موت لاعلاج مرض
30 جولائی، 2026
موت ایسا تیرہے جوہر ایک جسم میں پیوست ہوکر رہے گا،موت کی داروگیر سے کوئی جاندار بچ نہیں سکتا ہے ۔دوائیں ،گولیاں،ٹیبلیٹس بیماری سے تو بچاسکتی ہیں،موت کے چنگل سے چھٹکارا نہیں دلا سکتی
جیسا کہ ظفر المحصلین (ص309)میں ایک واقعہ نوشتۂ تحریر ہے کہ حکیم جالینوس نے اپنے ساتھیوں کو دو گولیاں دیں، اور کہا :کہ میرے مرنے کے بعد ان میں ہے ایک کو لوہار کی سوہان پر رکھنا ،اور دوسری کو پانی سے بھری ہوئی شیشی میں رکھنا؛
سا تھیوں نے انکی وصیت پر عمل کیا، تو دیکھا کہ
سوہان پگھل کر پانی پانی ہو گیا،اور شیشی کو توڑا تو پانی جم کر شیشی بن گیا__
حکماء کہتے ہیں کہ حضرت اس سے یہ بتانا حاہتے تھے کہ میں لو ہے کو پانی بنانے اور پانی کو جمانے پر قادر ہوں لیکن موت ایسی بیماری ہے جس کی کوئی دوا نہیں بنا سکتا ہوں _
الْمَوْتُ كَأْسٌ وَكُلُّ النَّاسِ شَارِبُهُ
وَالقَبْرُ بَابٌ وَكُلُّ النَّاسِ دَاخِلُهُ
محمد شعیب قاسمی .موتی پور
خویدم
۔مدرسہ دار الرشاد بنکی (بارہ بنکی)