مضمون (51)

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

"زندگی کا بیگ اور اعمال کا سفینہ"

_______________

فی الحال سفر میں ہوں… اور سفر کا ایک عجیب فلسفہ ہے۔

ہر مسافر کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی بیگ یا تھیلی ضرور ہوتی ہے—کسی کے لیے وہ صرف سامان ہے، مگر کسی کے لیے وہ اس کی روزمرہ کی ضرورتوں کا پورا جہان۔ میں بھی آج اپنے اسی بیگ کے ساتھ سفر پر نکلا ہوں۔ سوچا، کیوں نہ اس بیگ کے حوالے سے وہ سارا احساس، وہ ساری کہانی اور وہ سارا فلسفہ قلم بند کر دوں… کیونکہ میرا یہ بیگ صرف میرا سامان نہیں، میری زندگی کا حصہ ہے، میرا سہارا ہے، میرا ساتھی ہے۔

الغرض _دنیا کے ہنگاموں میں ہر شخص کسی نہ کسی خزانے پر فخر کرتا ہے — کسی کو اپنی زمینوں پر ناز ہے ، کسی کو کاروبار پر، کسی کو اولاد اور کسی کو اپنے علم پر۔ مگر ایمان و اسلام کے بعد اگر میں اپنے سب سے قیمتی اثاثے کا نام لوں تو وہ نہ سونا ہے، نہ چاندی، نہ کوئی محل… بلکہ ایک عام سا کپڑے کا بیگ ہے۔

عام لوگوں کے لیے یہ شاید محض بیگ ہو، مگر میرے لیے یہ میرا چلتا پھرتا گھر ہے، میری تنہائی کا رازداں اور میرے سفر کا ہمسفر ہے ۔

اس بیگ میں میرا بستر بھی ہے اور سکون بھی؛

میری روزی روٹی کا سامان بھی اور میری کتابیں بھی؛

میرے کپڑے بھی اور میری دعاؤں کی مہک بھی۔

رات کی سکون کیلئے دہ چادریں، صبح کی تازگی بھری مسواک، دن بھر کا کاروباری ساز و سامان، اور دل کو سہارا دینے والی کتاب — سب اسی ایک بیگ کی امانت ہیں۔

اگر دنیا مجھ سے سب کچھ چھین لے مگر یہ بیگ رہ جائے، تو میں جیتا رہ سکتا ہوں؛ اور اگر یہ بیگ بھی کھو جائے… تو شاید میری سانسیں بھی ادھوری ہو جائیں۔

مگر ایک دن میرے اندر سے آواز آئی:

"محمود! یہ بیگ بھی کبھی پرانا ہو جائے گا… پھر تمہارا اصل بیگ کون سا ہے؟"

اس سوال نے میرے دل کو جھنجھوڑ دیا۔

اصل بیگ وہ نہیں جو کپڑے کا ہے، اصل بیگ وہ ہے جو اعمال کے دھاگے سے بُنتا ہے — وہ بیگ جس میں نمازیں ہیں، صدقہ ہے، نیکیاں ہیں، آنسوؤں کا صبر ہے اور ایمان کی روشنی ہے۔ یہی بیگ قبر کی تنہائی میں ساتھ جائے گا، اور یہی قیامت کے دن دفاع کرے گا۔

دنیاوی بیگ ہمیں سکھاتا ہے کہ قیمتی چیزوں کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔

صاف رکھنا، ترتیب دینا، غیر ضروری بوجھ نکال دینا، اور اسے ہر سفر میں اپنے ساتھ رکھنا — یہی اصول زندگی کی عملی تربیت دیتے ہیں۔

مگر یہ بیگ جتنا بھی ضروری ہو، یہ عارضی ہے۔ اس کی حقیقت وہی ہے جسے قرآن نے یوں بیان کیا:

"دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔"

(آلِ عمران: 185)

دنیاوی بیگ سہولت دیتا ہے، مگر نجات نہیں۔

اخروی بیگ — اصل سرمایہ ہے 

قرآن اعلان کرتا ہے:

"زادِ راہ لے لو، اور بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔"

(البقرہ: 197)

یہی وہ اخروی بیگ ہے جسے بھرنے کا حکم ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"دنیا میں ایسے رہو جیسے ایک مسافر ہو۔"

(بخاری)

مسافر اپنے بیگ میں صرف ضروری سامان رکھتا ہے — اسی طرح ایک مومن کا اصل سرمایہ اس کے اعمال ہیں۔

اور وہ حدیث تو پوری حقیقت کھول دیتی ہے:

"مرنے کے بعد انسان کے ساتھ صرف اس کے اعمال جاتے ہیں۔"

(بخاری و مسلم)

اولیاء اللہ اسی لیے دنیا کے ساز و سامان پر نہیں، اعمال کے سامان پر تکیہ کرتے تھے۔ حضرت حسن بصریؒ کا قول آج بھی دل کو جھنجھوڑتا ہے:

"سفر لمبا ہے اور سامان تھوڑا… اس لیے میں آخرت کے بیگ میں اضافہ کرتا ہوں۔"

دنیاوی بیگ کو سنبھالنا ضروری ہے — کیونکہ یہی روزگار اور روزمرہ کا سہارا ہے۔

لیکن اصل عہد یہ ہے کہ:

"دنیا کا بیگ ساتھ رکھیں … مگر آخرت کا بیگ بھرنا مت بھولنا ۔"

دنیا کا بیگ اگر کھو جائے تو زندگی مشکل ہو جاتی ہے،

لیکن آخرت کا بیگ اگر خالی ہو جائے تو زندگی کے بعد کی ساری منزلیں ویران ہو جاتی ہیں۔

دنیاوی بیگ سہولت دیتا ہے،

اخروی بیگ نجات دیتا ہے۔

دنیاوی بیگ انسان کو زندگی کا سفر آسان بناتا ہے،

اور اعمال کا بیگ قبر اور قیامت کے سفر کو روشن کرتا ہے۔

میری زندگی میرے بیگ میں ہے… مگر میرا اصل بیگ وہ ہے جو اعمال کا سفینہ ہے — باقی سب کچھ ریت اور زنگ ہے۔

  بقلم محمودالباری

mahmoodulbari342@gmail.com