اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جشنِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم نعمت اور اعزاز ہے اور جلوسِ محمدی میں شرکت کے ذریعے مسلمان اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ جلوس ہمیں اس بات کا احساس بھی دلاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر محبت رکھتے ہیں، آپ کی تعلیمات پر کس حد تک عمل پیرا ہیں اور آپ کی سیرتِ طیبہ کو اپنی عملی زندگی میں کس قدر اپنائے ہوئے ہیں۔ تاہم اس محبت کا تقاضا صرف جلوس میں شرکت یا خوشی کے اظہار تک محدود نہیں، بلکہ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ طرزِ زندگی، اخلاق، معاملات، دیانت داری اور حسنِ کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا عہد کریں، کیونکہ جب ہماری عملی زندگی سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عکاس ہوگی تو ہی ہمارا جشنِ میلاد حقیقی معنوں میں بامقصد اور کامیاب قرار پائے گا۔
اسی کے ساتھ جلوسِ محمدی میں شریک ہر فرد کو وقار، ادب اور حسنِ اخلاق کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، کسی کو زبانی یا عملی طور پر تکلیف نہ پہنچائی جائے اور ہر شخص کے ساتھ نرمی، محبت اور خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے، کیونکہ حسنِ اخلاق ہی وہ عظیم وصف ہے جس کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دلوں کو فتح فرمایا۔ جلوس کے دوران غیر ضروری شور و شرابے، اشتعال انگیز نعرے بازی اور ایسے تمام اعمال سے اجتناب ضروری ہے جن سے ماحول خراب ہو یا دوسروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ موجودہ حالات ہم سے خاص طور پر میانہ روی، صبر، تحمل اور نظم و ضبط کا تقاضا کرتے ہیں، اس لیے ہمیں ہر ایسے عمل سے بچنا چاہیے جو کسی بھی قسم کی بدنظمی، کشیدگی یا ناخوشگوار صورتِ حال کا سبب بنے۔
اسی طرح ڈی جے، بینڈ باجے اور لاؤڈ اسپیکر کے غیر ضروری اور بلند استعمال سے بھی گریز کیا جائے۔ نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی جائے، خوشی کا اظہار کیا جائے اور محبتِ رسول کا پیغام عام کیا جائے، لیکن ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی کو ملحوظ رکھا جائے۔ غلو اور حد سے تجاوز سے بچنا نہایت ضروری ہے، تاکہ جشنِ میلاد کا ماحول باوقار، پُرامن اور سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کے مطابق رہے۔ اس کے لیے مناسب انتظام و انصرام بھی ضروری ہے۔ جس علاقے میں جلوسِ محمدی نکالا جائے، وہاں کم از کم آٹھ سے دس ذمہ دار رضاکار مقرر کیے جائیں جو جلوس کو ابتدا سے اختتام تک منظم رکھنے کی ذمہ داری ادا کریں اور آگے، پیچھے اور دونوں اطراف مناسب نگرانی کا انتظام رکھیں، تاکہ بدنظمی، دھکم پیل یا کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے بروقت بچا جا سکے۔
اس موقع پر نئی نسل کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ علماءِ کرام، ائمہ اور والدین اپنے بچوں اور طلبہ کو سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے روشناس کرائیں، انہیں اچھی اور باادب نعتیں سکھائیں اور ان کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت پیدا کریں، تاکہ وہ محبتِ رسول کے ساتھ آپ کی تعلیمات اور اخلاق کو بھی اپنی زندگی میں اختیار کرنے والے بنیں۔ اسی طرح اگر جلوس کے دوران کھانے پینے کا انتظام کیا جائے تو اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کھانا، پانی، شربت یا دیگر اشیاء ضائع نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ یعنی "کھاؤ اور پیو، اور اسراف نہ کرو۔" لہٰذا ضرورت کے مطابق اشیاء تقسیم کی جائیں اور بچ جانے والی چیزوں کو ضائع کرنے کے بجائے ضرورت مندوں تک پہنچایا جائے۔
سب سے بڑھ کر ہمیں یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہم جشنِ میلاد کیوں منا رہے ہیں اور اس کا حقیقی مقصد کیا ہے۔ اسے صرف ایک رسمی جلوس، نعرے یا وقتی خوشی تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ موقع ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینے اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کردار و عمل میں نافذ کرنے کی ترغیب دینا چاہیے۔ ہماری زبان محبتِ رسول کا اظہار کرے، ہماری محفلیں محبتِ رسول کا پیغام دیں اور ہماری عملی زندگی بھی اسی محبت کی گواہی دے۔ حقیقت یہ ہے کہ جلوسِ محمدی محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے، لیکن اس محبت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم اسے وقار، ادب، نظم، اعتدال، صبر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ منائیں۔ اگر ہم ان تمام امور کا خیال رکھیں تو ہمارا جلوس نہ صرف پُرامن اور بابرکت ہوگا بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک روشن مثال بن جائے گا کہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا باوقار اور مثبت اظہار کس طرح کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت عطا فرمائے، آپ کی سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق دے اور ہمارے تمام دینی اجتماعات کو امن، اتحاد، ادب اور خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
-------------
کالم نگار: محمد فداء المصطفیٰ قادری 
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا