بد گمانی، تجسس اور غیبت
14 اگست، 2026
اسلام محض چند عبادات اور رسوم کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا کامل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے عقیدے سے لے کر اس کے اخلاق، معاملات اور معاشرت تک ہر شعبۂ زندگی کی اصلاح کرتا ہے۔ اسلامی معاشرے کی بنیاد ایمان، اخوت، محبت، حسنِ ظن، باہمی احترام اور حقوق العباد کی پاسداری پر قائم ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے ان رویّوں سے سختی سے منع فرمایا ہے جو دلوں میں کدورت پیدا کرتے، رشتوں میں دراڑیں ڈالتے اور معاشرے کی شیرازہ بندی کو پارہ پارہ کرتے ہیں۔ بدگمانی، تجسس، عیب جوئی، غیبت، بہتان، چغلی اور بدزبانی بظاہر زبان یا رویّے کی معمولی لغزشیں دکھائی دیتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ وہ زہریلے بیج ہیں جن سے نفرت، عداوت، قطع رحمی، باہمی بداعتمادی اور معاشرتی فساد کی فصل تیار ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف قرآنِ کریم نے سورۃ الحجرات کی آیتِ مبارکہ میں نہایت جامع اور مؤثر انداز میں رہنمائی فرمائی۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ ۖ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کے عیوب کی ٹوہ میں نہ لگو، اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اسے ناپسند کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ غور کیجیے! اس ایک آیت میں انسانی معاشرت کے ایک پورے اخلاقی نظام کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ برائی کے اس سلسلے کی ابتدا اکثر دل سے ہوتی ہے؛ دل میں کسی کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے، بدگمانی انسان کو حقیقت جاننے کے نام پر تجسس کی طرف لے جاتی ہے، تجسس سے کسی کا عیب معلوم ہوتا ہے، پھر وہ عیب زبان کی زینت بنتا ہے، زبان سے غیبت نکلتی ہے، غیبت سے چغلی اور بہتان جنم لیتے ہیں، اور آخرکار وہی باتیں دلوں میں نفرت، رنجش اور دشمنی کی دیواریں کھڑی کردیتی ہیں۔ اسلام نے اسی لیے فساد کی آخری شاخ کاٹنے سے پہلے اس کی جڑ پر ضرب لگائی اور فرمایا۔ اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ، یعنی بہت سے گمانوں سے بچو۔ گمان انسانی طبیعت کا ایک فطری میلان ہے، لیکن جب انسان بغیر دلیل کسی کے بارے میں بدترین رائے قائم کرلے تو یہی گمان گناہ بن جاتا ہے۔ کسی کی خاموشی کو تکبر سمجھ لینا، کسی کی غیرحاضری کو بے وفائی قرار دینا، کسی کے ایک جملے کو دشمنی پر محمول کرنا یا کسی کی ایک لغزش سے اس کے پورے کردار کا فیصلہ کر دینا اسلامی مزاج نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس خطرناک روش سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا۔ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔ قرآنِ کریم بھی فرماتا ہے وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا۔ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں، وہ تو صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں، اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ اس لیے اہلِ ایمان کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنے بھائی کے بارے میں حسنِ ظن رکھیں، اس کی بات کا اچھا مفہوم تلاش کریں اور کسی معاملے میں فیصلہ کرنے سے پہلے حقیقت اور پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بدگمانی کے بعد اگلا مرحلہ تجسس ہے۔ انسان جب دل میں کسی کے بارے میں منفی تصور قائم کرلیتا ہے تو پھر وہ اس تصور کو ثابت کرنے کے لیے اس کے پوشیدہ معاملات تلاش کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس دروازے کو بھی بند کرتے ہوئے فرمایا وَلَا تَجَسَّسُوا، ایک دوسرے کے عیوب کی ٹوہ میں نہ لگو۔ کسی کے پردۂ زندگی کو چاک کرنا، اس کے نجی معاملات کھوجنا، اس کی پوشیدہ لغزشوں کو تلاش کرنا اور پھر انہیں لوگوں کے سامنے لانا مسلمان کا شیوہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا، ایک دوسرے کے حالات کی ٹوہ نہ لگاؤ، تجسس نہ کرو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔ افسوس کہ آج انسان اپنے عیوب سے غافل اور دوسروں کے عیوب سے باخبر رہنے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتا ہے۔ اپنی کمزوریوں پر پردہ چاہتا ہے، مگر دوسروں کی لغزشوں کو نمایاں کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ حالاں کہ دانا انسان وہ ہے جو دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔ جب تجسس کے ذریعے کسی مسلمان کا عیب معلوم ہوجائے تو اس کے بعد ایک اور خطرناک دروازہ کھلتا ہے، اور وہ ہے غیبت۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ قرآنِ کریم نے غیبت کی قباحت سمجھانے کے لیے جو مثال بیان فرمائی، شاید انسانی احساسات کے لیے اس سے زیادہ لرزہ خیز مثال ممکن نہ تھی أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اسے ناپسند کرتے ہو۔ غور کیجیے کہ غیبت کرنے والا اپنے ایک زندہ مسلمان بھائی کی عزت پر حملہ کرتا ہے، مگر قرآن اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دیتا ہے؛ کیونکہ جس شخص کی غیبت کی جارہی ہے وہ موجود نہیں ہوتا کہ اپنا دفاع کرسکے، جیسے مردہ اپنے دفاع سے عاجز ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے غیبت کی حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ صحابہؓ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا۔ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ، تمہارا اپنے بھائی کا اس چیز کے ساتھ ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے، غیبت ہے۔ عرض کیا گیا: اگر وہ بات واقعی میرے بھائی میں موجود ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ، اگر وہ بات اس میں موجود ہے جو تم کہتے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ بات اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ اس فرمانِ نبوی ﷺ نے غیبت اور بہتان دونوں کی حقیقت واضح کردی؛ سچی برائی بیان کرنا غیبت ہے اور جھوٹی برائی بیان کرنا بہتان۔ لہٰذا یہ عذر بالکل بے معنی ہے کہ میں نے تو سچی بات کہی تھی؛ کیونکہ سچی بات اگر کسی مسلمان کی عدم موجودگی میں اس کی ناپسندیدہ صفت کے طور پر بیان کی گئی ہے تو وہ غیبت ہی ہے۔ اسی طرح قرآنِ کریم نے طعن، عیب جوئی اور برے القاب سے پکارنے سے منع فرمایا وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ۔ ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ زبان کا یہ زخم کبھی جسم کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے؛ جسم کا زخم وقت کے ساتھ مندمل ہوسکتا ہے، مگر زبان سے نکلا ہوا طعنہ کبھی کبھی پوری زندگی دل میں کانٹے کی طرح چبھتا رہتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے فرمایا وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ، ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو طعنہ زنی اور عیب جوئی کرنے والا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ، جو بہت طعنہ دینے والا اور چغلیاں لے کر پھرنے والا ہے۔ چغلی دراصل معاشرتی امن کے خلاف ایک خطرناک جرم ہے؛ ایک شخص کی بات دوسرے تک اس انداز میں پہنچانا کہ دلوں میں نفرت پیدا ہو، رشتے ٹوٹیں اور باہمی اعتماد ختم ہو، نمیمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ، چغلی کھانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ زبان کی اس تباہ کن طاقت کے پیش نظر اسلام نے خاموشی کو بھی عبادت کا درجہ دیا، اگر بولنے سے خیر نہ نکل رہی ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ قرآنِ کریم انسان کو زبان کی جواب دہی کا احساس دلاتے ہوئے فرماتا ہے۔ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ، انسان کوئی لفظ بھی منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگران فرشتہ موجود ہوتا ہے۔ لہٰذا زبان بے لگام نہیں؛ اس کا ہر لفظ محفوظ ہورہا ہے، ہر جملہ لکھا جارہا ہے اور قیامت کے دن ہر بات کا حساب ہوگا۔ اسلام کا مطلوب صرف یہ نہیں کہ مسلمان بری بات نہ کہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی زبان خیر، محبت، اصلاح اور بھلائی کی ترجمان بنے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا لوگوں سے اچھی بات کہو۔ یہ مختصر سا حکم معاشرتی زندگی کا ایک عظیم اصول ہے: لہجہ نرم ہو، الفاظ پاکیزہ ہوں، گفتگو باوقار ہو اور اختلاف کے باوجود عزتِ انسانیت محفوظ رہے۔ قرآنِ کریم نے مسلمانوں کے باہمی تعلق کو خون، نسل، زبان اور علاقے سے نہیں بلکہ ایمان کے رشتے سے وابستہ کرتے ہوئے فرمایا إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ، مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ جب ایک مسلمان دوسرے کو اپنا بھائی سمجھے گا تو اس کی عزت کو اپنی عزت، اس کا دکھ اپنا دکھ اور اس کی آبرو کو اپنی آبرو سمجھے گا۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ اسلام جہاں عیب اچھالنے سے روکتا ہے، وہیں عیب چھپانے کی ترغیب دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کے عیب چھپائے گا۔ اس تعلیم میں معاشرتی اصلاح کا ایک نہایت حسین اصول پوشیدہ ہے: عیب کو بازار میں نہ لاؤ، بلکہ حکمت، خیر خواہی اور تنہائی میں اصلاح کی کوشش کرو۔ کسی کی لغزش کو مشہور کرنا اصلاح نہیں، اکثر اوقات فساد کو جنم دینا ہے۔ اسی طرح قرآنِ کریم نے اہلِ ایمان میں برائی اور بے حیائی کی تشہیر کو بھی سخت وعید کا سبب قرار دیا إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔ بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ آج کے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے دور میں اس آیت کی معنویت اور بھی نمایاں ہوگئی ہے؛ کیونکہ پہلے غیبت چند افراد کے درمیان ہوتی تھی، آج ایک پیغام، ایک تصویر، ایک آڈیو، ایک ویڈیو یا ایک تبصرہ چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ کسی کی نجی بات بلااجازت نشر کرنا، کسی کی کمزوری کو مذاق بنانا، غیرمصدقہ خبر کو آگے بڑھانا، کسی کے خلاف پوسٹ یا تبصرہ کرنا، یا کسی مسلمان کی عزت کو مجروح کرنے والی گفتگو میں شریک ہونا، زبان کی غیبت کو انگلیوں کی غیبت میں تبدیل کرسکتا ہے۔ اس لیے اہلِ ایمان کو صرف اپنی زبان ہی نہیں بلکہ اپنی انگلیوں، اپنے موبائل اور اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔ معاشرتی فساد کا ایک اور بڑا سبب باہمی حسد، بغض اور قطع تعلقی ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ بدگمانی دل کو سیاہ کرتی ہے، تجسس نگاہ کو دوسروں کے عیبوں کا اسیر بناتا ہے، غیبت زبان کو گناہ کا عادی بناتی ہے، چغلی رشتوں کو توڑتی ہے، بہتان عزت کو پامال کرتا ہے اور حسد انسان کو دوسرے کی نعمت سے بے چین رکھتا ہے؛ جبکہ حسنِ ظن دل کو سکون دیتا ہے، سترِ عیوب معاشرے میں اعتماد پیدا کرتا ہے، خیر خواہی محبت بڑھاتی ہے، خاموشی انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے اور اخوت معاشرے کو مضبوط بناتی ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے پہلے اپنے عیب تلاش کرے، دوسروں کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرے، کوئی بات سن کر اسے فوراً قبول کرنے کے بجائے تحقیق کرے، کسی کی لغزش معلوم ہوجائے تو اسے اچھالنے کے بجائے پردہ ڈالے، کسی کی برائی سنائی جائے تو اسے آگے بڑھانے کے بجائے وہیں روک دے، اور اگر اصلاح ضروری ہو تو محبت، حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ کرے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر انسان خطا کا پتلا ہے؛ آج جس شخص کی لغزش پر ہم مسکرا رہے ہیں، ممکن ہے کل ہم خود اسی آزمائش میں مبتلا ہوجائیں۔ اس لیے دوسروں کی لغزشوں پر زبان دراز کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے فضل کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمارے عیوب پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ اگر معاشرے کا ہر فرد اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ کیا میں یہ بات اپنے بارے میں سننا پسند کروں گا؟ کیا میں چاہوں گا کہ میری غیر موجودگی میں میرے بارے میں ایسی گفتگو ہو؟ کیا میں قیامت کے دن اس لفظ کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں؟ تو بہت سی زبانیں خاموش ہوجائیں، بہت سے دل صاف ہوجائیں اور بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں۔ آخرکار قرآنِ کریم نے اس پوری اخلاقی تعلیم کو ایک عظیم روحانی اصول پر ختم فرمایا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ یعنی انسان سے لغزش ہوجائے تو دروازۂ توبہ بند نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ بدگمانی سے حسنِ ظن کی طرف، تجسس سے پردہ پوشی کی طرف، غیبت سے خاموشی کی طرف، بہتان سے صدق کی طرف، چغلی سے اصلاح کی طرف اور نفرت سے محبت و اخوت کی طرف واپس آجائے۔ یہی قرآن کا اخلاقی پیغام ہے، یہی سنتِ نبوی ﷺ کی تعلیم ہے اور یہی ایک پاکیزہ، مہذب، متحد اور پُرامن اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔