تعلیم کے لیے آواز اٹھانے والوں کو گمراہ کہنا قوم کے مستقبل سے ناانصافی ہے

"اقرأ" سے شروع ہونے والا اسلام کا پہلا پیغام اس حقیقت کا اعلان ہے کہ علم ہی انسان اور معاشرے کی اصل طاقت ہے۔ جس قوم نے علم کو اپنایا، اس نے دنیا کی قیادت کی، اور جس قوم نے علم کو نظر انداز کیا، وہ دوسروں کی محتاج بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر مہذب ریاست اپنے طلبہ کو قومی سرمایہ سمجھتی ہے، کیونکہ آج کا طالب علم ہی کل کا سائنس دان، جج، ڈاکٹر، انجینئر، استاد، صحافی اور ملک کا رہنما بنتا ہے۔

ایسے میں اگر یہی طالب علم اپنے مستقبل، اپنی تعلیم اور اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تو اس کی آواز کو سننا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ اسے "گمراہ" قرار دے کر اس کی جدوجہد کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ بیان کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ کو "گمراہ بچے" سمجھتے ہیں اور انہیں معاف کرتے ہیں، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاکھوں نوجوان امتحانی نظام، پیپر لیک اور تعلیمی بدانتظامی کے باعث شدید ذہنی دباؤ سے گزر رہے ہیں۔ اس بیان نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے:

آخر طلبہ کا قصور کیا ہے؟

کیا تعلیم کے لیے آواز اٹھانا گناہ ہے؟

کیا اپنے مستقبل کو بچانے کی کوشش کرنا گمراہی ہے؟

کیا اپنی برسوں کی محنت ضائع ہونے پر احتجاج کرنا جرم ہے؟

اگر ان سوالات کا جواب "ہاں" ہے تو پھر جمہوریت، انصاف اور آئینی حقوق کے تمام دعوے اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں۔

طلبہ گمراہ نہیں، نظام کے متاثرین ہیں

آج کا طالب علم محض ایک ڈگری حاصل کرنے کے لیے تعلیم حاصل نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے خوابوں کی تعمیر کے لیے محنت کرتا ہے۔ ایک طالب علم دن رات پڑھتا ہے، والدین اپنی جمع پونجی اس کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، خاندان اس کی کامیابی کی دعائیں کرتا ہے، لیکن جب امتحانات میں پیپر لیک جیسے واقعات سامنے آتے ہیں تو صرف ایک امتحان نہیں بلکہ لاکھوں خواب متاثر ہوتے ہیں۔

ایسے میں اگر نوجوان احتجاج کرتے ہیں تو وہ حکومت کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔

یہ کہنا کہ وہ "گمراہ" ہیں، دراصل ان لاکھوں طلبہ کی محنت اور قربانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

احتجاج جمہوریت کی طاقت ہے، کمزوری نہیں

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا نام بھی ہے۔

ہندوستان کا آئین شہریوں کو اظہارِ رائے اور پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ جب طلبہ انہی آئینی حقوق کے تحت اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں تو انہیں گمراہ کہنا ان آئینی اقدار کی روح کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔

اگر نوجوان اپنے حقوق کے لیے بھی آواز نہ اٹھائیں تو پھر وہ کس دروازے پر جائیں؟

جمہوریت میں احتجاج حکومت کے خلاف جنگ نہیں بلکہ حکومت کو اپنی ذمہ داری یاد دلانے کا ایک مہذب ذریعہ ہوتا ہے۔

تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہے

دنیا کا نقشہ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔

جاپان دوسری جنگِ عظیم میں تباہ ہو گیا تھا، لیکن اس نے سب سے پہلے تعلیم کو مضبوط کیا۔

جنوبی کوریا نے غربت سے نکلنے کے لیے تعلیم کو ہتھیار بنایا۔

فن لینڈ نے دنیا کا بہترین تعلیمی نظام قائم کیا اور آج اس کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔

جرمنی، سنگاپور اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کی بنیاد بھی مضبوط تعلیمی نظام ہے۔

یہ ممالک اپنے طلبہ کو "گمراہ" نہیں کہتے بلکہ انہیں قومی سرمایہ قرار دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر ہندوستان کو بھی ترقی یافتہ ملک بننا ہے تو کیا اس کے طلبہ کو عزت دی جائے گی یا ان کے سوالات کو گمراہی قرار دیا جائے گا؟

تعلیم بنیادی انسانی حق ہے

UNESCO بارہا اس بات پر زور دیتا ہے کہ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا تعلیمی نظام قائم کریں جس پر نوجوان اعتماد کر سکیں۔

جب امتحانی نظام پر سوالات اٹھتے ہیں، پیپر لیک ہوتے ہیں اور نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں پڑتا ہے تو حکومت کی اولین ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ ان مسائل کا مستقل حل نکالے، نہ کہ احتجاج کرنے والوں کی نیت پر سوال اٹھائے۔

اصل ذمہ داری کس کی ہے؟

اگر لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں نظام میں خرابی موجود ہے۔

حکومت کا فرض یہ نہیں کہ وہ صرف یہ کہے کہ نوجوان گمراہ ہیں، بلکہ اس کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا ہی نہ ہونے دے جن کی وجہ سے طلبہ احتجاج پر مجبور ہوں۔

شفاف امتحانی نظام، بروقت امتحانات، پیپر لیک کی روک تھام، ذمہ دار افراد کا احتساب اور طلبہ کے مستقبل کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

اگر ان ذمہ داریوں میں کوتاہی ہوگی تو احتجاج بھی ہوگا اور سوال بھی اٹھیں گے۔

قیادت کا امتحان اختلاف کے وقت ہوتا ہے

ایک وزیر اعظم صرف حکومت کا سربراہ نہیں بلکہ پوری قوم کا رہنما ہوتا ہے۔

اس کے الفاظ نوجوانوں کے حوصلے بھی بڑھا سکتے ہیں اور انہیں مایوس بھی کر سکتے ہیں۔

ایک عظیم رہنما وہ نہیں جو صرف اپنی تعریف سننا پسند کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو تنقید بھی سنے، اختلاف بھی برداشت کرے اور مسائل کا حل بھی پیش کرے۔

طلبہ اگر سوال کرتے ہیں تو انہیں دشمن نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ سوال کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں۔

طلبہ پر سختی مسئلے کا حل نہیں

یہ حقیقت ہے کہ احتجاج کے دوران قانون و نظم برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پُرامن طلبہ کے ساتھ غیر ضروری سختی سے گریز کیا جائے۔ جہاں کہیں بھی احتجاج سے نمٹنے میں طاقت کے استعمال یا لاٹھی چارج جیسے واقعات پیش آتے ہیں، وہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا نوجوانوں کی آواز سننے کے بجائے طاقت کا استعمال ایک جمہوری معاشرے کے شایانِ شان ہے؟

ریاست کی اصل قوت لاٹھی یا طاقت میں نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کے مسائل کو بات چیت، شفاف اصلاحات اور اعتماد سازی سے حل کرنا ہی ایک مضبوط جمہوریت کی پہچان ہے۔

ہندوستان کی ترقی کا راستہ

آج ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے۔

یہ نوجوان اگر تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور پُرامید ہوں گے تو ہندوستان دنیا کی بڑی طاقت بن سکتا ہے۔

لیکن اگر یہی نوجوان تعلیمی بے یقینی، امتحانی بدانتظامی اور مستقبل کے خوف میں مبتلا رہیں گے تو ترقی کے دعوے صرف تقریروں تک محدود رہ جائیں گے۔

ملک کی اصل ترقی بلٹ ٹرین، فلائی اوور یا بلند و بالا عمارتوں سے نہیں ہوتی۔

اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب ایک غریب طالب علم کو بھی یقین ہو کہ اس کی محنت ضائع نہیں ہوگی، اس کا امتحان شفاف ہوگا اور اس کی آواز کو عزت دی جائے گی۔

اختتامیہ

طلبہ کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہیں "گمراہ" کہنے سے پہلے ان کی بے چینی، ان کی محنت اور ان کے مستقبل کے خدشات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک مضبوط حکومت وہ نہیں جو اختلاف کرنے والوں کو کمزور ثابت کرے، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کی وجوہات کو ختم کرے۔

تعلیم کے لیے آواز اٹھانا نہ جرم ہے، نہ گناہ اور نہ گمراہی۔ یہ ہر باشعور شہری کا آئینی، اخلاقی اور انسانی حق ہے۔ اگر ہندوستان واقعی ایک ترقی یافتہ، مضبوط اور باوقار قوم بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے نوجوانوں کو سننا ہوگا، ان کے سوالات کا جواب دینا ہوگا اور انہیں قوم کا سرمایہ سمجھ کر ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہوگا۔

قومیں نوجوانوں کی خاموشی سے نہیں، بلکہ ان کی تعلیم، شعور اور آزاد آواز سے ترقی کرتی ہیں۔

----------------------

تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری 

پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا 

جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com