اللہ رب ذوالجلال نے انسان کو جو نعمتیں عطا فرمائیں ہیں انمیں سے ایک اہم نعمت زبان بھی ہے
اس نعمت کے ذریعہ انسان اور اپنی بات دوسروں تک پہنچاتا ہے 
الغرض، اپنی ما فی الضمیر کے اظہار کا بہت بڑا ذریعہ ہے 
لیکن یہی زبان خیر کا باعث بنتی ہے اور یہی زبان برائی میں لے جانے کا سبب بن جاتی ہے 
کبھی جنت کی طرف لیے جاتی ہے اور کبھی دوزخ کی طرف 
زبان کا معاملہ بہت حساس اور نازک ہے 

قرآن کریم میں  رب کریم نے اہل ایمان کی صفت بیان کرتے ہوۓ ارشاد فرمایا 
والذين هم عن اللغو معرضون 

"کہ وہ ناشائستہ باتوں سے اعراض کرتے ہیں" 

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا 
کہ نجات کا راستہ کیا ہے 
آقا علیہ السلام نے فرمایا املك عليك لسانك 

کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھنا 
اور اپنے گھر کو کافی سمجھو ،اپنے گناہوں پر نادم رہو 

معلوم ہوا زبان کو بے فائدہ استعمال نہیں کرنا چاہیے جب بھی بات کرو تو اچھی بات کرو اور گفتگو بوقت ضرورت بقدر ضرورت ہو 
کیونکہ بہت زیادہ گفتگو انسان کو بے معنی کلام میں مبتلا کر دیتی ہے 
رفتہ رفتہ یہ احساس بھی جاتا رہتا ہے کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے 
وہ فائدہ مند ہے بھی یا نہیں 

اسی طرح بولنے والے کو خیال ہونا چاہیے کہ جو بات میں کررہا ہوں کیا میں اسکا اہل ہوں بھی یا نہیں 
کیونکہ نااہلی کے باوجود بولنا مسائل پیدا کرتا ہے

روایت میں ہے من حسن الاسلام تركه ما لا يعنيه 
فضول کام اور باتوں کو چھوڑنا یہ اسلام کی خوبی اور کمال ہے 

زبان اگر خیر میں استعمال ہو، اللہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کیلئے استعمال ہو تو اللہ نے اسکے لۓ جنت کی ضمانت دی ہے 

زبان کی حفاظت یہ اپنے ایمان کو بچانے اور اعمال کو باقی رکھنے کا اہم ذریعہ ہے 
لہذا بڑی سختی سے ہمیں زبان کی حفاظت کرنی چاہیے کہ کہیں زبان کی کسی لغزش سے جنت سے دوری نہ ہوجائے۔کیونکہ اکثر مفاسد مصائب اور مسائل زبان ہی کیوجہ سے ہوتے ہی
اسی کی سختی اور ترشی سے گھر خاندان، والدین اولاد، شاگرد استاذ ہر رشتہ ماند پڑ جاتا ہے
ایک معاشرہ بکھر پڑتا ہے 
تو جہاں زبان نعمت ہے وہیں آزمائش بھی ہے 

عیب جوئی، غیبت، بہتان، تحقیر و تنقیص، طعن و تشنیع، مذموم تعریف، 
غیر اللہ کی قسم کھانا، دوسروں پر  بے جا تبصرے، 
بے فائدہ لایعنی بات کرنا
کفریہ کلمات بھی زبان ہی سے ادا ہوتے ہیں 
یہ نتائج ہیں بے لگام استعمال زبان کے 
بہت ضروری ہے کہ ہم چوکس رہیں 

اگر زبان کا صحیح استعمال آجاۓ تو آفت ،مصائب، نقصانات، فتنے سے خود کو محفوظ رکھنا آسان ہو جاتا ہے 
خاموشی اپنائیں، 
خاموشی کی مسائل کا حل ہے 

لہذا ضرورت ہے اپنی زبان کے تحفظ  اور نگرانی کی 
رب تعالٰی اپنی پسندیدہ بات کو ہماری زبان سے بولنے کی توفیق عطاء فرمائے 
آمین