زندگی میں ایک ایسا استاد بھی گزرتا ہے جو درس و تدریس کے لیے نہ کسی کتاب کا سہارا لیتا ہے، نہ کسی بورڈ کا۔

اس کی تعلیم کا نہ کوئی مقررہ وقت ہوتا ہے اور نہ کوئی باضابطہ نصاب۔ اس کے الفاظ بھی کسی لیکچر کی طرح بناوٹی نہیں ہوتے؛ وہ کبھی ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں، کبھی خاموش رویّوں سے اور کبھی اپنے عمل کے ذریعے ہمیں زندگی کے ایسے اسباق سکھاتا ہے جن کے لیے نہ کسی اسکول یا یونیورسٹی کی عمارت درکار ہوتی ہے، نہ کسی کلاس، نصاب یا امتحان کی۔

کبھی وہ دسترخوان پر دو جملے کہہ کر ہمیں زندگی کا کوئی ہنر سکھا رہا ہوتا ہے، تو کبھی چائے کی پیالی ہاتھ میں لیے اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا نچوڑ ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ مگر آج کا نوجوان، جو اکثر گوگل، سوشل میڈیا اور ڈگریوں ہی کو علم و دانش کا معیار سمجھ بیٹھا ہے، ان قیمتی تجربات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

ذمہ داریوں سے بے فکر، ہم بہن بھائی جب والد کے سایۂ شفقت میں ہوتے ہیں تو ہماری سوچ عموماً تین مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔

پہلا مرحلہ — بچپن


اس دور میں والد ہمارے ہیرو ہوتے ہیں۔ ان کی ہر بات ہمیں درست لگتی ہے اور ان کا ہر فیصلہ بہترین محسوس ہوتا ہے۔

لیکن جیسے جیسے شعور پروان چڑھتا ہے، ہمیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید وہ ہمیں سمجھتے ہی نہیں، اور بلاوجہ سختی کرتے ہیں۔

دوسرا مرحلہ — جوشِ شباب

پھر جوانی آتی ہے۔ ہاتھ میں ڈگری آ جاتی ہے، چند کتابیں پڑھ لیتے ہیں اور دنیا کو سمجھنے کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں تو ہمیں اپنے ہی والد پرانے خیالات کے حامل دکھائی دینے لگتے ہیں۔

ہم ان کے برسوں کے تجربے، حکمت اور بصیرت کو محض ایک پرانا لیکچر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ ہم نئی دنیا کو ان سے بہتر سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ زندگی کے کئی ایسے موڑ دیکھ چکے ہوتے ہیں جن کا ہمیں ابھی سامنا بھی نہیں ہوا ہوتا۔

تیسرا مرحلہ — حقیقت کا سامنا

پھر زندگی کا وہ موڑ آتا ہے جہاں نہ گوگل سرچ کام آتی ہے، نہ ڈگری، نہ جدید ٹیکنالوجی۔

جب عملی زندگی کے چیلنجز، معاشی دباؤ اور ذمہ داریوں کا بوجھ کندھوں پر آ پڑتا ہے تو عقل ٹھکانے آتی ہے۔ تب دل و دماغ بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے:

اگر آج میرے والد اس مقام پر ہوتے تو کیا کرتے؟
وہ اتنے بڑے مسائل کے باوجود اتنے ثابت قدم کیسے رہتے تھے؟

تب احساس ہوتا ہے کہ شاید زندگی کے انہی کٹھن امتحانات کے لیے وہ خاموشی سے ہماری تربیت کر رہے تھے، اور ہم اپنی کم فہمی میں ان کے قیمتی اسباق کو فرسودہ اور بے کار سمجھتے رہے۔

ہمیں اکثر والد کی نصیحتیں تو سنائی دیتی ہیں، مگر ان کی خاموش قربانیاں دکھائی نہیں دیتیں۔

وہ اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر ہماری ضروریات پوری کرتے ہیں، ہماری ناکامیوں پر ہمیں سنبھالتے ہیں، ہماری کامیابیوں پر دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں اور اپنی پریشانیاں اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں، تاکہ ہمارے چہروں کی مسکراہٹ برقرار رہے۔

شاید اسی لیے ان کے الفاظ میں وہ وزن ہوتا ہے جو صرف عمر سے نہیں، بلکہ تجربے، قربانی اور بے لوث محبت سے پیدا ہوتا ہے۔

افسوس یہ ہے کہ والد کی بہت سی باتوں کی قدر ہمیں اُس وقت سمجھ آتی ہے جب زندگی ہمیں انہی راستوں پر لا کھڑا کرتی ہے جن سے وہ برسوں پہلے گزر چکے ہوتے ہیں۔

خوش نصیب ہیں وہ نوجوان جو اپنے والد کی موجودگی ہی میں ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں، ان کی نصیحتوں کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ سمجھتے ہیں، اور ان کی خاموش قربانیوں کو محسوس کرنا سیکھ لیتے ہیں۔

کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد صرف یادیں رہ جاتی ہیں، کچھ ادھورے سوال رہ جاتے ہیں، اور دل میں یہ خواہش رہ جاتی ہے:


کاش! اُس وقت ہم نے ان کی بات غور سے سنی ہوتی۔۔۔


مگر ہر سوال کا جواب دینے والا والد ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہتا۔

از قلم: زا۔شیخ