بسم اللہ الرحمن الرحيم
محترم صدرِ جلسہ، معزز اساتذہ کرام اور میرے عزیز طلباء و حاضرینِ سلام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج ہم سب اپنے ملک کا یومِ آزادی نہایت جوش و خروش کے ساتھ منا رہے ہیں۔ آزادی کا یہ دن ہمیں جہاں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، وہیں ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ موجودہ دور میں بحیثیتِ قوم اور بحیثیتِ مسلمان ہمارے ملی اور وطنی فرائض کیا ہیں؟
حضراتِ گرامی!
آج ہمارا ملک اور ہماری ملت جن حالات سے گزر رہی ہے، وہاں جذبات کے ساتھ ساتھ حکمت، ہوش مندی اور عمل کی سخت ضرورت ہے۔ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی، اس کے امن و امان اور بقا کے لیے ہم سب پر کچھ اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
تعلیم اور ترقی: موجودہ دور علم اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جب تک ہمارے نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہوں گے، ہم اپنے ملک اور ملت کی مؤثر خدمت نہیں کر سکتے۔ علم ہی وہ طاقت ہے جو قوموں کو عروج دیتی ہے۔
اخلاق اور کردار: ایک سچا مسلمان اور اچھا شہری وہی ہے جس کا کردار پاکیزہ ہو۔ ہمیں اپنے اخلاق اور معاملات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اس ملک کے سب سے زیادہ خیرخواہ، امن پسند اور باوفا شہری ہیں۔
آپسی اتحاد و بھائی چارہ: آج ملت کو توڑنے والی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں رنگ و نسل اور فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہو کر آپس میں اتحادِ امت قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اتفاق میں ہی ہماری طاقت اور کامیابی کا راز پنہاں ہے۔
وطن کی حفاظت و تعمیر: اس ملک کا ایک ایک ذرہ ہماری امانت ہے۔ اس کی سالمیت، قانون کا احترام اور اس کی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور کوشش کرنا ہمارا بنیادی وطنی فریضہ ہے۔
آئیے آج کے اس بابرکت دن ہم سب یہ پختہ عزم کریں کہ ہم اپنے ملک میں محبت، علم، اخلاق اور امن کا پرچار کریں گے اور اپنے اسلاف کے چھوڑے ہوئے نقشِ قدم پر مضبوطی سے قائم رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہر قسم کے فتنوں اور شر سے محفوظ رکھے، اور ہمیں ہمارے فرائضِ منصبی احسن طریقے سے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
اِس شعر کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں:
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا،
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا!
شکریہ!
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!