`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com

بچوں کے نام رکھنے کا معاملہ بظاہر بہت معمولی دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کی پوری زندگی کے ساتھ چلنے والی ایک شناخت ہے۔ نام صرف کسی کو پکارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اس کے خاندان، تہذیب، دینی شعور اور فکری وابستگی کی ایک خاموش علامت بھی ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کے نام رکھنے کے معاملے میں ایسی بے احتیاطی عام ہوتی جارہی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

آج بعض والدین اپنے بچوں کے لیے نام تلاش کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ نام کتنا منفرد ہے، کتنا جدید ہے، کتنا خوب صورت سنائی دیتا ہے یا سوشل میڈیا پر کتنا اچھا لگے گا؛ لیکن یہ کم لوگ سوچتے ہیں کہ اس نام کا معنی کیا ہے؟ اس کی نسبت کس سے ہے؟ اسلامی تاریخ میں اس نام کی کوئی روشن مثال موجود ہے یا نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا یہ نام ہماری دینی شناخت کی ترجمانی کرتا ہے؟

یہاں مسئلہ صرف چند حروف کا نہیں، مسئلہ ترجیحات کا ہے۔

ہماری تاریخ میں انبیائے کرام علیہم السلام کے نام ہیں، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے نام ہیں، صحابیات رضی اللہ عنہن کے نام ہیں۔ یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے نام صرف نام نہیں بلکہ کردار کی یادگار ہیں۔ جب ہم اپنے بچوں کا نام محمد، احمد، ابراہیم، یوسف، اسماعیل، اسحاق، عمر، عثمان، علی، حسن، حسین، بلال، سلمان، عائشہ، فاطمہ، خدیجہ، مریم یا زینب رکھتے ہیں تو گویا ہم اپنے بچے کو ایک عظیم تاریخ سے جوڑ دیتے ہیں۔

نام کے ساتھ ایک خاموش پیغام بھی منتقل ہوتا ہے:
"تمہاری نسبت کن لوگوں سے ہے؟ تمہاری مثالی شخصیت کون ہے؟ تمہاری شناخت کی جڑیں کہاں ہیں؟"

لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ بعض مسلمان گھرانوں میں ایسے نام رکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جن کے معنی تک والدین کو معلوم نہیں ہوتے۔ کبھی کسی فلم، ڈرامے، ناول یا سوشل میڈیا کی شخصیت سے متاثر ہوکر نام پسند کرلیا جاتا ہے، کبھی محض اس لیے کہ نام "نیا" اور "فیشن ایبل" محسوس ہوتا ہے۔ یوں نام رکھنے کا ایک ایسا معیار وجود میں آگیا ہے جس میں دینی نسبت پیچھے اور ظاہری جدت آگے ہوگئی ہے۔

یہاں ایک سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے:
اگر ہم اپنے بچوں کے ہیروز، آئیڈیلز اور رول ماڈلز بدل دیں گے تو آنے والی نسل اپنے ماضی سے کیسے جڑے گی؟

ایک بچہ جب اپنے نام کا مطلب پوچھتا ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا نام فلاں عظیم صحابی یا فلاں جلیل القدر نبی کے نام پر رکھا گیا ہے، تو نام اس کے لیے ایک سبق بن جاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: وہ کون تھے؟ ان کی زندگی کیسی تھی؟ انہوں نے اسلام کے لیے کیا قربانیاں دیں؟ یوں ایک نام تاریخ کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام رکھنے والا بچہ اگر عمر رضی اللہ عنہ کی عدل پسندی پڑھے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا نام رکھنے والا بچہ ان کی استقامت جانے، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا نام رکھنے والا بچہ ان کی قربانی پڑھے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نام رکھنے والی بچی ان کی حیا و پاکیزگی جانے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام رکھنے والی بچی ان کے علم و فہم سے واقف ہو—تو نام محض نام نہیں رہتا، تربیت کا وسیلہ بن جاتا ہے۔

اسی لیے ہمارے بزرگوں کے ہاں نام رکھنے کا ذوق بھی ایک تربیتی شعور کے ساتھ وابستہ تھا۔ وہ بچے کا نام رکھتے ہوئے صرف یہ نہیں دیکھتے تھے کہ نام اچھا لگتا ہے؛ وہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ اس نام کے پیچھے کون سی شخصیت کھڑی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ منفرد نام رکھنا غلط نہیں، لیکن اپنی دینی شناخت سے کٹ کر منفرد بننے کی کوشش خطرناک ضرور ہے۔

ہم جدید دور میں رہتے ہیں، جدید تعلیم حاصل کرتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، دنیا کے علوم سے فائدہ اٹھاتے ہیں؛ لیکن جدید ہونے کا مطلب اپنی تہذیبی اور دینی جڑوں کو کاٹ دینا نہیں ہے۔ درخت جتنا بھی بلند ہوجائے، اس کی زندگی کا راز اس کی جڑوں میں ہوتا ہے۔

قومیں صرف اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے نہیں بنتیں، قومیں اپنے گھروں میں بننے والی ترجیحات سے بنتی ہیں۔ اور بچے کی تربیت اس کے نام سے بھی شروع ہوتی ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اچھا اسلامی نام رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر عربی لفظ کو نام بنا دیا جائے۔ نام کا معنی درست، پاکیزہ اور مناسب ہونا چاہیے۔ محض عربی تلفظ کسی نام کو لازماً اچھا نہیں بنا دیتا۔ اسی طرح صرف اس وجہ سے کسی نام کو اختیار کرنا بھی درست نہیں کہ وہ معاشرے میں مقبول ہوگیا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ نام رکھنے سے پہلے اس کا معنی اور شرعی حیثیت کسی معتبر عالم سے معلوم کرلیں۔

ہمیں اپنے بچوں کے ناموں کے ذریعے انہیں ماضی کا قیدی نہیں بلکہ مستقبل کا وارث بنانا ہے۔

اگر ہمارے بیٹے کا نام "یوسف" ہے تو اسے حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر، پاک دامنی اور عفو و درگزر کی داستان سنائی جائے۔ اگر نام "ابراہیم" ہے تو اسے توحید اور قربانی کا سبق دیا جائے۔ اگر نام "عمر" ہے تو عدل و جرأت کی بات کی جائے۔ اگر نام "عثمان" ہے تو حیا اور سخاوت کا تذکرہ ہو۔ اگر نام "علی" ہے تو علم، شجاعت اور وفاداری کا ذکر ہو۔

اسی طرح ہماری بیٹیوں کے نام بھی محض خوب صورت آوازوں کا انتخاب نہ ہوں؛ ان کے پیچھے حضرت مریم علیہا السلام کی پاکیزگی، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفاداری، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی استقامت کی روشن مثالیں موجود ہوں۔

اصل ضرورت نام بدلنے سے زیادہ نام کے پیچھے شعور پیدا کرنے کی ہے۔

آج اگر ہم نے اپنے بچوں کو ان عظیم شخصیات سے متعارف نہ کرایا تو ممکن ہے کل ان کے پاس بڑے بڑے نام ہوں، مگر ان ناموں سے وابستہ کردار نہ ہوں۔ اور اگر نام صحابہ و صحابیات کے ہوں، مگر زندگی ان کی سیرت سے خالی ہو تو پھر نام بھی صرف ایک لفظ بن کر رہ جائے گا۔

اس لیے اے والدین! جب اللہ تعالیٰ آپ کو اولاد کی نعمت عطا فرمائے تو نام رکھنے کے مرحلے کو محض ایک رسم نہ سمجھیں۔ یہ آپ کے ہاتھ میں دی گئی پہلی تربیتی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ نام ایسا رکھیے جو آپ کے بچے کے لیے دعا بھی ہو، نسبت بھی ہو، شناخت بھی ہو اور ایک خاموش دعوت بھی۔

اپنی اولاد کو ایسے نام دیجیے جنہیں سن کر ان کے دل میں سوال پیدا ہو:
"میرے نام والے عظیم انسان کون تھے؟"

اور جب وہ اس سوال کا جواب تلاش کریں تو انہیں ایک ایسی تاریخ ملے جس میں ایمان ہو، علم ہو، حیا ہو، قربانی ہو، شجاعت ہو اور اللہ و رسول ﷺ سے محبت ہو۔

نام چھوٹا سا لفظ ہے، مگر کبھی کبھی ایک لفظ پوری نسل کا رخ متعین کردیتا ہے۔

اس لیے بچوں کے نام رکھتے وقت صرف یہ نہ سوچیے کہ "لوگوں کو نام کیسا لگے گا؟"

یہ بھی سوچیے کہ "اللہ کے بندوں کی اس عظیم جماعت میں میرا بچہ اپنی نسبت کس سے قائم کرے گا؟"

شاید یہی سوچ ہمارے گھروں میں نام رکھنے کے ذوق کو دوبارہ زندہ کردے، اور ہماری نئی نسل اپنے ناموں کے ذریعے اپنے ایمان، اپنی تہذیب اور اپنے روشن ماضی سے دوبارہ جڑ جائے۔

Contact us.
abzghifariedu@gmail.com