(13)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(بقلم محمودالباری) mahmoodulbari342@gmail.com
_______________۔
: دشمنی کا اصل سبب ایمان ہے، نہ کہ اخلاق کی کمی – جاگو، اپنے ایمان کو سنوارو!
________________
الحمدللہ رب العالمین، والصلاة والسلام على أشرف الأنبیاء والمرسلين، نبينا محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وعلى آله وأصحابه أجمعین۔
اے میرے عزیز اسلامی بھائیو! اے اہلِ ایمان،،
آج کا ہمارا موضوع نہایت حساس، نہایت اہم اور نہایت فکر انگیز ہے. آج اکثر اوقات خطبوں، بیانات یا عمومی گفتگو میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آج دنیا میں مسلمانوں سے دشمنی کی ایک بڑی وجہ ان کا بگڑتا ہوا اخلاق ہے۔ اس بات میں کچھ حد تک سچائی ہے کہ اخلاق انسان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ گہری حقیقت یہ ہے کہ دشمنی کی اصل وجہ مسلمانوں کا ایمان، عقیدہ اور دین ہے۔ دنیا ہمیں گھور کر دیکھ رہی ہے، دشمن ہمیں نشانہ بنا رہا ہے، ہماری نسلوں کو برباد کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ہم سے دشمنی کی وجہ ہمارا بگڑتا ہوا اخلاق ہے! کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا دشمن ہماری بدسلوکی سے ناراض ہے؟ کیا ہمارے بگڑتے ہوئے لباس، کھانے پینے یا رویوں کی وجہ سے ہمیں ستایا جا رہا ہے؟ آئیے! قرآن، حدیث، اور حقائق کی روشنی میں غور کرتے ہیں اور اپنی روح کو جھنجھوڑتے ہیں!
1. قرآن کریم میں دشمنی کی اصل وجہ
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کی شناخت اور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی وجوہات کو بیان فرمایا ہے:
> "الَّذِينَ آمَنُوا وَهاجرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ"
(التوبة: 20
اللہ نے اس آیت میں ایمان والوں کی فضیلت بیان کی، نہ کہ اخلاق کی سطح پر بات کی، بلکہ جاہ و مال و جان سے دین کی خدمت کو سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔
اسی طرح ایک اور آیت میں دشمنوں کی اصلیت کا ذکر ہے:
> "وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا"
(النساء: 141)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کفاروں کی دشمنی کا تعلق ایمان سے ہے، نہ کہ صرف اخلاقی کمزوری سے۔
2. صحابہ کرام کا تاریخی تجربہ
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو کتنا شدید اذیت دی گئی، کیا اس کی وجہ ان کا اخلاق تھا؟ یا ان کا ایمان؟ وہ ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھے اور اس کی سزا میں انہیں جلتی ہوئی ریت پر لٹایا گیا، جسم پر پتھر رکھے گئے، لیکن وہ ثابت قدم رہے۔
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو کس طرح مارا گیا؟ کیا ان کی بداخلاقی اس کی وجہ تھی؟ نہیں! بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے دین اسلام کو قبول کیا تھا۔
حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو بھی سخت اذیتیں دی گئیں، کیا ان کا اخلاق بگڑ گیا تھا نہیں...ہرگز نہیں اسکی وجہ تھی صرف ان کا ایمان لانا .
یہ تمام واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ دشمنی کا اصل سبب ایمان ہے، نہ کہ اخلاقی کمی ۔
3. رسول اللہ ﷺ کی تعلیم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "إنما بُعثت لأتمم مكارم الأخلاق"
(حديث حسن)
سیاست
یعنی: "میں اس لیے مبعوث ہوا ہوں کہ اعلیٰ اخلاق کو مکمل کروں۔"
یہ حدیث اس بات کی گواہ ہے کہ اسلام اخلاق کی اصلاح چاہتا ہے، لیکن دشمنی کا سبب اخلاق کی خرابی نہیں، بلکہ دین سے بغاوت ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث:
> "من قاتلكم فأجِيبوا قاتله"
(صحیح مسلم)
یعنی: "جو تم سے لڑے تم اس کا مقابلہ کرو۔"
یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمنی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مسلمان دین پر قائم رہتا ہے، چاہے اس کا اخلاق کتنا بھی اچھا ہو۔
،، 4،،امام غزالی فرماتے ہیں:
> "دشمنی کا اصل سبب عقیدہ ہے، نہ کہ عادات و اخلاق۔ اگر اخلاق کی خرابی وجہ ہوتی تو اہل اسلام ہمیشہ دشمن رہتے اور کبھی امن نہ ہوتا، لیکن دشمنی اس وقت ہوتی ہے جب دین سے انکار کیا جائے۔"
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
> "لڑائی ایمان کے باعث ہے، نہ کہ آدمی کی کمزوری یا خامی کی وجہ سے۔ ایمان انسان کو حق پر ثابت رکھتا ہے، اور دشمن اس سے نراس ہوتا ہے۔"
5. دشمن کی سازش: اخلاق بگاڑنا
یہ بھی حقیقت ہے کہ دشمن اسلام کو کمزور کرنے کے لیے مسلمانوں کو حرام خور بنانے، فضائل سے دور کرنے، مشروبات، فحاشی اور ناپسندیدہ سرگرمیوں میں دھکیل رہا ہے تاکہ ان کا ایمان کمزور ہو جائے اور وہ دین سے دور ہو کر دشمنی کی اصل وجہ سے دستبردار ہو جائیں۔ لیکن اصل دشمنی تو تب بھی باقی رہتی ہے، کیونکہ ایمان کا تعلق خالص عقیدہ سے ہے۔
6. اخلاق اور ایمان کا تعلق
یقیناً اسلام اخلاق کا پرور ہے اور اچھے اخلاق کو دین کا حصہ سمجھتا ہے، لیکن دشمنی کا سبب اخلاقی کمی نہیں بلکہ دین سے بغاوت ہے۔ اچھا اخلاق ایمان کو مضبوط بناتا ہے، لیکن ایمان کے بغیر اچھا اخلاق دشمنی کو ختم نہیں کرتا۔
اسلام کا مؤقف یہ ہے کہ:
اچھے اخلاق دین کا حصہ ہیں۔
،؛ ایمان دین کا اصل ہے۔
دشمنی ایمان کی وجہ سے ہوتی ہے، نہ کہ اخلاق کی وجہ سے۔
اے مسلمانوں! دشمن چاہتا ہے کہ ہم دین سے دور ہو جائیں، ہمارے ایمان کو کمزور کرے، ہمارے معاشرے کو بے راہ روی میں دھکیل دے!
✔ ہمیں حرام خور بنایا جا رہا ہے
✔ فحاشی کو عام کیا جا رہا ہے
✔ دین سے دور کر کے ہمیں بے ایمان بنانا چاہتا ہے
✔ ہماری نسلوں کو دین سے کٹانا چاہتا ہے
یہ سب دشمن کی سازش ہے تاکہ ہمارا ایمان کمزور ہو اور ہم اس سے دستبردار ہو جائیں!
✅ ایمان کو مضبوط کرو، اخلاق کو دین کی خدمت میں لگاؤ!
✔ قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو
✔ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کو اپناو
✔ صبر، استقامت اور توکل سے کام لو
✔ دشمن کی سازشوں سے ہوشیار رہو
✔ اپنی نسل کو دین کی تعلیم دو
✔ دشمنی کا اصل سبب ایمان ہے، نہ کہ اخلاق کی کمی
✔ قرآن و حدیث اس کی گواہی دیتے ہیں
✔ تاریخ کے صحابہ اس کا عملی ثبوت ہیں
✔ دشمن ہمیں دین سے دور کرنے کے لیے سازشیں کر رہا ہے
✔ ہمیں ایمان کو مضبوط کر کے دشمن کی چالوں کا مقابلہ کرنا ہے!
✔ گناہوں سے بچو،
عبادات کو مضبوط بناؤ!
! جاگو! یہ وقت امتحان کا ہے!
اے مسلمانوں! دشمنی کا سبب ہمارا ایمان ہے، اور ہمارا دین ہمیں ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے! ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو سنواریں، اپنے اخلاق کو دین کی خدمت میں لگائیں، اپنی نسلوں کو دین کی تعلیم دیں، اور دشمن کی سازشوں سے ہوشیار رہیں!
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی روح کو جھنجھوڑیں، اپنی زندگی کو دینی اقدار سے بھر دیں، اپنی نسل کو دین کی روشنی سے منور کریں اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائیں!
اللهم ثبت قلوبنا على دینك، وارزقنا حبك وحب من يحبك،
اللهم اجعلنا من أهل الإيمان والثبات،
واحفظنا من شر الأعداء والمخططات،
واجعلنا من المتقين والصالحين،
وارزقنا حسن الخلق والعمل الصالح،
آمین ثم آمین!