تمہید
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب ہے، جو خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر نازل کی گئی۔ یہ صرف ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت، نصیحت اور کامیابی کا کامل دستورِ حیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے، اس لیے یہ کتاب ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾
"بے شک ہم نے ہی یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"
(سورۃ الحجر: 9)
قرآن کریم کی عظمت

قرآن کریم وہ کتاب ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس میں عقیدہ، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے بہترین رہنمائی موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿هَذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ﴾
"یہ لوگوں کے لیے واضح بیان، ہدایت اور اہلِ تقویٰ کے لیے نصیحت ہے۔"
(سورۃ آل عمران: 138)
قرآن کی تلاوت، اس پر غور و فکر اور اس پر عمل انسان کی دنیا و آخرت سنوار دیتا ہے۔
قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق
ہر مسلمان کا قرآن کے ساتھ مضبوط تعلق ہونا چاہیے۔ صرف رمضان میں یا خاص مواقع پر تلاوت کافی نہیں، بلکہ روزانہ قرآن پڑھنا، اس کا ترجمہ سمجھنا اور اس کی تعلیمات کو زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((خیرُکم من تعلّم القرآنَ وعلّمہ))
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔"
(صحیح بخاری)
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کی تعلیم حاصل کرنا اور اسے آگے پہنچانا بہترین اعمال میں سے ہے۔
ہماری ذمہ داریاں
قرآن کریم کے حوالے سے ہر مسلمان پر چند اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
1. باقاعدہ تلاوت کرنا:
روزانہ کچھ نہ کچھ قرآن ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے تعلق قائم رہے۔
2. قرآن کو سمجھنا:
صرف تلاوت ہی کافی نہیں بلکہ ترجمہ اور تفسیر کے ذریعے اس کا مفہوم بھی سمجھنا چاہیے۔
3. قرآن پر عمل کرنا:
اصل کامیابی اسی میں ہے کہ ہم قرآن کے احکام پر عمل کریں، حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھیں۔
4. دوسروں تک قرآن کا پیغام پہنچانا:
اپنے گھر والوں، دوستوں اور معاشرے کو قرآن کی تعلیمات سے روشناس کرانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
5. قرآن کا ادب و احترام کرنا:
قرآن کی تلاوت باوضو کرنا (جمہور کے نزدیک مستحب)، اسے پاک جگہ رکھنا، احترام کے ساتھ سننا اور اس کی بے ادبی سے بچنا ایمان کا تقاضا ہے۔
آج کا المیہ

آج بہت سے مسلمان قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن اس کے معنی، احکام اور پیغام سے غافل ہیں۔ ہماری زندگیوں میں بے سکونی، اختلافات اور اخلاقی کمزوریاں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ ہمیں دوبارہ قرآن کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔
نتیجہ
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور انسانیت کے لیے مکمل ہدایت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کامیاب ہو تو ہمیں قرآن کو صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا دستور بنانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔