نہ تیری امید نہ تیرا انتظار کرتے ہیں 
اب تو ہم اپنی تنہائی سے بات کرتے ہیں۔
تیرے جنون پے ایسے خم خیال ہم 
اب تو بس مرنے کا انتظار کرتے ہیں۔
لگائے تھے محبت کے اشجار ہم نے 
اب سر راہ ان سے خود کو بےزار کرتے ہیں۔
سبق ملا ہے *فیضی* بڑی درازی سے
اب تو ہم کتابوں سے پیار کرتے ہیں۔
  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*