✍🏻*محمد منصار ارریاوی*

08 اگست 2026ء

_________________________________
​اللہ تعالیٰ نے کائنات میں انسان کو جن نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں قلم ایک ایسی عظیم اور بنیادی نعمت ہے جس کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ قلم انسان کی فکری، علمی اور تاریخی ترقی کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر آج تک کا جتنا بھی علمی سرمایہ، تہذیبی ورثہ اور تاریخی ریکارڈ محفوظ ہے، وہ سب اسی قلم کی بدولت ہے۔
​قرآن کریم کی سب سے پہلی وحی جس میں اللہ رب العزت نے لفظ "اقرأ" میں پڑھنے کے ساتھ ہی " علم بالقلم" سے تعلیم بالقلم کی طرف ذہن کو متوجہ کیا۔ دوسری جگہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
​ن ۚ والقلم وما یسطرون" (سورہ القلم)
ترجمہ: "نون۔ قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جو وہ لکھ رہے ہیں۔"
​اللہ رب العزت کا قلم کے بارے میں قسم کھانا اس بات کی دلیل ہے کہ قلم کے ذریعے علم کا فروغ اور خیالات کی ترسیل اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنی اہم اور مقدس ہے۔
​تلوار کی کاٹ وقتی ہوتی ہے لیکن قلم کی طاقت دائمی ہوتی ہے۔ تلوار صرف جسموں کو زیر اور قابو کرتی ہے جبکہ قلم دلوں اور دماغوں کو فتح کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں مٹ گئیں، بادشاہ اور حکمران مٹی میں مل گئے، لیکن فلسفیوں، مفکروں، شاعروں اور سائنسدانوں کے قلم سے نکلی ہوئی تحریریں آج بھی زندہ و جاوید ہیں۔ قلم نے انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا۔ اگر قلم نہ ہوتا تو ماضی کا علم حال تک نہ پہنچتا اور نسلیں اپنے اسلاف کے کارناموں سے ناآشنا رہتیں۔
​قلم انسانی جذبات، احساسات اور نظریات کو محفوظ کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ انسان جو کچھ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے یا دریافت کرتا ہے، قلم اسے الفاظ کا لباس پہنا کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔ سائنس ہو یا آرٹ، مذہب ہو یا قانون، فلسفہ ہو یا ادب؛ الغرض زندگی کا کوئی بھی شعبہ قلم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔
​قلم ایک بہت بڑی امانت ہے۔ جس طرح قلم کے مثبت استعمال نے دنیا میں انقلاب برپا کیے ہیں، اسی طرح اس کے غلط استعمال سے معاشرتی بگاڑ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک باشعور انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے قلم کا استعمال حق، سچائی، عدل، امن اور انسانیت کی فلاح کے لیے کرے، نہ کہ جھوٹ، فتنہ اور فساد پھیلانے کے لیے۔
​اللہ رب العزت ہمیں قلم کی قدر و قیمت پہچاننے اور اس کے صحیح استعمال کی توفیق نصیب فرمائے۔
​(آمین یا رب العالمین)