« کتابوں میں ہم جنس تلاش کریں »



*الزمخشری* نے لکھا
> إن الوئام شرع في جميع الطمش لا تقرب العنز الضأن ما وجدت المعز
باہمی الفت کا قانون ہر مخلوق میں موجود ہے بکری بھیڑ کے ساتھ تب تک نہیں بیٹھتی جب تک وہ بکری نہ پائے
یعنی اپنی جنس جب تک موجود ہے غیر جنس میں اٹھنا بیٹھنا نہیں ہوتا
« `ربيع الأبرار ونصوص الأخيار ج ١ ص ٣٧٩` »

*الزمخشری* نے مولا علی کرم الله وجہہ الکریم کا فرمان نقل کیا
`القلوب وحشية فمن تألفها أقبلت عليه`
دل وحشت زدہ رہتے ہیں تو جب کوئی ان سے مانوس ہو جائے تو اس پر متوجہ ہو جاتے ہیں
دل کی وحشت ہر انسان کے لیئے ہوتی ہے
مومن کے لیئے اپنے جیسا نہ ملنے کی وجہ سے اور اصلی گھر جنت دور ہونے کی وجہ سے دل میں ملال سا رہتا ہے
اجسام کی مشابہت باہمی الفت پیدا نہیں کرتی بلکہ روحوں کی مشابہت الفت و قربت پیدا کرتی ہے
*کچھ روحیں آسمانی ہوتی ہیں*
یہ گمنامی پسند کرتی ہیں کیونکہ آسمان پر شہرت کے لیئے زمین پر گمنام ہونا پڑتا ہے
*کچھ روحیں قدامت پسند ہوتی ہیں*
یہ کتابیں پسند کرتی ہیں ان کا اکثر وقت کتابوں میں موجود کرداروں کو پڑھنے اور لطف اٹھانے میں گزرتا ہے اور یہ خود کو پرانے زمانے کے لوگوں کی طرح سمجھتے ہیں
*کچھ روحیں نظریاتی ہوتی ہیں*
یہ صدیوں پہلے گزرے لوگوں کے نظریات کی تابع اور صدیوں بعد آنے والے لوگوں کی متبوع ہوتی ہیں
`آپ غور کریں کہ روح صدیوں پہلے اور بعد کے لوگوں سے مشابہ ہونے کی وجہ سے اُدھر مائل ہوتی ہے تو اپنے ہی زمانے میں کوئی اُس جیسا نہ ہو تو کیسی وحشت و تنہائی محسوس کرتی ہوگی ؟`

اس کا حل ہے
کتابیں پڑھیں
زمانے جئیں
قرنوں قرن گھومیں کیونکہ کتابوں میں آپ کو ہر طرح کی روح مل جائے گی
*کتابوں میں خود کو خود جیسے کو تلاش کریں*
یہ سفر دلچسپ اور مفید ہوتا ہے
`ہم جنس کے ساتھ بیٹھنے کا لطف جنسِ مخالف کے پاس بیٹھنے سے زیادہ لطف والا ہوتا ہے`
کتابوں میں ایک نہیں کئی ہم جنس مل جائیں گے جو آپ کے قلب و روح کو شاد رکھیں گے

محمد مصعب پالنپوری