{بارانِ رحمت اور ہماری ذمہ داری }
فصل باراں خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، اس نعمت عظمیٰ سے انسان، حیوان اور نباتات؛ بل کہ پوری کائنات یکساں طور پر فیض یاب ہوتی ہے، جب گرمی اپنے عروج پر پہنچتی ہے، لوگ سخت حبس اور تپش سے بے حال ہو رہے ہوتے ہیں، زمین خشک ہوجاتی ہے، درختوں کے پتے مرجھانے لگتے ہیں، دیہاتوں کے نل اور کنویں خشک ہوجاتے ہیں اور شہروں کے اندر آلودگی ( pollution) میں اضافہ ہو جاتا ہے تو لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور بارش کی دعا کے لیے متوجہ ہوتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں بچوں کی ایک خوب صورت روایت بھی دیکھنے میں آتی ہے، وہ گاؤں کی گلیوں میں گھوم کر گھروں سے اناج ( گیہوں، چاول) اور روپے پیسے جمع کرتے ہیں اور یہ نعرہ لگاتے ہوئے گھروں پر دستک دیتے ہیں
" برسے گا برسائے گا کوڑی ڈھیر لگائے گا کوڑی گئی ریت میں پانی گیا کھیت میں"
جمع شدہ رقم سے کبھی وہ اپنے لیے کھانے کی کوئی چیز خرید لیتے ہیں یا پھر کسی غریب کی مدد کر دیتے ہیں۔ ان کے اس عمل میں جو اخلاص ہوتا، اللہ تعالیٰ ان کے اس اخلاص، معصوم چہروں اور ننھے ننھے ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھتا دیکھ کر، ہاتھوں کو خالی نہیں لوٹاتا؛ بل کہ اپنے فضل و کرم سے آسمان سے موسلا دھار بارش کا نزول کردیتاہے، جس کو دیکھ کر ہر اک فرد بشر کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا ہے ۔
برسات میں موسلہ دھار بارش اپنے ساتھ نئی زندگی اور تازگی لے کر آتی ہے ۔
بارش کی پہلی بوند جب گرتی ہے تو اس کے ساتھ بچوں کی خوشیاں اور کسانوں کی آس و امید وابستہ ہوتی ہے، بارش کا نزول ان کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتا ہے، کھیت سرسبز و شاداب ہو جاتے ہیں، درختوں پر لگے پھل خاص طور پر آموں کی مٹھاس میں اضافہ ہو جاتا ہے،
خشک شاخیں پھر سے ہریالی اوڑھ لیتی ہیں، گلاب کانٹوں کے درمیان سے اپنا مکھڑا ظاہر کردیتا ہے اور زمین خود رو گھاس سے لہلہا اٹھتی ہے؛ غرض یہ کہ تمام مخلوقات جان دار اور بے جان مظاہر فطرت بھی خوب خوب لطف اندوز ہوتے ہیں؛ حتیٰ کہ کیڑے مکوڑے سانپ اور بچھو بھی اپنے اپنے بلوں سے باہر آجاتے ہیں، کھیتوں کے کنارے پانی کے گڑے میں مینڈکوں کی ٹر ٹر اور پرندوں کی چہچہاہٹ ماحول کو مزید دلکش بنادیتی ہے دیتی ہے ؛ اسی لیے شعراء خدا کے اس بیش بہار موسم کو اپنے اشعار کا حصہ بناتے ہیں ۔
بارش کے موسم میں پہاڑوں کا نظارہ بھی قابل دید ہوتا ہے ۔ خشک پہاڑ ہریالی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں، آبشاروں کی روانی میں اضافہ ہو جاتا ہے ، پہاڑوں سے اٹھتے بادل قدرت کا ایک کرشمہ ثابت ہوتے ہیں۔
بارش کے بعد بادلوں کی سفید دھند جب چہرے سے ٹکراتی ہے تو ایک عجیب خوشی دل کے اندر جنم لیتی ہے، یہ ایسا دل نشین احساس ہوتا ہے جس کو الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا ہے ۔
بعض لوگ ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے پہاڑوں اور وادیوں کا رخ کرتے ہیں، مختلف ہل اسٹیشنوں پر قیام کرتے ہیں اور اپنا کیمپ لگا کر کچھ دن یہاں بتاتے ہیں اور قدرتی حسین مناظر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر نعمت میں اعتدال رکھا ہے، اور انسان کو بھی ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ہے:
"وكذلك جعلناكم أمّة وسطا"
یعنی: "اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل (درمیانی) امت بنایا۔"
بارش اگر اعتدال کے ساتھ ہو تو رحمت ہے؛ لیکن جب حد سے بڑھ جائے تو یہی رحمت زحمت بن جاتی ہے۔ شدید بارش سے مضبوط عمارتیں بھی منہدم ہو سکتی ہیں، نشیبی علاقوں میں سیلاب آ جاتے ہیں، کھیت تباہ ہو جاتے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں چٹانوں کے کھسکنے (لینڈ سلائیڈ) کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
بارش کے زیادہ ہونے کے باعث سب سے زیادہ غرباء کے مکانات متاثر ہوتے ہیں، تیز بارش سے کچے مکانات کی چھتیں ٹپکنے لگتی ہیں دیواریں منہدم ہوجاتی ہیں اور گھروں کے اندر پانی بھر جاتا ہے؛ چناں چہ اس صورت حال میں ان غرباء کی مدد کرنا ہمارا بنیادی فریضہ ہے، صاف ستھرا ماحول تازہ ہوا کے لیے درخت لگانا، گلی، محلوں، سڑکوں اور نالیوں کو گندگی سے صاف رکھنا ہماری ایک اہم ذمہ داری بھی ہے اور ایک ذمہ دار شہری اور اچھے مسلمان کی پہچان بھی ہے ۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے بارش کے وقت ایسی دعا سکھائی جس میں نفع بخش اور نقصان سے محفوظ بارش کی درخواست کی گئی ہے
اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا مَرِيعًا، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ.
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رحمت کی ایسی بارش عطا فرمائے جو ہمارے لیے خیر، برکت، سرسبزی اور خوش حالی کا ذریعہ بنے اور ہر قسم کی آفات و مصائب سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین۔
محمد توفیق قاسمی۔
٢٩/صفر المظفر ١٤٤٨ھ بہ مطابق13/اگست 2026ء