ایصالِ ثواب یا کاروبار؟ ایک لمحۂ فکریہ

آج ہمارے معاشرے میں ایک ایسا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب کسی عزیز کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے اہلِ خانہ ایصالِ ثواب کی نیت سے قرآن خوانی، فاتحہ، صدقہ و خیرات یا طلبہ کو کھانا کھلانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ ایک نہایت مبارک جذبہ ہے، کیونکہ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے مرحومین کو زیادہ سے زیادہ ثواب پہنچے اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس نیک جذبے کے ساتھ بعض مقامات پر لاپروائی اور بعض جگہ بدعنوانی بھی شامل ہو گئی ہے۔ آج بہت سے لوگ مصروفیات کی وجہ سے خود کوئی انتظام نہیں کرتے، بلکہ کسی مدرسے یا فرد کے ہاتھ میں رقم دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اب ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی۔ حالانکہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف رقم دے دینا نہیں بلکہ حتیٰ الامکان یہ اطمینان بھی کرنا ہے کہ اس کی دی ہوئی امانت صحیح جگہ خرچ ہوئی یا نہیں۔
یہ سوال ہر صاحبِ ایمان کو اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ جس رقم کو میں نے اپنے والدین یا مرحوم عزیز کے ایصالِ ثواب کے لیے دیا تھا، کیا واقعی اس سے مدرسے کے بچوں کو کھانا کھلایا گیا؟ کیا غریب طلبہ نے اس سے فائدہ اٹھایا؟ کیا قرآن خوانی کا اہتمام ہوا؟ یا پھر یہ رقم کسی فرد کی ذاتی ضرورت پوری کرنے میں صرف ہو گئی؟ اگر ہم نے کبھی یہ سوال ہی نہیں کیا تو پھر ہماری غفلت بھی قابلِ غور ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض جگہوں پر ایصالِ ثواب جیسے مقدس عمل کو بھی ایک ذریعۂ آمدنی بنا لیا گیا ہے۔ عوام کے دینی جذبات کو سامنے رکھ کر چندہ جمع کیا جاتا ہے، مگر بعد میں نہ کوئی حساب دیا جاتا ہے، نہ خرچ کی تفصیل بتائی جاتی ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا جاتا ہے کہ مستحقین تک کتنا فائدہ پہنچا۔ اگر واقعی ایسا ہو رہا ہو تو یہ نہ صرف عوام کے اعتماد کے ساتھ کھیلنا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت میں خیانت بھی ہے۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ نے دس ہزار یا بیس ہزار روپے دیے، تو کیا کبھی دوسرے یا تیسرے دن معلوم کیا کہ مدرسے میں بچوں کے لیے کیا کھانا تیار ہوا تھا؟ کتنے بچوں نے کھایا؟ کیا اس رقم کا پورا مصرف اسی مقصد پر ہوا؟ اگر ہم دنیا کے کسی عام لین دین میں حساب مانگ سکتے ہیں تو اللہ کی راہ میں دی گئی امانت کا حساب پوچھنا کیوں معیوب سمجھا جائے؟ احتساب بے ادبی نہیں بلکہ امانت داری کی حفاظت ہے۔
بدقسمتی سے بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ "ہم پر اعتماد کریں، سوال نہ کریں۔" حالانکہ اسلام اندھا اعتماد نہیں بلکہ شفافیت، دیانت اور جواب دہی کی تعلیم دیتا ہے۔ جو ادارہ یا ذمہ دار دیانت دار ہوگا، وہ کبھی حساب دینے سے نہیں گھبرائے گا، بلکہ اسے خوشی ہوگی کہ لوگ اس کی امانت داری پر اعتماد کر رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مدرسہ یا ہر عالم اس طرزِ عمل کا حامل نہیں۔ الحمد للہ ملک بھر میں بے شمار مدارس ایسے ہیں جہاں قوم کی ایک ایک پائی انتہائی دیانت داری سے طلبہ کی تعلیم، رہائش، خوراک اور دینی خدمات پر خرچ کی جاتی ہے۔ ایسے ادارے قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کی مدد کرنا باعثِ اجر ہے۔ لیکن اگر کہیں بے ضابطگی، مالی بدعنوانی یا عوام کے اعتماد سے کھیلنے کی شکایت ہو تو اس پر خاموشی اختیار کرنا بھی درست نہیں۔ اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب احتساب زندہ ہو۔
اگر آپ کے پاس وقت نہیں کہ خود قرآن خوانی یا کھانے کا انتظام کریں، تو کم از کم ایسی جگہ رقم دیں جہاں شفاف نظام موجود ہو۔ یا پھر اپنے ہاتھوں سے کسی غریب خاندان کو راشن پہنچا دیں، کسی یتیم کی کفالت کر دیں، کسی مریض کی مدد کر دیں یا کسی مستحق طالب علم کی ضروریات پوری کر دیں۔ اس سے ایک ضرورت مند کی ضرورت بھی پوری ہوگی اور آپ کے مرحومین کے لیے بھی دعا اور ثواب کا ذریعہ بنے گا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ شعور کو بھی زندہ کریں۔ دین کے نام پر دی جانے والی ہر امانت کو امانت ہی سمجھیں، اس کی حفاظت کریں اور اس کے صحیح مصرف کا اطمینان حاصل کریں۔ اگر قوم بیدار ہوگی، سوال کرے گی اور شفافیت کا مطالبہ کرے گی تو دیانت دار ادارے مزید مضبوط ہوں گے اور بدعنوان عناصر کے لیے جگہ تنگ ہو جائے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ ایصالِ ثواب کرنے، اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے اور ہر قسم کی مالی و اخلاقی خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
--------------
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری 
رابطہ: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا