🌸🌿🌸🌿🌸🌿🌸
✨"وہ بھی تو کسی کی بیٹی ہے"✨
آج شام چائے بناتے ہوئے میرا ہاتھ جل گیا۔
درد سے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
والد صاحب نے دیکھا تو فوراً میرا ہاتھ تھام لیا—
ایسے جیسے اُن کا اپنا ہاتھ جل گیا ہو…
سارے گھر کی پریشانی یک دم بدل گئی۔
چائے کی پیالی ایک طرف کر دی گئی،
مرہم ڈھونڈا گیا،
پیار سے لگایا گیا،
اور ساتھ ہی امّی پر خفگی بھی ظاہر ہو رہی تھی:
"کیوں بھیجتی ہیں اسے کچن میں؟
کتنی بار کہا ہے اس سے کوئی کام نہ کروایا کریں!"
امّی خاموش تھیں۔
ان کی آنکھوں میں بھی تکلیف تھی،
لیکن ان کے دل میں ایک اور دکھ چھپا تھا—
وہ آہستہ سے بولیں:
"خوشی سے تھوڑی بھیجتی ہوں…
مگر کل کو اس گھر سے جانا ہے،
لوگ کیا کہیں گے اگر کچھ سکھایا نہ ہو؟"
میں ان کی آواز میں وہ درد محسوس کر رہی تھی
جو شاید کوئی نہیں سنتا۔
ابّا نے سختی سے کہا:
"لوگ کچھ بھی کہیں، مگر یہ اب کچن میں نہیں جائے گی!"
مجھے خوش ہونا چاہیے تھا…
مگر میں نہ ہو سکی۔
میری نظر تو بس امّی کے ہاتھوں پر تھی۔
وہ ہاتھ جن پر سبزی کاٹتے ہوئے بنے نشانات تھے…
جن پر چولہا جلنے کے زخم تھے…
جن پر چھری کے تازہ کٹ کا درد ابھی تک چھپا بیٹھا تھا…
ایسے ہاتھ جو خاندان کی راحت کا بوجھ اُٹھاتے اُٹھاتے تھک چکے تھے—
مگر کبھی کسی نے پوچھا بھی نہیں کہ…
"آپ ٹھیک ہیں…؟"
میں ابّا سے کہنا چاہتی تھی:
ابّا…!
یہ بیوی ہے مگر کسی کی بیٹی بھی تھی۔
اس کے ابّا نہیں رہے تو کیا ہوا؟
اس کے درد کو محسوس کرنے والا کوئی تو ہونا چاہیے…
آپ بیٹی کی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں—
مگر جو عورت روز انہی تکلیفوں سے گزرتی ہے،
اُس کا درد کون سمجھے گا؟"
کاش…
دنیا کے سارے مرد
جس حساسیت سے اپنی بیٹی، بہن اور ماں کا خیال رکھتے ہیں،
اگر اسی محبت، اسی نرمی اور اسی فکر سے
اپنی بیوی کو بھی دیکھ لیں—
تو یقین کریں…
گھر کی بہت سی عورتیں…
واقعی "جیتے جی" جی اُٹھیں۔
✨پڑھنے والوں کے نام—ایک جھنجھوڑ دینے والا پیغام✨
اے مرد!
ذرا ایک لمحہ رک کر سوچ…
کیا کبھی تجھے اپنی بیٹی کا درد محسوس ہوا ہے؟
ہاتھ جل جائے تو تڑپ اٹھتا ہے،
ذرا سی خراش آئے تو دنیا اُلٹ دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔
لیکن…
کیا کبھی اپنی بیوی کے درد کو بھی یونہی محسوس کیا ہے؟
کبھی دیکھا اس کے ہاتھ بھی جلتے ہیں؟
چولہے کی آگ اسے بھی جلا دیتی ہے…
چھری اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتی ہے…
گرم برتن اسے بھی تکلیف دیتے ہیں…
مگر تیرے دل میں وہ سوز، وہ تڑپ کیوں پیدا نہیں ہوتی؟
کیا وہ مخلوق نہیں؟
کیا وہ کسی کی بیٹی نہیں؟
کیا وہ درد محسوس نہیں کرتی؟
کیا وہ تیرے دل میں نرمی کے قابل نہیں؟
کبھی پیار سے اسے سراہا؟
کبھی نرمی سے اس کی بات سمجھی؟
کبھی اس کے ہاتھ پکڑ کر کہا:
"میں ہوں… تو اکیلی نہیں"؟
اگر تو واقعی ایسا کرتا ہے—
جان لے تو کامیاب مرد ہے۔
لیکن اگر…
تجھے اس کی تکلیف نظر نہیں آتی،
تو نے کبھی اس کی طرف توجہ نہیں دی،
کبھی اس کی تھکن کو محسوس نہیں کیا،
صرف اس سے کام لیتا رہا،
اسے نوکرانی سمجھا…
تو رک جا!
سوچ لے!
تیرا مقام کیا ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ تُو خود ہی…
ظالم بن چکا ہے؟
یاد رکھ—
بیوی ہے،
نوکرانی نہیں!
اور اے مرد!
تجھے بھی اللہ کے حضور پیش ہونا ہے،
اللہ کے ہاں حساب ہوگا،
سوال ہوگا:
"میں نے اسے تیرے سپرد کیا تھا…
تو نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟"
آج سوچ لے…
کل دیر ہو جائے گی۔
🌿🌸🌿🌸🌿🌸🌿