*نیپال اردو ٹائمز اخلاص سے مقبولیت تک کا شاندار سفر*

✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
13 صفر المظفر 1448ھ
_______________________________

قلم جب اخلاص کی روشنائی میں ڈوب کر قوم و ملت کی ترجمانی کرتا ہے تو اس کے لفظ صرف سیاہی نہیں رہتے بلکہ تاریخ کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔ دنیا میں روز بے شمار اخبارات و رسائل شائع ہوتے ہیں کچھ وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں اور کچھ اپنی دیانت معیار اور اہلِ قلم کی قدر افزائی کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ انہی خوش نصیب اداروں میں ایک معروف نام ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز کا بھی ہے جو ملک و بیرون ملک میں معروف و مقبول ہے۔
ملک نیپال کی آن بان اور شان فلک بوس سلسلۂ کوہ ہمالیہ برف پوش بلند و بالا چوٹیاں دلکش جھیلیں جنت نظیر وادیاں سرسبز و شاداب باغات صاف و شفاف تالاب قدرت کے حسین مناظر اور بے شمار فطری خوبیوں سے مزین خوبصورت ملک نیپال سے شائع ہونے والا معروف و معتبر ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز اپنے سوویں شمارے کی تکمیل کے تاریخی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ ادارۂ یقیناً اردو صحافت اہلِ قلم اور قارئین کے لیے خوشی فخر اور مسرت کا موقع ہے۔
یہ ہفت روزہ اخبار ابتداء ہی سے ملک و بیرونِ ملک کی اہم خبروں حالاتِ حاضرہ سماجی ملی دینی تعلیمی اور فکری موضوعات کے ساتھ ساتھ نیپال ہندوستان اور دیگر ممالک کے ممتاز علماء دانشوروں صحافیوں اور اہلِ قلم کے تحقیقی فکری اور اصلاحی مضامین و مقالات کو نہایت اہتمام اور وقار کے ساتھ شائع کرتا آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر مدت میں اس نے اردو صحافت میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کرلی ہے۔
میرے لیے یہ بات باعثِ سعادت اعزاز اور خوش نصیبی ہے کہ اس معیاری اخبار کے ابتدائی ایام ہی سے ناچیز کی معمولی تحریروں کو بھی اس میں جگہ ملتی رہی ہے۔ جب سے اس ادارے سے وابستگی ہوئی تب سے نہ صرف اپنی تحریروں کو نکھارنے کا موقع ملا بلکہ ملک و بیرون ملک کے نامور قلم کاروں کی تحریریں پڑھنے ان سے سیکھنے اور اپنے فکری و علمی افق کو وسیع کرنے کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔ بلاشبہ یہ میرے لیے ایک قیمتی سرمایہ اور ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔
میں دل کی گہرائیوں سے ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز کے تمام ذمہ داران مدیران اور ادارتی ٹیم کا شکر گزار ہوں خصوصاً نہایت متحرک فعال مخلص اور دور اندیش چیف ایڈیٹر حضرت مولانا عبدالجبار علیمی نظامی صاحب حفظہ اللہ کا جنہوں نے مجھ جیسے ادنیٰ طالب علم اور معمولی قلم کار پر اعتماد فرمایا میری تحریروں کو اپنے معیاری اخبار میں جگہ دی اور ہمیشہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ ان کا یہ حسنِ ظن میرے لیے باعثِ افتخار ہے جسے میں ہمیشہ اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھوں گا۔
یہ بھی ایک خوش آئند حقیقت ہے کہ اس ادارے نے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ سینئر اہلِ قلم کی علمی و فکری خدمات کو بھی ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ ایک معیاری صحافتی ادارے کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ وہ قلم کی طاقت کو پہچانے اخلاص کو اہمیت دے اور علمی سرمایہ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔ نیپال اردو ٹائمز نے اس ذمہ داری کو جس حسن تدبیر اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ نبھایا ہے وہ لائقِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے۔
مجھے کامل یقین ہے کہ اگر اسی اخلاص علمی وقار اور خدمت خلق کے جذبے کے ساتھ یہ سفر جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز صرف نیپال یا برصغیر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اردو صحافت کی ایک معتبر اور مستند شناخت کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
یہ جان کر بھی بے حد خوشی ہوئی کہ اس تاریخی سوویں شمارے کی مناسبت سے مسلسل کالم نگاری کرنے والے قلم کار حضرات کی خدمات کے اعتراف میں انہیں انعامات سے بھی نوازا جائے گا۔ یہ قدم یقیناً اہل قلم کی حوصلہ افزائی صحافتی خدمات کی قدر افزائی اور نئی نسل کو علمی و ادبی میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ایسے اقدامات ہر ادارے کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز دن دونی رات چوگنی ترقی کرے علم و ادب صحافت اور اصلاح معاشرہ کی یہ روشن شمع ہمیشہ فروزاں رہے اور اس ادارے سے وابستہ تمام ذمہ داران مدیران مشاورتی و ادارتی ٹیم تمام قلم کاروں اور قارئین کو اپنی خصوصی رحمتوں سے نوازے۔
خصوصاً حضرت مولانا عبدالجبار علیمی نظامی صاحب حفظہ اللہ کو اللہ ربّ العزت صحت کاملہ درازیٔ عمر عافیت اخلاص استقامت اور مزید دینی علمی صحافتی و ملی خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ان کی شبانہ روز محنتوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے اس ادارے کو مزید ترقی عطا فرمائیں اور اسے تا دیر اردو زبان و ادب اور ملتِ اسلامیہ کی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔