اسلام کے حق میں مثبت رائے عامہ کی مثبت تبدیلی —
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (114)
الحمد للہ رب العالمین، نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ، ونؤمن بہ ونتوکل علیہ، ونصلی ونسلم علی سیدنا محمد، خاتم النبیین، وإمام المتقین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، ومن تبعہم بإحسان إلی یوم الدین۔
انسانی تاریخ میں بے شمار نظریات آئے، تہذیبیں ابھریں، سلطنتیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں۔ انسان نے اپنی عقل کی بنیاد پر ایسے بہت سے نظام وضع کیے جو وقتی طور پر دلکش دکھائی دیے، مگر وقت کی کسوٹی پر پورے نہ اتر سکے۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جو چودہ صدیوں سے ہر آزمائش، ہر طوفان، ہر سازش اور ہر مخالفت کے باوجود پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے، اور وہ اسلام ہے؛ وہ دین جسے نہ کسی انسان نے گھڑا، نہ کسی قوم نے بنایا، بلکہ جسے ربِ کائنات نے اپنی آخری ہدایت کے طور پر نازل فرمایا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾
"بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔" (آل عمران: 19)
اسلام کسی مخصوص قوم، نسل، زبان یا خطے کا مذہب نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت، ہدایت اور کامیابی کا عالمگیر منشور ہے۔ اس کی بنیاد عدل پر، روح رحمت پر، مزاج اعتدال پر، اور مقصد انسان کو بندوں کی غلامی سے نکال کر صرف ایک اللہ کی بندگی سے جوڑنا ہے۔ یہی وہ دین ہے جس نے غلام کو عزت بخشی، عورت کو وقار عطا کیا، کمزور کو تحفظ دیا، مظلوم کو انصاف فراہم کیا، اور پوری انسانیت کو یہ اعلان سنایا کہ اصل فضیلت رنگ، نسل یا قوم میں نہیں بلکہ تقویٰ میں ہے۔
اسی لیے قرآنِ کریم نے اس امت کو یہ عظیم اعزاز عطا فرمایا:
﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ﴾
"اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل اور بہترین امت بنایا تاکہ تم تمام انسانوں پر حق کے گواہ بنو۔" (البقرۃ: 143)
یہ اعزاز محض ایک لقب نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے کردار، اخلاق، دعوت، معاملات اور اجتماعی زندگی کے ذریعے اسلام کی سچی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔"
صحيح البخاري/كتاب المناقب/ باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:حدیث: 3559]
گویا اسلام کی سب سے مؤثر دعوت صرف زبان سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔ ایک سچا مسلمان اپنے اخلاق سے دل جیتتا ہے، اپنے عدل سے اعتماد پیدا کرتا ہے، اپنی امانت سے معاشرہ سنوارتا ہے، اور اپنی رحمت سے اسلام کا صحیح تعارف کراتا ہے۔
یہاں ایک اہم حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اگرچہ اس نشست کا عنوان "اسلام کے حق میں مثبت رائے عامہ کی تبدیلی " تھا، لیکن علمی اعتبار سے اسلام کو مثبت رائے عامہ کا محتاج سمجھنا درست نہیں۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرے، اسلام پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے، یا لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرے، تو اہلِ ایمان کا کام اسلام کے حق میں رائے عامہ جمع کرنا نہیں، بلکہ کتاب و سنت اور مضبوط عقلی و نقلی دلائل کے ذریعے ان شبہات کا ازالہ کرنا اور حق کو اس کی اصل صورت میں واضح کرنا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب، نقص اور کمزوری سے منزہ ہے، اور اسلام اسی ربِ ذوالجلال کا پسندیدہ، آخری اور کامل دین ہے۔ اسلام اپنی حقانیت، الٰہی تعلیمات اور ابدی اصولوں کے اعتبار سے کسی انسانی تائید، مقبولیت یا رائے کا محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو ہر اعتبار سے کامل، فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور قیامت تک کے لیے محفوظ بنا دیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَامَ دِينًا﴾
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔" (المائدۃ: 3)
اور دوسری جگہ فرمایا:
﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَافِظُونَ﴾
"بے شک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے، اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔" (الحجر: 9)
البتہ امتِ مسلمہ کی یہ عظیم دینی، دعوتی اور علمی ذمہ داری ضرور ہے کہ اسلام کے خلاف سرگرم پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے پھیلائے ہوئے شکوک، غلط فہمیوں، تعصبات اور بے بنیاد الزامات کا حکمت، حسنِ اخلاق اور مضبوط قرآنی، حدیثی، عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ مؤثر ازالہ کرے، اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دنیا کے سامنے واضح کرے، اور اپنے کردار و عمل سے اس کی صحیح، روشن اور متوازن تصویر پیش کرے۔ اس مقصد کے لیے اہلِ علم کا باہمی مشورہ، مؤثر حکمتِ عملی کی تشکیل اور مناسب ذرائع کا اختیار کرنا نہ صرف درست بلکہ عصرِ حاضر کی اہم دینی ضرورت، سنتِ نبوی ﷺ کا تقاضا اور علماءِ امت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسی احساس کو تازہ کرنے اور اسی ذمہ داری کی یاد دہانی کے لیے " کل بروز جمعرات 30 جولائی 2026ءکو اسلام کے حق میں مثبت رائے عامہ کی تبدیلی " کے عنوان سے علماءِ کرام کی ایک نہایت اہم، فکر انگیز اور بصیرت افروز نشست (bift ہال دارالسلام بنگلور) منعقد ہوئی۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم نے عصرِ حاضر کے اس نہایت حساس موضوع پر نہایت سنجیدہ اور قابلِ قدر گفتگو فرمائی۔
الحمد للہ، اس علمی و فکری مجلس میں ناچیز کو بھی شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس نشست کا کلیدی خطاب جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر، مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی صاحب نے فرمایا۔ ان کا خطاب نہایت متوازن، حکیمانہ، درد مندانہ اور حقیقت پسندانہ تھا۔ انہوں نے بڑی بصیرت کے ساتھ واضح کیا کہ موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ تمام فقہی اختلافات ختم کر دیے جائیں، کیونکہ علمی اختلاف ہمیشہ سے امت کی علمی روایت کا حصہ رہا ہے؛ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد، تنوع کے باوجود اخوت، اور مسلکی وابستگی کے باوجود ملتِ اسلامیہ کے مشترکہ مفادات کو مقدم رکھا جائے۔
انہوں نے نہایت مؤثر انداز میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ جب اختلاف علمی حدود میں رہتا ہے تو وہ امت کے لیے رحمت، وسعتِ نظر اور فقہی بالیدگی کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن جب یہی اختلاف تعصب، تحقیر، نفرت اور انتشار میں بدل جاتا ہے تو امت کی قوت کے بجائے اس کی کمزوری بن جاتا ہے اور دشمنانِ اسلام کے عزائم کو تقویت پہنچاتا ہے۔
قرآنِ کریم نے اسی لیے فرمایا:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾
"سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ".
"مومن، مومن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔" پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست فرما کر اس کی عملی مثال پیش کی۔
(صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2446])
حقیقت یہ ہے کہ اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود مشترکہ بنیادوں پر جمع ہو جانا ہے۔ امت کی قوت اس بات میں نہیں کہ سب ایک ہی فقہی رائے اختیار کر لیں، بلکہ اس میں ہے کہ سب ایک ہی کلمے، ایک ہی قرآن، ایک ہی رسول ﷺ اور ایک ہی قبلے کی بنیاد پر ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں۔
یہی قرآن کا مزاج، سنت کا پیغام اور موجودہ حالات کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔
اسلام کی تاریخ کا ہر ورق اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جس دن سے آفتابِ اسلام طلوع ہوا، اسی دن سے باطل نے اس نورِ ہدایت کو بجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مکہ کے مشرکین نے کبھی رسولِ اکرم ﷺ کو شاعر کہا، کبھی کاہن، کبھی جادوگر، کبھی مجنون، اور نعوذ باللہ کبھی جھوٹا قرار دیا۔ مدینہ میں منافقین نے اندرونی محاذ کھولا، یہود نے عہد شکنی، پروپیگنڈے اور فکری سازشوں کا جال بچھایا، اور بعد کے ہر دور میں باطل نے اپنے اپنے انداز سے اسلام کے خلاف صف آرا ہونے کی کوشش کی۔
لیکن تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید فیصلہ یہ بھی ہے کہ باطل کے تمام ہتھیار بدلتے رہے، مگر اسلام کی صداقت نہ بدلی؛ حملوں کی نوعیت بدلتی رہی، مگر حق کی روشنی کبھی مدھم نہ ہوئی، کیونکہ یہ دین کسی انسان کا بنایا ہوا نظریہ نہیں بلکہ اس رب کا نازل کردہ نظام ہے جس نے خود اعلان فرمایا:
﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾
"وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا، خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔" (الصف: 9)
اسلام کے خلاف یہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی، بلکہ قلم، زبان، تہمت، افواہ، کردار کشی، فکری یلغار، تہذیبی یورش اور ابلاغی ذرائع کے ذریعے بھی مسلسل جاری رہی، اور آج اس نے پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور ہمہ گیر شکل اختیار کر لی ہے۔
سوشل میڈیا، بعض ذرائع ابلاغ، فلموں، ویب سائٹس اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں۔ کبھی اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی ناموسِ رسالت ﷺ پر حملے کیے جاتے ہیں، کبھی امہات المؤمنین، خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزہ سیرت کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، اور کبھی مساجد، مدارس، حجاب، اذان اور دیگر اسلامی شعائر کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بعض مقامات پر مذہبی منافرت، ہجومی تشدد، بے بنیاد الزامات یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث مسلمانوں کو سخت آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات یقیناً صبر، حکمت، آئینی جدوجہد اور باہمی اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں۔
لیکن اگر ہم انصاف کے ساتھ اپنا محاسبہ کریں تو ایک تلخ حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان دشمنوں کی سازشوں سے پہنچانے کی کوشش کی گئی، بعض اوقات اتنا ہی نقصان مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں، باہمی انتشار، اخلاقی زوال، جہالت، بدعنوانی، فرقہ وارانہ تعصب اور دین سے عملی دوری نے بھی پہنچایا ہے۔
دنیا اسلام کو صرف ہماری کتابوں سے نہیں پڑھتی بلکہ ہمارے کردار سے بھی پہچانتی ہے۔ اگر مسلمان سچائی، امانت، عدل، دیانت، حسنِ اخلاق اور رحم و شفقت کا پیکر بن جائے تو وہ خاموش رہ کر بھی اسلام کا بہترین داعی بن جاتا ہے، اور اگر اس کا کردار اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو تو اس کی زبان سے کی جانے والی تبلیغ بھی اپنا اثر کھو دیتی ہے۔
اسی لئیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: _ بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ".
"میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاق کے بہترین اوصاف کو مکمل کر دوں۔"
(مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5096)
آج امتِ مسلمہ بیرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ اندرونی آزمائشوں میں بھی گھری ہوئی ہے۔ کہیں ارتداد کی لہریں ہیں، کہیں الحاد اور مادہ پرستی کا سیلاب، کہیں اخلاقی بے راہ روی ہے، کہیں خاندانی نظام کمزور ہو رہا ہے، کہیں فرقہ واریت امت کی قوت کو کھا رہی ہے، اور کہیں نئی نسل فکری انتشار اور دینی بے سمتی کا شکار ہے۔ گویا ہر میدان امت کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر رہا ہے۔
ایسے حالات میں محض جذباتی نعروں سے کام نہیں چلے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت علم سے مسلح ہو، فکر میں پختگی پیدا کرے، کردار میں اخلاص پیدا کرے، دعوت میں حکمت دور اندیشی اختیار کرے، اور اختلافات کے باوجود اپنے مشترکہ دینی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائے۔
قرآنِ کریم نے اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾
"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔" (النحل: 125)
یہی وہ راستہ ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح، منصفانہ اور حقیقت پر مبنی رائے قائم کرتا ہے، کیونکہ دل نفرت سے نہیں بلکہ حکمت، حسنِ اخلاق اور کردار سے جیتے جاتے ہیں۔
ایسے نازک اور فیصلہ کن حالات میں امت کے ہر طبقے پر عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ اسلام کی صحیح نمائندگی صرف بیانات، سیمیناروں اور کانفرنسوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے کردار، علم، حکمت اور اجتماعی شعور درکار ہے۔
سب سے پہلے علماءِ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی خالص تعلیمات کو حکمت، بصیرت اور اعتدال کے ساتھ عام کریں، امت کے عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاملات کی صحیح رہنمائی کریں، نئی نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا مضبوط علمی جواب دیں، اور
منبر و محراب کو اختلافات کی آگ بھڑکانے کے بجائے دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنائیں۔ انہیں یہ احساس بھی تازہ کرنا ہوگا کہ فقہی تنوع امت کا علمی سرمایہ ہے، مگر اتحادِ امت اس کی اجتماعی قوت ہے۔
دانشورانِ ملت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمانے کی فکری یلغار کو سمجھیں، جدید ذرائع ابلاغ اور مؤثر زبان میں اسلام کی معقول، مدلل اور باوقار ترجمانی کریں، نوجوان نسل کی فکری رہنمائی کریں، اور ایسا علمی سرمایہ تیار کریں جو اسلام کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات کا مضبوط جواب بن سکے۔
سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کے اعتماد کو ذاتی مفادات کی نذر نہ کرے، بلکہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر مظلوم، ہر کمزور اور ہر محروم کی آواز بنے، انصاف، مساوات اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بے خوف کھڑی ہو، اور ملک و ملت کے وسیع تر مفاد کو ہر ذاتی، جماعتی اور انتخابی مفاد پر مقدم رکھے۔
اسی طرح عوام کی ذمہ داری بھی کسی سے کم نہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے دین کا بنیادی علم حاصل کرے، اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کو اولین ترجیح بنائے، سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبروں، اشتعال انگیز مواد اور فرقہ وارانہ نفرت سے خود بھی بچے اور دوسروں کو بھی بچائے، اور اپنے اخلاق، معاملات، تجارت، ہمسائیگی اور معاشرت میں اسلام کا عملی نمونہ بنے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کی سب سے مؤثر دعوت ایک مسلمان کا کردار ہے۔ اگر مسلمان سچا ہو تو اس کی سچائی اسلام کی دعوت بن جاتی ہے، اگر وہ امانت دار ہو تو اس کی امانت اسلام کی ترجمان بن جاتی ہے، اگر وہ عادل ہو تو اس کا انصاف اسلام کا تعارف بن جاتا ہے، اور اگر وہ خوش اخلاق اور رحم دل ہو تو اس کی زندگی خاموش دعوت بن جاتی ہے۔
اسلام کو ہمارے دفاع سے زیادہ ہماری صحیح نمائندگی کی ضرورت ہے۔ جب مسلمان قرآن و سنت کا عملی نمونہ بن جائے، اس کا کردار سچائی، امانت، عدل اور اخوت کا آئینہ دار ہو، تو اسلام کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے الگ سے کسی مہم کی ضرورت باقی نہیں رہتی، کیونکہ اس وقت ہر مسلمان خود اسلام کا مؤثر سفیر بن جاتا ہے۔
آج وقت کی صدا یہی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلیں، دوسروں سے شکایت کرنے سے پہلے اپنا احتساب کریں، اور دنیا سے اسلام کی عظمت منوانے سے پہلے اپنی زندگیوں میں اسلام کی عظمت قائم کریں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾
"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دے۔" (الرعد: 11)
آئیے! ہم عہد کریں کہ نفرت کا جواب اخلاق سے، جہالت کا جواب علم سے، انتشار کا جواب اتحاد سے، اور اسلام پر ہونے والے ہر فکری حملے کا جواب حکمت، دلیل، کردار اور دعوت سے دیں گے۔
آخر میں صرف اتنا یاد رکھیں کہ اسلام کی سب سے بڑی ترجمانی تقریروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے؛ اور اسلام کے خلاف سب سے بڑا پروپیگنڈا دشمن نہیں، بلکہ مسلمان کا بگڑا ہوا کردار بن جاتا ہے۔ اس لیے اسلام کو مثبت رائے عامہ کی ضرورت نہیں، بلکہ دنیا کو اسلام کی صحیح پہچان کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی صحیح نمائندگی کرنے، امت کے اتحاد کو مضبوط بنانے، حق پر استقامت اختیار کرنے، اور اپنے قول و عمل سے دینِ اسلام کا سچا سفیر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ۔
بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (114)
الحمد للہ رب العالمین، نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ، ونؤمن بہ ونتوکل علیہ، ونصلی ونسلم علی سیدنا محمد، خاتم النبیین، وإمام المتقین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، ومن تبعہم بإحسان إلی یوم الدین۔
انسانی تاریخ میں بے شمار نظریات آئے، تہذیبیں ابھریں، سلطنتیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں۔ انسان نے اپنی عقل کی بنیاد پر ایسے بہت سے نظام وضع کیے جو وقتی طور پر دلکش دکھائی دیے، مگر وقت کی کسوٹی پر پورے نہ اتر سکے۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جو چودہ صدیوں سے ہر آزمائش، ہر طوفان، ہر سازش اور ہر مخالفت کے باوجود پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے، اور وہ اسلام ہے؛ وہ دین جسے نہ کسی انسان نے گھڑا، نہ کسی قوم نے بنایا، بلکہ جسے ربِ کائنات نے اپنی آخری ہدایت کے طور پر نازل فرمایا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾
"بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔" (آل عمران: 19)
اسلام کسی مخصوص قوم، نسل، زبان یا خطے کا مذہب نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت، ہدایت اور کامیابی کا عالمگیر منشور ہے۔ اس کی بنیاد عدل پر، روح رحمت پر، مزاج اعتدال پر، اور مقصد انسان کو بندوں کی غلامی سے نکال کر صرف ایک اللہ کی بندگی سے جوڑنا ہے۔ یہی وہ دین ہے جس نے غلام کو عزت بخشی، عورت کو وقار عطا کیا، کمزور کو تحفظ دیا، مظلوم کو انصاف فراہم کیا، اور پوری انسانیت کو یہ اعلان سنایا کہ اصل فضیلت رنگ، نسل یا قوم میں نہیں بلکہ تقویٰ میں ہے۔
اسی لیے قرآنِ کریم نے اس امت کو یہ عظیم اعزاز عطا فرمایا:
﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ﴾
"اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل اور بہترین امت بنایا تاکہ تم تمام انسانوں پر حق کے گواہ بنو۔" (البقرۃ: 143)
یہ اعزاز محض ایک لقب نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے کردار، اخلاق، دعوت، معاملات اور اجتماعی زندگی کے ذریعے اسلام کی سچی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔"
صحيح البخاري/كتاب المناقب/ باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:حدیث: 3559]
گویا اسلام کی سب سے مؤثر دعوت صرف زبان سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔ ایک سچا مسلمان اپنے اخلاق سے دل جیتتا ہے، اپنے عدل سے اعتماد پیدا کرتا ہے، اپنی امانت سے معاشرہ سنوارتا ہے، اور اپنی رحمت سے اسلام کا صحیح تعارف کراتا ہے۔
یہاں ایک اہم حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اگرچہ اس نشست کا عنوان "اسلام کے حق میں مثبت رائے عامہ کی تبدیلی " تھا، لیکن علمی اعتبار سے اسلام کو مثبت رائے عامہ کا محتاج سمجھنا درست نہیں۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرے، اسلام پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے، یا لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرے، تو اہلِ ایمان کا کام اسلام کے حق میں رائے عامہ جمع کرنا نہیں، بلکہ کتاب و سنت اور مضبوط عقلی و نقلی دلائل کے ذریعے ان شبہات کا ازالہ کرنا اور حق کو اس کی اصل صورت میں واضح کرنا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب، نقص اور کمزوری سے منزہ ہے، اور اسلام اسی ربِ ذوالجلال کا پسندیدہ، آخری اور کامل دین ہے۔ اسلام اپنی حقانیت، الٰہی تعلیمات اور ابدی اصولوں کے اعتبار سے کسی انسانی تائید، مقبولیت یا رائے کا محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو ہر اعتبار سے کامل، فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور قیامت تک کے لیے محفوظ بنا دیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَامَ دِينًا﴾
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔" (المائدۃ: 3)
اور دوسری جگہ فرمایا:
﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَافِظُونَ﴾
"بے شک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے، اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔" (الحجر: 9)
البتہ امتِ مسلمہ کی یہ عظیم دینی، دعوتی اور علمی ذمہ داری ضرور ہے کہ اسلام کے خلاف سرگرم پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے پھیلائے ہوئے شکوک، غلط فہمیوں، تعصبات اور بے بنیاد الزامات کا حکمت، حسنِ اخلاق، مضبوط قرآنی، حدیثی، عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ازالہ کرے، اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دنیا کے سامنے واضح کرے، اور اپنے کردار و عمل سے اس کی صحیح، روشن اور متوازن تصویر پیش کرے۔(کل بروز جمعرات 30 جولائی 2026)
اسی احساس کو تازہ کرنے اور اسی ذمہ داری کی یاد دہانی کے لیے "اسلام کے حق میں مثبت رائے عامہ کی تبدیلی " کے عنوان سے علماءِ کرام کی ایک نہایت اہم، فکر انگیز اور بصیرت افروز نشست (bift ہال دارالسلام بنگلور) منعقد ہوئی۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم نے عصرِ حاضر کے اس نہایت حساس موضوع پر نہایت سنجیدہ اور قابلِ قدر گفتگو فرمائی۔
الحمد للہ، اس علمی و فکری مجلس میں ناچیز کو بھی شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس نشست کا کلیدی خطاب جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر، مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی صاحب نے فرمایا۔ ان کا خطاب نہایت متوازن، حکیمانہ، درد مندانہ اور حقیقت پسندانہ تھا۔ انہوں نے بڑی بصیرت کے ساتھ واضح کیا کہ موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ تمام فقہی اختلافات ختم کر دیے جائیں، کیونکہ علمی اختلاف ہمیشہ سے امت کی علمی روایت کا حصہ رہا ہے؛ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد، تنوع کے باوجود اخوت، اور مسلکی وابستگی کے باوجود ملتِ اسلامیہ کے مشترکہ مفادات کو مقدم رکھا جائے۔
انہوں نے نہایت مؤثر انداز میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ جب اختلاف علمی حدود میں رہتا ہے تو وہ امت کے لیے رحمت، وسعتِ نظر اور فقہی بالیدگی کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن جب یہی اختلاف تعصب، تحقیر، نفرت اور انتشار میں بدل جاتا ہے تو امت کی قوت کے بجائے اس کی کمزوری بن جاتا ہے اور دشمنانِ اسلام کے عزائم کو تقویت پہنچاتا ہے۔
قرآنِ کریم نے اسی لیے فرمایا:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾
"سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ".
"مومن، مومن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔" پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست فرما کر اس کی عملی مثال پیش کی۔
(صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2446])
حقیقت یہ ہے کہ اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود مشترکہ بنیادوں پر جمع ہو جانا ہے۔ امت کی قوت اس بات میں نہیں کہ سب ایک ہی فقہی رائے اختیار کر لیں، بلکہ اس میں ہے کہ سب ایک ہی کلمے، ایک ہی قرآن، ایک ہی رسول ﷺ اور ایک ہی قبلے کی بنیاد پر ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں۔
یہی قرآن کا مزاج، سنت کا پیغام اور موجودہ حالات کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔
اسلام کی تاریخ کا ہر ورق اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جس دن سے آفتابِ اسلام طلوع ہوا، اسی دن سے باطل نے اس نورِ ہدایت کو بجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مکہ کے مشرکین نے کبھی رسولِ اکرم ﷺ کو شاعر کہا، کبھی کاہن، کبھی جادوگر، کبھی مجنون، اور نعوذ باللہ کبھی جھوٹا قرار دیا۔ مدینہ میں منافقین نے اندرونی محاذ کھولا، یہود نے عہد شکنی، پروپیگنڈے اور فکری سازشوں کا جال بچھایا، اور بعد کے ہر دور میں باطل نے اپنے اپنے انداز سے اسلام کے خلاف صف آرا ہونے کی کوشش کی۔
لیکن تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید فیصلہ یہ بھی ہے کہ باطل کے تمام ہتھیار بدلتے رہے، مگر اسلام کی صداقت نہ بدلی؛ حملوں کی نوعیت بدلتی رہی، مگر حق کی روشنی کبھی مدھم نہ ہوئی، کیونکہ یہ دین کسی انسان کا بنایا ہوا نظریہ نہیں بلکہ اس رب کا نازل کردہ نظام ہے جس نے خود اعلان فرمایا:
﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾
"وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا، خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔" (الصف: 9)
اسلام کے خلاف یہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی، بلکہ قلم، زبان، تہمت، افواہ، کردار کشی، فکری یلغار، تہذیبی یورش اور ابلاغی ذرائع کے ذریعے بھی مسلسل جاری رہی، اور آج اس نے پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور ہمہ گیر شکل اختیار کر لی ہے۔
سوشل میڈیا، بعض ذرائع ابلاغ، فلموں، ویب سائٹس اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں۔ کبھی اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی ناموسِ رسالت ﷺ پر حملے کیے جاتے ہیں، کبھی امہات المؤمنین، خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزہ سیرت کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، اور کبھی مساجد، مدارس، حجاب، اذان اور دیگر اسلامی شعائر کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بعض مقامات پر مذہبی منافرت، ہجومی تشدد، بے بنیاد الزامات یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث مسلمانوں کو سخت آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات یقیناً صبر، حکمت، آئینی جدوجہد اور باہمی اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں۔
لیکن اگر ہم انصاف کے ساتھ اپنا محاسبہ کریں تو ایک تلخ حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان دشمنوں کی سازشوں سے پہنچانے کی کوشش کی گئی، بعض اوقات اتنا ہی نقصان مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں، باہمی انتشار، اخلاقی زوال، جہالت، بدعنوانی، فرقہ وارانہ تعصب اور دین سے عملی دوری نے بھی پہنچایا ہے۔
دنیا اسلام کو صرف ہماری کتابوں سے نہیں پڑھتی بلکہ ہمارے کردار سے بھی پہچانتی ہے۔ اگر مسلمان سچائی، امانت، عدل، دیانت، حسنِ اخلاق اور رحم و شفقت کا پیکر بن جائے تو وہ خاموش رہ کر بھی اسلام کا بہترین داعی بن جاتا ہے، اور اگر اس کا کردار اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو تو اس کی زبان سے کی جانے والی تبلیغ بھی اپنا اثر کھو دیتی ہے۔
اسی لئیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: _ بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ".
"میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاق کے بہترین اوصاف کو مکمل کر دوں۔"
(مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5096)
آج امتِ مسلمہ بیرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ اندرونی آزمائشوں میں بھی گھری ہوئی ہے۔ کہیں ارتداد کی لہریں ہیں، کہیں الحاد اور مادہ پرستی کا سیلاب، کہیں اخلاقی بے راہ روی ہے، کہیں خاندانی نظام کمزور ہو رہا ہے، کہیں فرقہ واریت امت کی قوت کو کھا رہی ہے، اور کہیں نئی نسل فکری انتشار اور دینی بے سمتی کا شکار ہے۔ گویا ہر میدان امت کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر رہا ہے۔
ایسے حالات میں محض جذباتی نعروں سے کام نہیں چلے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت علم سے مسلح ہو، فکر میں پختگی پیدا کرے، کردار میں اخلاص پیدا کرے، دعوت میں حکمت دور اندیشی اختیار کرے، اور اختلافات کے باوجود اپنے مشترکہ دینی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائے۔
قرآنِ کریم نے اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾
"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔" (النحل: 125)
یہی وہ راستہ ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح، منصفانہ اور حقیقت پر مبنی رائے قائم کرتا ہے، کیونکہ دل نفرت سے نہیں بلکہ حکمت، حسنِ اخلاق اور کردار سے جیتے جاتے ہیں۔
ایسے نازک اور فیصلہ کن حالات میں امت کے ہر طبقے پر عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ اسلام کی صحیح نمائندگی صرف بیانات، سیمیناروں اور کانفرنسوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے کردار، علم، حکمت اور اجتماعی شعور درکار ہے۔
سب سے پہلے علماءِ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی خالص تعلیمات کو حکمت، بصیرت اور اعتدال کے ساتھ عام کریں، امت کے عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاملات کی صحیح رہنمائی کریں، نئی نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا مضبوط علمی جواب دیں، اور
منبر و محراب کو اختلافات کی آگ بھڑکانے کے بجائے دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنائیں۔ انہیں یہ احساس بھی تازہ کرنا ہوگا کہ فقہی تنوع امت کا علمی سرمایہ ہے، مگر اتحادِ امت اس کی اجتماعی قوت ہے۔
دانشورانِ ملت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمانے کی فکری یلغار کو سمجھیں، جدید ذرائع ابلاغ اور مؤثر زبان میں اسلام کی معقول، مدلل اور باوقار ترجمانی کریں، نوجوان نسل کی فکری رہنمائی کریں، اور ایسا علمی سرمایہ تیار کریں جو اسلام کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات کا مضبوط جواب بن سکے۔
سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کے اعتماد کو ذاتی مفادات کی نذر نہ کرے، بلکہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر مظلوم، ہر کمزور اور ہر محروم کی آواز بنے، انصاف، مساوات اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بے خوف کھڑی ہو، اور ملک و ملت کے وسیع تر مفاد کو ہر ذاتی، جماعتی اور انتخابی مفاد پر مقدم رکھے۔
اسی طرح عوام کی ذمہ داری بھی کسی سے کم نہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے دین کا بنیادی علم حاصل کرے، اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کو اولین ترجیح بنائے، سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبروں، اشتعال انگیز مواد اور فرقہ وارانہ نفرت سے خود بھی بچے اور دوسروں کو بھی بچائے، اور اپنے اخلاق، معاملات، تجارت، ہمسائیگی اور معاشرت میں اسلام کا عملی نمونہ بنے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کی سب سے مؤثر دعوت ایک مسلمان کا کردار ہے۔ اگر مسلمان سچا ہو تو اس کی سچائی اسلام کی دعوت بن جاتی ہے، اگر وہ امانت دار ہو تو اس کی امانت اسلام کی ترجمان بن جاتی ہے، اگر وہ عادل ہو تو اس کا انصاف اسلام کا تعارف بن جاتا ہے، اور اگر وہ خوش اخلاق اور رحم دل ہو تو اس کی زندگی خاموش دعوت بن جاتی ہے۔
اسلام کو ہمارے دفاع سے زیادہ ہماری صحیح نمائندگی کی ضرورت ہے۔ جب مسلمان قرآن و سنت کا عملی نمونہ بن جائے، اس کا کردار سچائی، امانت، عدل اور اخوت کا آئینہ دار ہو، تو اسلام کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے الگ سے کسی مہم کی ضرورت باقی نہیں رہتی، کیونکہ اس وقت ہر مسلمان خود اسلام کا مؤثر سفیر بن جاتا ہے۔
آج وقت کی صدا یہی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلیں، دوسروں سے شکایت کرنے سے پہلے اپنا احتساب کریں، اور دنیا سے اسلام کی عظمت منوانے سے پہلے اپنی زندگیوں میں اسلام کی عظمت قائم کریں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾
"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دے۔" (الرعد: 11)
آئیے! ہم عہد کریں کہ نفرت کا جواب اخلاق سے، جہالت کا جواب علم سے، انتشار کا جواب اتحاد سے، اور اسلام پر ہونے والے ہر فکری حملے کا جواب حکمت، دلیل، کردار اور دعوت سے دیں گے۔
آخر میں صرف اتنا یاد رکھیں کہ اسلام کی سب سے بڑی ترجمانی تقریروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے؛ اور اسلام کے خلاف سب سے بڑا پروپیگنڈا دشمن نہیں، بلکہ مسلمان کا بگڑا ہوا کردار بن جاتا ہے۔ اس لیے اسلام کو مثبت رائے عامہ کی ضرورت نہیں، بلکہ دنیا کو اسلام کی صحیح پہچان کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی صحیح نمائندگی کرنے، امت کے اتحاد کو مضبوط بنانے، حق پر استقامت اختیار کرنے، اور اپنے قول و عمل سے دینِ اسلام کا سچا سفیر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ۔
بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com