*کتنا مشکل ہوتا ہے نا ایسے گناہ کا اقرار کرنا جس کےہم مرتکب نا ہوں؟*
کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے مقام پر لا کر کھڑا کرتی ہے جہاں اسے وہ جرم قبول کرنا پڑتا ہے جو اس نے کیا ہی نہیں،اس وجہ سے نہیں کہ اس کے پاس جوابات نہیں، جوابات دینا ممکن ہے لیکن گناہ ہو تو اعتراف آسان ہوتا ہے،لیکن نہ کردہ خطا کی صفائی دینا سب سے بڑی آزمائش ہوتی ہے، یہ وہ لمحہ ہے جب دل سچ بولتا ہے مگر دنیا یقین نہیں کرتی،
اور سچ اپنی پاکیزگی کے باوجود جھوٹ کے شور میں دب جاتا ہے۔
اصل مشکل الزام نہیں،اصل مشکل وہ مسلسل سوال ہیں جو بار بار دہرا کر آپ کے سچ کو جھٹلانے لگتے ہیں،
کسی کا صرف ایک سوال نہیں ہوتا
وہ بار بار پوچھتا ہے، پھر دوبارہ پوچھتا ہے، اور آپ ہر مرتبہ ایک ہی جواب دیتے ہیں، وہی سچ، وہی وضاحت، مگر ہر مرتبہ آپ کی بات پوری ہونے سے پہلے آپ کو خاموش کر دیا جاتا ہے، اور جب آپکی زبان جواب دینے سے قاصر ہو جاتی ہے پھر لوگ بھی آپکو قصوروار مان لیتے ہیں، اور مجرم قرار دے دیا جاتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہم گناہگار نہیں، یقیناً ہم گناہگار ہیں،اور گناہگاری ہماری فطرت میں شامل ہے اور یہ مسلم اصول ہے کہ جو چیز فطرت میں شامل ہو وہ کبھی ختم نہیں ہوتی اسکا اختتام وجود کے اختتام کے ساتھ ہی ہوتا ہے، لیکن مسئلہ یہ بہت اہم ہے کہ ہمیں ایسے گناہ کا مرتکب بنایا جائے جس کا ہم نے ارتکاب نا کیا ہو تب وجود میں جان تو رہتی ہے لیکن ایسی جان جس سے ہم زندہ رہ سکیں،اور بار بار اسی نا کردہ گناہ کے اقرار پر ہماری آنکھیں بھر آتی ہیں کیونکہ ہمیں ایسا جرم قبول کرنا ہوتا ہے جس کے ہم مرتکب نہیں، اور یہ بات یقینی میرے رب کی بارگاہ میں اسکا جواب ہے اور پوری کائنات کے سامنے اسکا انکشاف ہوگا، تب اس وقت مجرم کا نعرہ لگانے والے لوگ کیا صفائی پیش کریں گے میرے رب کی بارگاہ میں، اور میں جب اپنی تمام حقیقی اور سچی باتوں کی صفائی پیش کر کرکے تھک جاتا ہوں پھر میں اللہ کا وہ مقدس کلام اٹھاتا ہو جس کی ایک ایک آیت میری راہنمائی کے لیے کافی ہوتی ہے پھر قرآن مجھ سے کچھ یوں بات کرتا ہے،(لا تقنطوا من رحمة الله) اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہونا : پھر میں تمام بھونکنے والوں کو درکنار کرکے اپنے رب سے کہتا ہوں اے خالق و مالک یقیناً تیری ذات حقیقت کو جانتی ہے اب نااہل لوگوں نے مجھے مجرم ٹھہرا دیا مجھے کوئی فرق نہیں لیکن تیرا کلام تو کہتا ہے(فمن يعمل مثقال ذرّة خيرا يره) اس دن ذرہ برابر بھلائی کو بھی دیکھ لو گے، اور کہیں فرماتا ہے(و من یعمل مثقال ذرّة شرّا يره) اور ذرہ برابر برائی کو بھی دیکھ لوگے، اس دن کیا کہیں گے۔
یار کتنا عجیب ہوتا ہے نا الفاظ کا انبار ہو اچھی اچھی تعبیرات ہوں بہت خوبصورتی سے الفاظ کو مزین کرنا بھی آتا ہو، دوسرے کے دل میں اپنی جگہ بنانے کا ہنر بھی آتا ہو، لیکن ایک موقع ایسا آ جائے جہاں زبان خاموش ہو جائے، تعبیرات لباس میں ملبوس ہو جائیں، انداز تکلم کپکپانے لگے، وہ دل جو ایک عزم لیکر چلتا ہو، جو دنیا پر قیادت کا مشتاق ہو، اور ایک ایسی قوم کو تیار کرنے والا ہو جو رونے سے درکنار ہو، وہ دل بے ساختہ آنسوؤں میں نہائے جائے اور وجود کے ہر پرزے کو حکم دینے لگے خاموشی اختیار کرو خاموشی تو صرف وجود تو لگتا ہے لیکن بے جان، بے ضمیر، مردہ سا گویا اسکی یوں سمجھیں کہ ایک جیتی جاگتی لاش ہو، صرف اس غم کی وجہ سے کہ ایسے گناہ کا مجرم بنایا جا رہا ہو جسکا وہ مرتکب ہی نہیں ہو🥹۔
نا کردہ گناہ پر مجھے مجرم سمجھنے والوں، ایک دن انصاف کا ہے جب تمہاری تمام چالبازیاں ختم ہو جائیں گی تمہارے گواہوں کی دھجیاں بکھیر دی جائیں گی وہ بڑا مہربان ہے وہ بڑا کریم ہے بڑا غفور پر یاد رکھنا وہ قہّار و جبّار بھی ہے وہ منصف بھی اس دن تمہارے زبانیں خاموش ہو جائیں گیں اور تمہارے پاس افسوس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا، اور جو عزتیں میرے رب نے مجھے عطا کیں ہیں وہ پوری کائنات ایک پلاٹ فارم پر کھڑی ہو کر بھی گھٹانا چاہے تو گھٹ نہیں سکتیں، یقیناً عزّت و ذلّت عطا کرنا یہ میرے رب کی شان ہے اور وہ میری عزتوں میں چار چاند لگائے گا، اور مجھے ہر وہ خوشی عطا کر سکتا ہے جس کا میں مشتاق ہوں انشاءاللہ العزیز۔
اب میں صفائیاں پیش نہیں کرتا اسلیے کہ صفائی وہ پیش کرے جو یہ چاہتا ہو کہ مجھے دنیا کے عیاش اور مکار لوگ اچھا کہیں، اور یا صفائی وہ پیش کرے جو اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ سمجھتا ہو میں تو گناہگار ہوں، گناہگار تھا، سنبھلنے کی کوشش کروں گا، میرا رب مجھے سنبھلنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن، میں تو کہتا رہتا ہوں:
بے غلطی چاہتے ہو تو فرشتوں سے تعلّق کرلو
میں ابن آدم ہوں غلطی کرنا میری فطرت میں شامل ہے۔
اب آپکو جو بھی سمجھنا ہے مجھے سمجھو میری شخصیت پر کوئی اثر نہیں، جب مجھے مجرم ٹھہرا ہی دیا ہے ناکردہ گناہ کا، آپ جیسے دس بھی بھونکے میری ذات پر کوئی فرق نہیں۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*