مکرمی!
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
کبھی کبھی انسان زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش میں اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس زندگی کی تلاش میں وہ دوڑ رہا تھا، وہ تو کہیں راستے ہی میں چھوٹ گئی۔
زندگی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم اس مقام تک پہنچ گئے، جہاں زندگی ہی ختم ہوگئی۔
ذرا ٹھہریے!
ایک لمحے کے لیے اس تیز رفتار سفر کو روکیے، سانس لیجیے اور اپنے دل سے پوچھیے:
ہم آخر کس چیز کی تلاش میں اتنی تیزی سے دوڑ رہے ہیں؟
صبح آنکھ کھلتے ہی ایک نئی دوڑ شروع ہوجاتی ہے؛ بہتر گھر، مہنگی گاڑی، زیادہ مال، بلند عہدہ، شہرت، آسائش، لوگوں سے آگے نکلنے کی خواہش۔۔۔ اور پھر ان خواہشات کے پیچھے ایک اور خواہش۔
یوں انسان اپنی پوری عمر زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش میں زندگی گزارنا ہی بھول جاتا ہے۔
ہم کہاں جا رہے ہیں؟
خصوصاً آج کا نوجوان اس دوڑ کا سب سے بڑا مسافر ہے۔ اس کے سامنے خواب بہت ہیں، خواہشات بے شمار ہیں اور منزلیں مسلسل بدل رہی ہیں۔
ایک دوست کے پاس کچھ ہے تو اسے اس سے زیادہ چاہیے۔
دوسرے کے پاس کچھ نیا ہے تو اسے بھی وہی حاصل کرنا ہے۔
کسی کی کامیابی اسے اپنی ناکامی محسوس ہوتی ہے، اور کسی کی خوش حالی اسے اپنی محرومی دکھائی دیتی ہے۔
پھر سوشل میڈیا نے اس مقابلے کو اور بھی شدید کردیا ہے۔
ہم دوسروں کی زندگی کے چند خوبصورت لمحے دیکھ کر اپنی پوری زندگی کو کمتر سمجھنے لگے ہیں۔ ہمیں کسی کی کامیابی نظر آتی ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی محنت نہیں؛ کسی کی آسائش نظر آتی ہے، مگر اس کی آزمائش نہیں؛ کسی کی مسکراہٹ نظر آتی ہے، مگر اس کے آنسو نہیں۔
ہم دوسروں کی زندگی کا منظر دیکھ کر اپنی پوری زندگی کا فیصلہ کرنے لگے ہیں۔
یہ کیسی دوڑ ہے جس میں منزل ملنے کے بعد بھی دل مطمئن نہیں ہوتا؟
کامیابی یا بے سکونی؟
ہم ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ایسی ہوڑ میں مبتلا ہیں کہ ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اصل کامیابی کس چیز کا نام ہے۔
ہم نے سکون کو آسائشوں میں تلاش کیا،
خوشی کو دولت میں،
عزت کو شہرت میں،
اور کامیابی کو لوگوں سے آگے نکل جانے میں سمجھ لیا۔
مگر جب بہت کچھ حاصل کرلیا تو معلوم ہوا کہ دل کے اندر وہی خالی پن ہے، وہی بے چینی ہے، وہی اضطراب ہے۔
چیزیں بڑھتی گئیں، مگر سکون کم ہوتا گیا۔
رابطے بڑھتے گئے، مگر اپنائیت کم ہوتی گئی۔
آمدنی بڑھتی گئی، مگر فرصت کم ہوتی گئی۔
ہم نے زندگی کہاں کھو دی؟
ہم نے اپنے بچوں کو کامیاب بنانے کے لیے ان کا بچپن چھین لیا۔
نوجوانوں نے مستقبل بنانے کے لیے اپنا حال قربان کردیا۔
اور بڑوں نے دولت جمع کرنے کے لیے اپنے دن رات گنوا دیے۔
گھر بڑے ہوگئے، مگر گفتگو چھوٹی ہوگئی۔
وسائل بڑھ گئے، مگر اطمینان کم ہوگیا۔
رابطے ہزاروں سے ہوگئے، مگر دل کی بات سننے والا شاید ایک بھی نہ رہا۔
ہم زندگی جیتنے نکلے تھے،
مگر زندگی سے ہی ہار گئے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ انسان چند لمحوں کے سکون کے لیے پوری زندگی کی بے سکونی خرید لیتا ہے۔
کل کے لیے آج قربان کرتا ہے، پھر جب کل آتا ہے تو اگلے کل کے لیے آج قربان کردیتا ہے۔
یوں پوری زندگی ’’کبھی‘‘ کے انتظار میں گزر جاتی ہے۔
کبھی سوچا ہے؟
وہ دن کب آئے گا جب ہم کہیں گے:
اب کافی ہے!
اب مجھے ہر شخص سے آگے نہیں نکلنا۔
اب مجھے ہر چیز حاصل نہیں کرنی۔
اب مجھے دوسروں کی زندگی سے اپنی زندگی کا موازنہ نہیں کرنا۔
اب مجھے کچھ دیر اپنے رب کے سامنے بیٹھنا ہے۔
اپنے دل کو سننا ہے۔
اپنے وجود کو سمجھنا ہے۔
اور اپنے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ میں جس راستے پر چل رہا ہوں، کیا واقعی یہی میری منزل ہے؟
اے نوجوانانِ قوم!
تمہاری جوانی صرف دنیا بنانے کے لیے نہیں، اپنا کردار بنانے کے لیے بھی ہے۔
تمہاری صلاحیتیں صرف دولت کمانے کے لیے نہیں، بلکہ حق کو پہچاننے، علم حاصل کرنے، انسانیت کی خدمت کرنے اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے بھی ہیں۔
خواہش رکھو، مگر خواہشوں کے غلام نہ بنو۔
کامیابی حاصل کرو، مگر کامیابی کو اپنی پہچان نہ بناؤ۔
دولت کماؤ، مگر دولت کو اپنے دل میں گھر نہ کرنے دو۔
آگے بڑھو، مگر اس قدر نہیں کہ اپنے رب سے، اپنے گھر والوں سے اور اپنے اصل مقصدِ زندگی سے پیچھے رہ جاؤ۔
دنیا تمہاری ضرورت ہوسکتی ہے،
مگر تمہاری منزل نہیں۔
ذرا ٹھہرو!
زندگی بہت مختصر ہے۔
اسے دوسروں سے مقابلہ کرتے ہوئے ضائع نہ کردو۔
ہر شخص کی منزل الگ ہے۔
ہر انسان کا سفر الگ ہے۔
ہر شخص کی آزمائش الگ ہے۔
اور ہر زندگی کا حساب الگ ہے۔
اس لیے کبھی اپنے دل سے پوچھو:
میں کہاں جا رہا ہوں؟
کس کے لیے دوڑ رہا ہوں؟
اور اگر یہ سب حاصل ہوگیا تو کیا واقعی مجھے سکون مل جائے گا؟
شاید ان سوالات کا جواب ہماری پوری زندگی کا رخ بدل دے۔
کیونکہ زندگی کا حسن ہر چیز حاصل کرلینے میں نہیں، بلکہ جو کچھ ملا ہے اسے شکر، قناعت، سکون اور صحیح مقصد کے ساتھ جینے میں ہے۔
زندگی صرف یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنا ہے؛
زندگی یہ بھی ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، اسے ہم کس طرح جیتے ہیں۔
کبھی اپنے مصروف دنوں میں چند لمحے اپنے والدین کے لیے نکالیے۔
کبھی اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سنیے۔
کبھی کسی ضرورت مند کے چہرے پر مسکراہٹ لائیے۔
کبھی کتاب کھولیے۔
کبھی تنہائی میں اپنے رب کو یاد کیجیے۔
اور کبھی بغیر کسی مقصد کے آسمان کو دیکھیے؛ شاید آپ کو احساس ہو کہ دنیا کی اس بے انتہا دوڑ میں آپ کا دل کب سے آرام کا منتظر تھا۔
زندگی صرف حاصل کرنے کا نام نہیں، محسوس کرنے کا نام بھی ہے۔
اس لیے دوڑو ضرور، مگر یہ جان کر کہ کہاں جانا ہے۔
کوشش کرو، مگر یہ نہ بھولو کہ تم انسان ہو، مشین نہیں۔
دولت کماؤ، مگر دل کا سکون مت بیچو۔
مقام حاصل کرو، مگر اپنے اصول مت کھوؤ۔
دنیا سنوارو، مگر آخرت نہ بھولو۔
ورنہ ممکن ہے ہم زندگی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے واقعی اس مقام تک پہنچ جائیں، جہاں پلٹ کر دیکھیں تو احساس ہو کہ:
جس زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہم اتنی دور تک آئے تھے،
وہ زندگی تو راستے ہی میں کہیں ختم ہوگئی۔
پس کبھی کبھی دوڑنے سے زیادہ ضروری ہے۔۔۔
ٹھہر جانا۔
کبھی کبھی آگے بڑھنے سے زیادہ ضروری ہے۔۔۔
پلٹ کر دیکھ لینا۔
اور کبھی کبھی زندگی بدلنے سے زیادہ ضروری ہے۔۔۔
زندگی کو محسوس کرلینا۔
کیونکہ زندگی دوبارہ نہیں ملتی؛
یہ صرف ایک بار ملتی ہے،
اسے صرف گزارنا نہیں،
بلکہ صحیح مقصد کے ساتھ جینا ہے۔