ایمان اللہ رب العزت کی سب سے بڑی نعمت ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العزت والجلال نے ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء کرام کو اسی ایمان کی اہمیت اور اسی ایمان کو قبول کرانے کے لیے دنیا میں مبعوث فرمایا اور انبیاء کرام نے اپنی عمر کا ایک طویل عرصہ لوگوں کے ایمان کی کوشش میں صرف کر دیا 

قران کریم کے واقعات اس بات پر شاہد ہے جو تفسیر کے کتابوں میں درج ہیں

: بہرحال

انسان کی کامیابی دائرہ ایمان میں ہے جو شخص دائرہ ایمان سے باہر ہو اگر وہ دنیاوی اعتبار سے کامیاب ہے تو شریعت کی نظر میں ، اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں اس کامیابی کی کوئی حیثیت نہیں ہے

 تمام انسان کی کامیابی اللہ رب العزت نے ایمان کی بنیاد پر رکھی ہے

 اگر کوئی انسان ساری زندگی اعمال صالحہ میں گزار دے مگر اس کے پاس ایمان کی نعمت عظمی نہیں ہے تو وہ بے کار ہے اس کے عمل کے اللہ رب العزت کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے بس وہ بے بنیاد ہے ،ہو سکتا ہے اللہ رب العزت اس کا کچھ بدلہ دنیا میں عنایت فرما دیں مگر آخرت میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، آیات وآثار سے بھی ایمان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا !

من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ 

جس نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا وہ جنت میں داخل ہوگا لیکن شرط یہ ہے کہ وہ بحالت ایمان اس دنیا سے گیا ہو

جس کے پاس ایمان نہیں ہے اس کا کوئی عمل اللہ رب العزت کے نزدیک اخرت کی کامیابی کے لیے حیثیت نہیں رکھتا ہاں اگر یہی ایمان کسی کے پاس ہے

تو وہ مقبول عند اللہ ہے

 ایمان کی دولت تمام دولتوں سے افضل ہے


 لیکن بڑا افسوس ہے دختران ملت پر جنہوں نے اپنی ناقص تعلیمی لیاقت اور کج فہمی کی بنیاد پر کچھ مال و زر، اسباب و وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنے ایمان کے سودا کرنے پر مجبور ہیں 

 مخلوط تعلیم اور سوشل میڈیا کی ناجائز تعلقات نے اس میں اپنا کردار بہت بہتر طریقے سے پیش کیا ہے جس کی وجہ سے دختران ملت اسلامیہ ایک ارتداد جیسی بیماری کا شکار ہے جس کا نقصان یہ ہے کہ ملت کا وقار اور اس کی اہمیت لوگوں کی نظر میں کم ہو گئی ہے

 آج بڑے تف کی بات ہے کہ ہمارے مسلمان دینی تعلیم سے دوری کی وجہ سے بے راہ روی اختیار کر رہے ہیں جب والدین خود دینی تعلیم سے بے بہرہ ہوں اور دین کے تعلق سے دانشمندی نہ پائی جاتی ہو بلکہ وہ کج فہمی کا شکار ہو تو اس کا نقصان ایک بدیہی امر ہے وہ لڑکیاں جو چند روپے کی خاطر وقتی لذتوں اور آسائشوں کی خاطر اپنے والدین کو بدنام کرنے اور اپنے مذہب کو اور اس کی تہذیبی و ثقافتی روایت کو جڑ سے مٹانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے

 یقینا اس کا انجام دنیاوی لحاظ سے بھی کچھ اچھا نہیں ہے اور اخرت کی تباہی تو یہ ایک فیصلہ کن امر ہے-

 میں ان تمام لوگوں سے گزارش کروں گا جو اپنے کسی بھی لڑکی کے ذمہ داری میں آتے ہیں خواہ وہ والد ہوں یا بھائی، ماں ہو یا بڑی بہن ماموں ہوں یا پھوپھی ب یا جس طریقے سے بھی اس کی نگرانی میں کوئی عورت ہے اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے، دینی تعلیم سکھانے کی ضرورت ہے -

 ایمان کیا ہے اس کی کیا اہمیت ہے ایمان کسے کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کیا ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں کیا ہیں ایمان کے سلسلے میں صحابہ کرام نےکس طرح جد وجہد کی ہے، دین کو کس طرح سے ہم تک پہنچایا ہے، یہ ساری وہ باتیں ہیں جس کو اگر ہم اپنے دختر ملت اسلامیہ کے سامنے پیش کریں گے تو یقینا ان کا دل نرم ہوجائے گا اور ایمان پر قائم رہے گی-

ایک خرابی یہ بھی ہے کہ تعلیم کے نام پر ہم اپنے دختران کو بے لگام اور مطلق العنان چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خود کو اپنی رائے میں آزاد اور خود مختار سمجھتی ہے اور وہ ایسا فیصلہ کر جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک گھر کے افراد نہیں بلکہ ایک پورا خاندان اس سے بھی آگے بڑھ کر پورا معاشرہ بدنام ہوتا ہے ،

دینی تعلیم سے دوری قران و حدیث سے دوری ،اخلاقیات سے دوری ،ایمان سے ناواقفیت یہ سب وہ اسباب ہے جس نے ہماری باطنی طاقت، ایمانی قوت اور فکری صلاحیت کو شکستگی کے کنویں میں ڈال دیا ہے اس لیے تمام ملت اسلامیہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے گھر کے افراد پر توجہ دیں ورنہ کل قیامت کے دن ہم اپنے بہن بیٹیوں کے تعلق سے جواب دہ ہوں گے اور اس وقت ہم چاہیں گے بھی کہ بچ جائیں مگر اپنی کی ہوئی اس سنگین جرم کی وجہ سے بچ نہیں پائیں گے

 ہمیں دونوں نظریے کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا جس کی کوششوں سے آج کے بعد سے ہماری کوئی بہن بیٹی ،دختران ملت اسلامیہ ایمان جیسی نعمت عظمی سے محروم نہ ہو


 چونکہ بارہا ویڈیو کی شکل میں دیکھا گیا ہے کہ یہ ناہنجار قسم کے لوگ پیار و محبت اور عشق کے جال میں پھنسا کر، دھوکے میں ڈال کر انہیں گمراہ کر کے اپنے سامان بستر بناتے ہیں اور لذتوں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ،ان کے جسم سے فائدہ اٹھانے کے بعد ان کو بے سہارا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں پھر یہی بیٹیاں یا تو خود کشی کر لیتی ہے یا ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہے یا خود کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے، جس سے دنیاوی اور اخروی نقصان دونوں جھیلنا پڑتا ہے اس لیے ہماری بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس کے بعد سوائے افسوس کے اور کچھ ہاتھ نہ لگے -


اللہ تعالی ملت اسلامیہ اور دختران کو صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ایمان کی اہمیت کو قلب کے اندر راسخ اور پیوست فرمائے امین


🖊️ذوق خامہ 📚


گل رضاراہی ارریاوی