*کیا واقعی خدا موجود ہے؟*
یہ کائنات، جو لامحدود وسعتوں، بے شمار کہکشاؤں، پیچیدہ قوانین، اور بے مثال حسن سے بھری ہوئی ہے، کیا یہ محض اتفاقیہ طور پر وجود میں آ گئی؟ کیا زندگی، شعور، اور انسانی عقل بغیر کسی خالق کے پیدا ہو سکتی ہے؟ کیا تمام قدرتی قوانین خود بخود وجود میں آ سکتے ہیں؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خدا کا وجود صرف ایک تصور ہے، جبکہ کچھ اسے عقلی، سائنسی اور مذہبی حقیقت سمجھتے ہیں، آج انہی سوالات کا تجزیہ کرتےہیں، انشاءاللہ العزیز۔
سوال اول : کیا کائنات خود بخود بنی ہے؟
الــجــواب بـعـون الـمـلـک الوھـاب:
الــــــــــزامــــــــی جــــــــــــــواب:
کائنات میں ہر چیز کسی نہ کسی سبب سے وجود میں آئی ہے،کچھ بھی بغیر کسی وجہ کے نہیں بنا اور نا ہی خود بنا اگر قائلین اب بھی قائل ہیں اپنے آپ دنیا کے وجود کے تو پھر کیا کہیں گے مرضوں کے بارے میں یہ کہاں سے آتی ہے اور پھر درست کیوں ہو جاتی ہے؟
عــــــــقــــــلــــــــي دلــائـــــــــــــــــل:
(1) اگر آپ کے گھر کی گھنٹی بجے، تو آپ فوراً سوچیں گے کہ کسی نے بجائی ہوگی۔
(2) اگر کسی سڑک پر ایک گاڑی کھڑی ہو، تو آپ فرض کریں گے کہ کسی نے اسے وہاں پارک کیا ہوگا اور یہ فرض الیقین ہے۔
یہی اصول پوری کائنات پر بھی لاگو ہوتا ہے،یہ عظیم کائنات کسی نہ کسی وجہ سے بنی ہے،اور وہ پہلی وجہ خود ایک غیر مخلوق ہستی ہونی چاہیے، جسے کسی نے پیدا نہ کیا ہو، جو مصنوع نا ہو ، بلکہ صانع ہو، اور وہ ذات اللہ تعالیٰ ہے۔
ملحد کا اعتراض:اگر ہر چیز کو کسی نے پیدا کیا ہے، تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟
الجـــــــــــــــــــــــــواب بتــــــوفيق الملـــــــــک الوھاب.
الــــزامــــــــــی جــــــــــــــــــواب: یہ سوال اس بنیاد پر غلط ہے کہ ہر چیز کو کسی نے پیدا کیا یہ ایک غلط مفروضہ ہے، ہر وہ چیز جو ممکن الوجود ہو، اسے کوئی خالق چاہیے، لیکن اللہ واجب الوجود ہے، یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور اس کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ اختتام تو یہ سوال سرے سے ہی غلط ہے اور قابل تسلیم نہیں مگر پھر بھی عقل کے اندھے لوگ مغلظات بھونکتے ہیں۔
نقلـــــــــــــــــــی دلیـــــــــــــــــــــل:
قرآن میں فرمایا اللہ رب الــــعـــزت نے:
قُلْ هُوَ اللَّہ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
فرمادو اے محبوبﷺ! وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔
اگر ہم ہر چیز کے لیے ایک خالق مانگتے جائیں،اور کہیں پھر اسکو کس نے پیدا کیا ،پھر اس کو کس نے ،پھر اسکو کس نے،تو ایک لامحدود تسلسل بن جائے گا، جو عقلی طور پر ممکن نہیں، لہٰذا ایک ایسی ہستی کا ہونا ضروری ہے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو، اور وہ اللہ رب العالمین ہے۔
(الدرر الفرائد فی خلاصۃ شرح العقائد النسفی)
سوال دوم : کیا کائنات کا نظم و ضبط خود بخود ہے؟
عقلــــــــــــی دلیــــــــــــــــــــــــــل: یہ کائنات انتہائی پیچیدہ اور منظم ہے،ہر چیز ایک خاص ترتیب سے بنی ہوئی ہے، زمین سورج سے بالکل صحیح فاصلے پر ہے، اگر یہ زیادہ قریب ہوتا تو کائنات جل جاتی، اور اگر زیادہ دور ہوتا تو منجمد ہو جاتی،تو معلوم ہوا اسے ترتیب سے کرنے والی کوئی ذات ہے اسی کو اللہ واجب الوجود کہا جاتا ہے، انسانی دماغ، دل، اور آنکھ جیسے پیچیدہ اعضا خود بخود نہیں بن سکتے، اگر بن سکتے ہیں تو کوئی انسان کا بال بنا کے دکھائے یا کائنات کے سائنسدان آج تک کسی اندھے آدمی کی بنائی کو واپس نا کر سکے یہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے۔
مـــلــــــحـــــــــد کـا اعـــتــــراض: یہ سب نیچرل سیلیکشن ( قدرتی انتخاب) اور ایوولیوشن (ارتقاء) کے ذریعے ممکن ہوا ہے، اس میں خدا کی ضرورت نہیں۔
الجــــواب بـعـون المـلـک الوھـــاب: قدرتی انتخاب ایک سائنسی عمل ہے، مگر ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی اصول ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ: نیچرل سیلیکشن کے قوانین کس نے بنائے؟
کششِ ثقل، الیکٹرو میگنیٹزم، اور دوسرے قوانین کیسے وجود میں آئے؟
یہ سب کسی خالق کے بغیر ممکن نہیں، عدم وجود خدا کے قائل بھی خود بیان نہیں کر سکتے بس انکو اس علاوہ نہیں آتا کہ خدا نہیں ہے اگر بات کی جائے تو پھر گھوم ناپتے ہیں، اگر علم تو جواب دو میں پوری زندگی جواب کا منتظر ہوں۔
نقلـــــــــــی دلیـــــــــــــــــــــــــل:قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک خاص اندازے کے ساتھ پیدا کیا۔
سوال سوم : کیا اخلاقیات خدا کے بغیر ممکن ہیں؟
عـــقلـــــــــــــــــی دلـــــائـــــــــــــــل: دنیا میں ہر جگہ اخلاقیات موجود ہیں،مثال کے طور پر، جھوٹ برا سمجھا جاتا ہے،ہر جگہ، ہر دھرم،ہر معاشرے میں، قتل کو غلط سمجھا جاتا ہے ہر دھرم، ہر سوسائٹی میں، انصاف کو اچھا سمجھا جاتا ہے ہر جگہ، پلاٹ فارم پر،یہ قوت کس نے عطا فرمائی وہی اللہ رب العزت کی ذات ہے۔
ملحدین سے میرا سوال ہے کہ اگر خدا نہ ہو تو اچھائی اور برائی کے یہ اصول کہاں سے آئے؟ اور ہر دھرم، ہر سوسائٹی، ہر معاشرے میں ایک سے کیوں الگ الگ کیوں نہیں، عقل کا تقاضہ تو یہ ہے کہ جب اسلام میں جھوٹ کو غلط سمجھا جاتا ہے تو کسی اور دھرم میں اچھا سمجھا جائے یا اتنے مذاہب پائے جاتے ہیں کسی ایک میں تو انصاف کو برا سمجھا جائے مگر ایسا بالکل نہیں، جواب دیں ملحدین؟
ملحد کا اعتراض:اخلاقیات انسانی معاشرت کا نتیجہ ہیں، انہیں کسی خدا نے نہیں بنایا۔
الجــــواب بتوفيق الله العزيز العلَّام: اگر اخلاقیات صرف انسانی معاشرے کی ایجاد ہوتیں، تو ہر قوم کے اصول مختلف ہوتے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے ہر معاشرے میں بنیادی اخلاقیات ایک جیسی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے پیچھے ایک برتر ہستی کا ہاتھ ہے،اور کوئی تو ہے جس نے تمام کائنات کے اندر صرف یہی چیز رکھی ہے، ورنہ فطری اعتبار سے ہر انسان الگ ہوتا ہے، تو جو ظلم نہیں کرتے انہیں ظلم برا لگتا، لیکن جو ظلم کرتے ہیں تو انہیں اچھا لگنا چاہیے تھا جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہر ایک ہی اسکو غلط سمجھتا ہے حد تو یہ ہے کہ غلط کرنے والا بھی خود سمجھتا ہے ہاں میں نے غلط کیا ہے، تو آپکا بنایا ہوا مفروضہ تو باطل ہے پھر کس منہ سے غلط بولتے ہو شرم نہیں آتی۔
سوال چہارم: کیا انسان فطری طور پر خدا کو پہچانتا ہے؟
الجــــــــواب بعــــــون الــلـــــہ الملک:
عقلـــــــــــی دلیــــــــــــــــــــــــــل: ہر انسان کے اندر فطری طور پر خدا کا تصور موجود ہوتا ہے، جب وہ کسی مشکل میں ہوتا ہے تو وہ خود بخود اللہ کو یاد کرتا ہے،اور مدد کی درخواست کرتا ہے اورڈوبتا ہوا انسان اپنے بچانے کے لئے کسی کو پکارتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ کوئی بچا لیگا بیچ سمندر میں بھی وہی خدا ہے لیکن اسکی معرفت مفقود ہوتی ہے وہ سمجھتا نہیں، لیکن اسے یقین ہوتا ہے کہ کوئی ہے ایسا جو بچا لے گا، جب ایک جہاز طوفان میں پھنس جائے، تو سب مسافر اللہ کو پکارتے ہیں، چاہے وہ پہلے خدا کو مانتے ہوں یا نہیں،اور آس لگائے ہوتے ہیں کہ کوئی ہے جو بچا سکتا ہے،جب کوئی بہت شدید تکلیف میں ہوتا ہے، تو وہ بے اختیار دعا کرتا ہے اور رحم کی بھیک مانگتا ہے ظاہر ہے کوئی تو ہوگا جس سے وہ مدد مانگے گا وہی ذات اللہ جلَّ شانہ کی ہے،مگر جس کی عقل پر پتھر ہو اسے کون سمجھا سکتا ہے۔
مـــــلـــحــــــد کــــا اعـــــتــــراض:یہ بس انسانی دماغ کا ایک نفسیاتی ہے، حقیقت میں کوئی خدا نہیں ہے۔
الجـــــواب بعـــــــون المـــــلک الغفار: اگر یہ محض ایک نفسیاتی اثر ہوتا، تو ہر انسان میں یہ یکساں نہ ہوتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان فطرتی طور پر اللہ کو مانتا ہے۔
قرآن میں اللہ فرماتا ہے:وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ: جب تمہیں سمندر میں مصیبت آتی ہے، تو تم صرف اللہ کو پکارتے ہو۔
جب ایک ایماندار اور غیر متعصب انسان ان تمام دلائل پر غور کرے، تو وہ خود کہے گا: ہاں، واقعی یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہو سکتا،کوئی نہ کوئی خالق ہے، اور وہی خدا ہے۔
لہٰذا، اے عقل و علم کے متلاشیو اللہ کے وجود کو پہچانو، کیونکہ وہی حقیقت ہے، أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ؟ کیا اللہ کے بارے میں کوئی شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟
اللہ کریم ملحدین کے ناپاک ارادوں سے ہمیں محفوظ فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
طالــــــب دعائــے خـــــــیــــــر
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*