اکثر لوگ پورا سچ کبھی سنتے ہی نہیں۔
وہ آدھی بات سنتے ہیں، اپنی سوچ اور اپنی مرضی سے اس کا مطلب نکالتے ہیں، پھر اس میں اپنے الفاظ شامل کرکے اسے دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔
یوں ایک معمولی سی بات چند لوگوں کی زبان سے گزر کر اتنی بدل جاتی ہے کہ آخر میں حقیقت کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔
افسوس تو تب ہوتا ہے۔
 جب لوگ سنی سنائی بات پر یقین کر لیتے ہیں اور حقیقت جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ کسی کی بات کو توڑ مروڑ کر بیان کرنا بظاہر معمولی بات لگتی ہے،
 لیکن اس کے نتائج بہت نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
مجھے یاد ہے،
اسکول کے زمانے میں ہمارے ٹیچر نے اسی بات کو سمجھانے کے لیے ایک دلچسپ کھیل کروایا تھا،
 جس کو "ٹیلیفون گیم" کہا جاتا تھا 
تقریباً ڈیڑھ سو بچوں کو ایک دائرے کی شکل میں بٹھایا گیا۔
ٹیچر نے سب سے پہلے بچے کے کان میں ایک بات بہت آہستہ سے کہی اور کہا کہ اب تم بھی اپنے برابر بیٹھے ساتھی کے کان میں یہ بات اتنی آہستہ سے کہنا کہ تیسرے بچے کو سنائی نہ دے۔ یوں وہی بات ایک بچے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک پہنچتی رہی۔
جب آخر میں آخری بچے سے پوچھا گیا کہ اس کے کان میں کیا بات پہنچی ہے تو سب حیران رہ گئے۔
 پہلے بچے کو جو بات بتائی گئی تھی اور آخری بچے تک جو بات پہنچی، ان دونوں کا کوئی جوڑ ہی نہیں تھا۔
 ایک ہی بات ڈیڑھ سو کانوں سے گزرتے گزرتے بالکل بدل چکی تھی۔
اس وقت یہ صرف ایک کھیل تھا، لیکن آج سوچیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہو گئی ہے۔
کسی سے فون پر کوئی بات سنی، فوراً دوسرے کو بتا دی۔
دوسرے نے اس میں اپنی سمجھ کے مطابق کچھ اور شامل کیا اور تیسرے تک پہنچتے پہنچتے بات ہی بدل گئی۔
نہ حقیقت جاننے کی کوشش کی، نہ یہ سوچا کہ جو بات ہمیں بتائی جا رہی ہے وہ درست بھی ہے یا نہیں۔
خاص طور پر عورتوں میں یہ عادت زیادہ ملتی ہے
 ایسی آدھی سنی، آدھی سمجھی اور بڑھا چڑھا کر پھیلائی ہوئی باتوں سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں،
 دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں، رشتوں میں دراڑیں آتی ہیں، اور ایک دوسرے سے یقین اور بھروسہ اٹھنے لگتا ہے۔
 ہر سنی سنائی بات سچ نہیں ہوتی، اور ہر وہ بات جو ہمیں کسی کے بارے میں بتائی جائے، ضروری نہیں کہ حقیقت بھی وہی ہو۔
عقل مندی یہی ہے کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کی جائے بغیر تحقیق کے کوئی بات آگے نہ بڑھائی جائے۔
کسی بات کو سن کر فوراً یقین نہ کریں، نہ ہی ہر سنی ہوئی بات دوسروں تک پہنچائیں۔ 
کیونکہ زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں آتی
عائشہ 🍁