حامی سے مسکرانا آسان ہے، مخالف یا بے فائدہ انسان سے انصاف کرنا انسانیت ہے۔
میری آخری بات
اس تجربے کے بعد میرا اصول بہت سادہ ہے:بڑے نام سے مرعوب نہیں ہونا۔ بڑے دعوے سے متاثر نہیں ہونا۔
شرافت کے چولے سے دھوکا نہیں کھانا۔
انسان کو دیکھنا ہے تو یہ دیکھیے کہ وہ اس شخص کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے جس سے اسے کچھ حاصل نہیں۔ کیونکہ فائدہ دیکھ کر جھکنے والا ہر شخص شریف نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی وہ صرف مفاد شناس ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں سے نہ بدلہ لیجیے، نہ نفرت میں اپنی زندگی جلائیے۔
بس حقیقت پہچانیے، توقع ختم کیجیے، فاصلہ رکھیے اور اپنی عزتِ نفس محفوظ رکھیے۔ کیونکہ سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ کسی نے آپ کو دھوکا دیا؛ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ حقیقت سامنے آجانے کے بعد بھی آپ اسی شخص سے وفا کی امید باندھے بیٹھے رہیں۔ اور اس پوری داستان کا نچوڑ چند جملوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ.
چولہ چاہے کتنا ہی سفید ہو، دل کا داغ چھپ نہیں سکتا۔
نام چاہے کتنا ہی بڑا ہو، کردار چھوٹا ہو تو نام صرف آواز رہ جاتا ہے۔
اور پارسائی کے دعوے چاہے کتنے ہی بلند ہوں، اصل چہرہ وہاں ظاہر ہوتا ہے جہاں سامنے والا بے اثر، بے بس اور بے فائدہ ہو۔
سانپ کو دودھ پلانے سے پہلے اس کے دانت یاد رکھیے۔
بلی کو کھلانے سے پہلے اس کی عادت پہچانیے۔
اور انسان کو پرکھنے کے لیے اس کی بات نہیں، اس کا برتاؤ دیکھیے۔
کیونکہ کبھی کبھی ضرورت ہر راز نہیں کھولتی مگر وقت نقاب اٹھا دیتا ہے.
اور وقت انسان کے چہرے سے شرافت کا چولہ اتار کر ہمیں دکھا دیتا ہے کہ اندر کیا ہے۔
میرے اس تجربے کا آخری فیصلہ بس اتنا ہے:
زمانہ بدلا، حالات بدلے، ضرورتیں بدلیں؛
مگر دل کا پاپ نہ بدلا۔پاپی تھا، پاپی ہی رہا!
................................
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ایسے پارسا نما شرپسندوں، ظاہری شرافت کے پردے میں چھپی کدورتوں، دل کے حسد و بغض اور منافقانہ رویّوں سے ہمیشہ محفوظ رکھتے ہوئے ، ہمیں ہر باطنی بیماری سے پاک رکھے اور حق و اخلاص کی راہ پر ثابت قدم فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(نوٹ)
میں نے مذکورہ شخص کی واضح شناخت اور تعارف دانستہ اور مصلحتاً مخفی رکھا ہے، تاکہ ہم غیبت اور بدگمانی جیسے گناہوں سے بھی حتی الامکان محفوظ رہیں۔ مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ایک تلخ ذاتی تجربے سے حاصل ہونے والے سبق کو بیان کرنا ہے۔بقلم محمودالباری