بابری مسجد کی انہدام
✍🏻خامہ بکف محمد عادل ارریاوی
---------------------------------------------------
مثل مشہور ہے کہ آنسو پونچھنے کے لئے بھی ایک رومال اور ایک پونچھنے والے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ حادثے کی فراموشی کا عمل آسانی سے ہو سکے اور فریقین کی توجہ کسی دوسری طرف مبذول ہو جائے اور یہاں تو یہ عمل اب عام ہو چلا ہے کہ
روز جلتے رہے آشیاں
روز تحقیق ہوتی رہی
بابری مسجد خدا کا گھر بندوں کی عبادت گاہ عجز و نیاز کا مسکن خدا سے بے خوف لوگوں کے ذریعہ شہید کر دی گئی 6 دسمبر 1992ء وہ منحوس دن ہے جس دن شیطان کے بندے اپنے اس عمل پر خوشیاں منا رہے تھے یہ دن ہندو مذہب کے عقیدت مندوں کی جواہنسا پرمو دھرم کے ماننے والوں کے لئے تکلیف کا دن تھا ہندو مذہب کی تشدد پسندی کا یہ مظاہرہ سراسر ہندو مذہب کی تعلیمات کے منافی تھا۔ مگر
بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت
نہیں کام آتی دلیل اور حجت
یہ سب حکومت ہند کے ذمہ داران حکومت اتر پردیش کی ایماء اور منصوبے کے تحت ہوا اور اس نے ہندو مذہب کی روایات کو پامال کر دیا۔
ہماری زندگی میں جب جب 6 دسمبر آئے گا ہم صرف کفِ افسوس کرتے رہیں گے کہ ہم سے بابری مسجد چھن گئی کوئی آپ سے ایک چپہ زمین چھن لے تو لڑنے مرنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں مسلمانوں ہماری غیرت کہاں مرچکی ہے؟ ہم سے ظالموں نے بابری مسجد چھن لی ہم کیسے خاموش بیٹھ سکتے ہیں؟ آج ایک مسجد چھن لی کل ہماری دوسری مسجدوں پہ حملہ آور ہوں گے مسلمانوں اگر اب بھی نہ جاگے تو یاد رکھنا ایک ایک کرکے ساری مسجدیں ہم سے چھن لی جائے گی ہم دیکھتے ہی رہ جائیں گے اللہ ربّ العزت تمام مسلمانوں کو ہمت و حوصلہ عطافرماۓ آمین یارب العالمین ۔۔