رودادِ سفر


 رشحات قلم : ابن انور متعلم دارالعلوم دیوبند 



سفر انسانی زندگی کی ضرورت بھی، تفریح کا سامان بھی اور دلچسپی کا حصہ بھی، ویسے ہر سفر اہم نہیں ہوتا، سفر کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں، زوایے متعدد ہوتے ہیں، اور کچھ اسفار انسانی زندگی دیر پا نقوش چھوڑ جاتے ہیں، انقلاب بپا کردیتے ہیں، باطن کو بدل دیتے ہیں اور زندگی کی کتاب میں یادگار باب بن جاتے ہیں۔

ان میں اہل اللہ اور اہل علم کی زیارت و ملاقات کا سفر سرِ فہرست ہے، یہ اہل اللہ جو حقیقی خلفائے ربانی ہیں، وارثینِ انبیاء اور نائبینِ رسولِ الہی ہیں، اسلاف و اکابر کا عکس ہیں، جن کی زندگی اصلاحِ امت میں صرف ہوتی ہے، ان کے شب و روز خدمتِ دین کے لئے وقف ہوتے ہیں، ان کے اعمال قرآن و سنت سے سرشار ، عادات طریقۂ نبوی سے مزین، دل یادِ الہی سے معمور، زبان ذکرِ باری سے معطر اور خیالات فکرِ امت میں غرق رہتے ہیں، یہی لوگ حقیقی عاشقِ خدا، متبعِ رسول اور جانشینِ اکابر ہوتے ہیں؛
انہی اہل دل، خدا ترس ہستیوں میں حضرت مولانا قاری شاہ عبدالستار صاحب بوڑیوی مفتاحی دامت برکاتہم العالیہ ہیں،

حضرت کا تعارف:
حضرت والا دامت برکاتہم مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد کے فاضل ہیں، مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب رحمہ اللہ کے معتمد، شاگردِ رشید اور خلیفۂ خاص ہیں، ٣٥ سالہ طویل ترین صحبت حاصل رہی، مزید حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے تین عظیم خلفاء حضرت حافظ عبدالرشیدؒ، حاجی فتح محمد دہلویؒ اور مولانا مکرم حسین صاحب سنساپوریؒ کے مجاز ہونے کا شرف حاصل ہے، اس پر مستزاد؛شیخ الاسلام مدنی رحمہ اللہ کے خادمِ خاص اور خلیفہ حضرت مولانا محمود حسن پٹھیرویؒ کی اجازتِ ارشاد و سلوک نے لعل و گوہر بنا دیا، اس بابت مفتی عبداللہ معروفی مدظلہ رقم طراز ہیں کہ اس طرح بیک وقت حضرت تھانویؒ، مدنیؒ، رائے پوریؒ نسبتوں سے مالا مال ہوتے ہوئے سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے سلسلہ چشتیہ صابریہ کے ایک مثمر خیرات شاخ کی حیثیت رکھتے ہیں؛

خدمات:
اصلاً حضرت والا سہارن پور کے شہری ہیں مگر شیخ و مرشد حضرت مسیح الامتؒ کے حکم پر ریاست ہریانہ کے شہر یمنانگر سے منسلک ایک انجان '' بوڑیہ'' نامی دیہات تشریف لائے، اسی کو اپنا مسکن بنایا، حضرت مسیح الامتؒ نے وہاں ایک مدرسے کی بنیاد رکھی جو مدرسہ ضیاء القرآن سے عبارت ہے، جہاں حضرت والا دامت برکاتہم نے علمِ نبوت کے تشنہ لبوں کو سیراب کیا، فی الحال اس مدرسے کے ناظم اور کئی مدرسوں کے بانی ہیں، اصلاحِ امت کو بھی آپ نے مشن بنایا، معرفتِ الہی کو مقصدِ زیست بنایا، بوڑیہ میں اطراف و اکناف میں تبلیغی فرائض انجام دیئے، ٹوٹے ہوئے دلوں کو حقیقی محبوب سے جوڑدیا، اسلام و ایمان کی حقیقت سمجھائی، وہیں خانقاہِ فیضانِ مسیح الامت کی بنیاد رکھی، کئی ایک سالکین کی رہبری فرمارہے ہیں، دسیوں علماء وابستۂ ہیں جو حضرت کے زیر نگیں راہ سلوک پر گامزن ہیں
ع جو آگ کی خاصیت وہ عشق کی خاصیت
ایک آگ سینہ بہ سینہ ہے ایک خانہ بہ خانہ ہے

خلفاء و مجازینِ بیعت :
بس یہی عشق کی آگ پھیلتی گئی، بڑے بڑے اداروں کے علماء کو اپنے آغوش میں لیتی گئی جن میں دارالعلوم دیوبند، وقف دیوبند، مظاہر علوم، مدرسہ شاہی، اسلامیہ عربیہ امروہہ، اشرف العلوم رشیدیہ گنگوہ کے کبار اساتذہ شامل ہیں، بالترتیب کچھ نام ذکر کیے دیتا ہوں :
حضرت مفتی امین صاحب پالن پوری (شیخ الحدیث ثانی دارالعلوم دیوبند)، مولانا مجیب اللہ گونڈوی، مفتی عبداللہ معروفی، مولانا منیرالدین عثمانی نقشبندی، مولانا خورشید انور گیاوی وغیرہ اساتذہ دار العلوم، خانودہ قاسمی کے چشم و چراغ مولانا سفیان صاحب(مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند)، مولانا فرید الدین صاحب (شیخ الحدیث ثانی دار العلوم وقف)، قاری واصف عثمانی(استاد دار العلوم وقف)، مفتی اسرار مظاہری (استاد تخصص فی الحدیث مظاہر علوم) مفتی عفان منصور پوری (شیخ الحدیث مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ)، مولانا عبدالقادر قاسمی(استاد مدرسہ شاہی) وغیرہ کو اجازتِ بیعت و خلافت سے سرفراز کیا؛

مزید کچھ ذکر کیے بغیر اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ حضرت مسیح الامتؒ کے کچھ شاگرد و متعلقین کہتے ہیں کہ اگر کسی کو حضرت مسیح الامتؒ کو دیکھنا ہو تو حضرت جی بوڑیوی دامت برکاتہم کو دیکھ لو، بالکل حضرت کا عکس نظر آتا ہے؛ جس کو اصطلاحِ تصوف میں نسبتِ اتحادی سے تعبیر کرتے ہیں،
شاعر کہتا ہے :
ع ۔ من تو شدم تو من شدی ، من تن شدم تو جاں شدی
تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

حضرت جی سے تعارف:
حضرت والا کا نامِ نامی دارالعلوم میں آنے کے بعد بارہا سننے میں آیا، حضرت مولانا عبداللہ معروفی اور مولانا منیر الدین عثمانی مدظلہما کے شیخ ہیں اسی توسط سے تذکرہ کانوں سے ٹکراتا رہا، مزید اس ذکر کو حضرت کے پوتے عبد السبحان سلمہ (متعلم دارالعلوم دیوبند) کے قرب و جوار نے جلا بخشا، دل میں ملاقات کا ایک جذبہ اٹھتا اور وقت کی گردش کے ساتھ سرد ہوجاتا، پھر جب شوال ١٤٤٧ھ کے اواخر میں دارالعلوم میں تحصیلِ علم کے لیے حاضر ہوا تو رفیقِ درس مولوی محمد عفان الدین صاحب (متعلم تکمیل افتاء دارالعلوم وقف دیوبند) کا اصرار بڑھتا رہا، حضرت کے پوتے کے ذریعے نظام دریافت کرنے پر زور دیتے رہے، دل میں پھر شوق پیدا ہوا اور بڑھتا رہا، آخر وہ دن آیا، ١٩ ذیقعدہ 7 مئی جمعرات کا دن تھا، ہم حضرت کی زیارت کے لیے بعد عصر روانہ ہوئے، مکمل سفر عبدالسبحان سلمہ کی رہبری میں طے ہوا، عشاء کے بعد ایک عمارت کے سامنے پہنچے جس پر مدرسہ ضیاء القران لکھا ہوا تھا وہاں موجود طلباء نے بتایا کہ یہی حضرت جی بوڑیوی کا ادارہ ہے، ہم اندر داخل ہوئے، رہبر کی گئی، ہم حضرت کے میکدے کے پاس پہنچے، باہر ایک دلکش، جاذب نظر، پرنور چہرہ لیے جواں مرد شخص تشریف فرما تھے، تعارف کے بعد آنے کا مقصد بتایا تو انہوں نے جواب دیا کہ کل صبح بعد فجر انشاءاللہ حضرت سے ملاقات ہوگی، پھر طلبہ نے بتایا کہ یہ حضرت کے فرزند ہیں،
اگلے دن جمعہ کے روز فجر بعد حضرت والا کی زیارت کے لیے پہنچے، کان میں آواز پڑی کہ خادم حضرت سے عرض کر رہا ہے کہ حضرت! دارالعلوم کے طلبہ آئے ہیں، آپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، حضرت نے آنے کی اجازت دی، بس کیا منظر تھا، کمرے میں داخل ہوئے دیکھا کہ پر رونق چہرہ، سرمگیں آنکھیں، سفید ریش، پروقار، بارعب چہرہ، جسم نحیف مگر حسن و جمال کا پیکر، اندرون کی طرح بیرون بھی صاف و شفاف، گویا اب اکابر کی روحانی نسبتیں آپ ہی سے وابستہ ہوگئی، اکابر کے جانشین تشریف فرما ہیں، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کمرہ نور سے بھرا ہوا، ذکر و فکر کی خاموش صداؤں سے گونج رہا، کمرے کا منظر حضرت کی ریاضات و مجاہدات کی گواہی دے رہا تھا، آگے بڑھ کر ہم ساتھیوں نے حضرت سے مصافحہ کیا، تعارف ہوا، بعدہ اساتذۂ دارالعلوم اور حضرت سے ان کے والہانہ تعلق کا ذکر خود حضرت نے کیا۔

حضرت شیخ الحدیث مفتی امین صاحب پالن پوری مدظلہ کا نصیحت آموز عمل
ایک واقعہ بطور خاص حضرت نے ذکر کیا جس کا تذکرہ یہاں جو نہایت اور عبرت آموز ہے۔

فرمایا کہ دو ہفتہ قبل حضرت مفتی امین صاحب پالن پوری دامت برکاتہم (شیخ الحدیث ثانی دار العلوم دیوبند) تشریف لائے، جمعہ کے بعد خانقاہ میں خطاب کیا، پھر میری طرف متوجہ ہوئے، اور مجھ سے بیعت کی درخواست کی، حضرت فرماتے ہیں کہ میں حیران! میں نے کہا آپ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور مجھ جیسے سے بیعت کی درخواست کر رہے ہیں، یہ کہہ کر انکار کر دیا مگر اصرار بڑھتا رہا تو پھر بیعت کر لی، کچھ اذکار و اوراد کی تلقین کی پھر اسی مجلس میں اجازت و خلافت کی امانت بھی سپرد کردی، واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت نے فرمایا: ان کے اندر بہت تواضع ہے، ان سے تعلق رکھو!

یہ ہیں ہمارے اکابر! ترجمانِ دیوبند!
حضرت مفتی امین صاحب مدظلہ العالی نے اپنی حیات میں اولا حضرت شیخ الحدیث کاندھلوی رحمہ اللہ سے پھر فقیہ الامت گنگوہیؒ سے اصلاحی تعلق قائم کیا، اور اب اس عمر میں جبکہ کہولت کے بعد بڑھاپے کے زینے عبور کر رہے ہیں، ایشیا کی عظیم درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں بخاری شریف جلد ثانی کا درس دے رہے ہیں، ہزاروں طالبان علوم نبوت مستفید ہو رہے ہیں، اس کے باوجود اب بھی اپنی اصلاح کی تڑپ، اندرون کی فکر، اپنے کو سنوارنے کا جذبہ، ہائے! سلام ہو اس عظیم ہستی پر!
اللہ ہمیں بھی توفیقِ عمل نصیب فرمائے! آمین

اجازتِ حدیث:
بہرحال اس کے بعد حضرت سے اجازتِ حدیث کی درخواست کی، بخاری شریف کی پہلی اور آخری حدیث پڑھنے کا حکم ہوا، پھر خود حضرت نے آخری حدیث پڑھائی، اجازت دی، سند مرحمت فرمائی، گراں قدر نصائح سے نوازا، بیش قیمت کتب بطور انعام کے عطا کی، تقریباً یہ ملاقات نصف گھنٹے سے زائد رہی، اس وقت آپ 93 سال کے منزلِ ضعف سے گزر رہے ہیں، اس حالت میں بھی اتنی دیر ملاقات! اللہ اکبر! جب کہ خادم نے بتایا کہ آپ کا معمول 15 سے 20 منٹ سے زائد ملاقات کا نہیں ہے، یقیناً یہ حضرت کی دارالعلوم سے محبت اور ہماری اس سے وابستہ نسبت کا ثمرہ ہے، وہاں سے رخصت ہوئے۔
نمازِ جمعہ تک معمولات میں مشغول رہے، جمعہ ادا کی، جمعہ کے بعد خانقاہِ فیضان مسیح الامت میں ہفتہ واری مجلس ہوتی ہے اور ہر مرتبہ حضرت کے بیان کے بعد کسی مہمان گرامی کا خطاب ہوتا ہے چاہے وہ آپ کے خلیفہ کا ہو یا ملک کی کوئی معتبر عظیم صاحبِ دل ہستی کا ہو، آج کے مہمانِ خصوصی حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب مدظلہ العالی تھے، آپ خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں کے سجادہ نشین، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری، بہترین مقرر اور شعلہ بیاں خطیب ہیں۔

مجلس میں شرکت:
حسبِ معمول مجلس کا آغاز ہوا، ابھی مہمانِ مکرم کی آمد نہیں ہوئی تھی، ابتداءً حضرت دامت برکاتہم نے خطاب فرمایا، اندازِ خطاب سحر انگیز تھا، آواز ایسی صاف کہ گویا شباب کے مراحل سے گذر رہے ہوں، فکر و تڑپ ایسی کہ بار بار لوگوں کو توبہ کراتے، استغفار پڑھاتے، بیدار مغزی ایسی کہ الگ الگ انداز سے لوگوں کو متوجہ کرتے، کسی کو غفلت کی وادیوں میں بھٹکنے نہیں دیتے، نیند کسی کے قریب بھی نہیں آتی، کسی کو ٹیک لگانے کی اجازت نہیں ہوتی، جو لگاتا فوراً تنبیہ کرتے، اکابر کا عجیب نمونہ ہے، حضرت والا نے حالات حاضرہ، ہماری اسلامی تہذیب سے بیزاری اور مغربی تہذیب سے دل بستگی پر پرسوز خطاب فرمایا بالخصوص یہ بھی کہتے، بار بار کہتے کہ بھائیوں! اپنے گھر کی عورتوں کو بھی بتانا اور ان تک بھی پہنچانا۔

:حضرت عمرین محفوظ رحمانی دام ظلہ کی آمد
پھر حضرت کے خلیفہ مولانا اسرار صاحب (استاد تخصص فی الحدیث مظاہر علوم) کا خطاب جاری تھا اتنے میں مہمان مکرم کی آمد ہوئی، حضرت الشیخ چلنے پھرنے سے معذور ہیں، خادم ہی اٹھا کر لاتے ہیں مگر تواضع کا یہ عالم کہ مہمان آنے سے قبل خود اپنی شہ نشین پر کنارے ہوکر بیٹھ گئے، مہمان عزیز کے لیے خود جگہ بنائی، محترم رحمانی مدظلہ حضرت کے پاس تشریف لائے، تھوڑی دیر گفت و شنید کے بعد مجلس کا دوبارہ آغاز ہوا، مولوی عبدالسبحان نے تلاوت فرمائی، ہدیۂ نعت کے بعد حضرت رحمانی مدظلہ کا خطاب ہوا، ایسا پرمغز، جاں سوز، فکر انگیز خطاب تھا کہ ایک گھنٹہ کب گزر گیا، پتہ ہی نہ چلا ،حضرت تھک رہے تھے، نہ مہمانِ مکرم، نہ ہی سامعین، سامعین خطاب سننے میں محو تھے، یوں محسوس ہورہا تھا کہ ان کے کان مزید سننے کے خواہشمند ہوں مگر وقت اجازت نہیں دے رہا تھا، مجلس معمول سے کافی دیر تک رہی پھر خود مہمان مکرم ہی کی دعا پر چار بجے مجلس اختتام کو پہنچی، دعا اس قدر رقت آمیز تھی کہ بس مجمع سسکیوں پر تھا، ہر طرف آہ و بکاء کی صدائیں تھی، خانقاہ رونے کی آوازوں سے گونج رہا تھا، دل تو یہ کہہ رہا تھا کہ کاش یہ محفل اور چلتی، ہم اور بیٹھتے، مزید ایمان تازہ کرتے، مگر اب رخصتی دہلیز پر کھڑی تھی، اس کے بعد حضرت جی دامت برکاتہم اور محترم رحمانی مدظلہ سے مصافحہ کا سلسلہ شروع ہوا، مصافحہ کرکے واپس دارالعلوم کا رختِ سفر باندھا اس طرح یہ عظیم علمی اور روحانی سفر اختتام پذیر ہوا ۔

دعا ہے کہ ربِّ ذو الجلال حضرت کو عمرِ دراز نصیب کرے، صحت و عافیت بخشے، فیض کو عام و تام کرے، خانقاہ کو آباد رکھے، شاداب رکھے!
آمین