"العرف المُبتَكَر" کا تعارف 
بقلم: معاذ حیدر 
١٣/ صفر ١٤٤٨ھ
٢٨/ جولائی ٢٠٢٦ء

   اصولِ حدیث میں مہارت پیدا کرنا ہر طالب علم کے لیے نہایت ضروری ہے، یہی وہ معیار ہے؛ جس کے ذریعے حدیث کے مقبول یا مردود ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، اسی اہمیت کے پیشِ نظر اس فن میں مختلف درجات کی بے شمار کتابیں تصنیف کی گئی ہیں، شیخ عبد الفتاح ابو غدۃ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
  "فإن علم مصطلح الحديث الشريف ضروري لطالب العلم الشرعي، لأنه المسبار الصادق والميزان العدل المعرفة قبول الحديث أورده، ونظراً لأهميته وافتقار طلبة العلم إليه، تعددت فيه المؤلفات، وتنوعت فيه المطولات والمتوسطات والمختصرات" 
(قفو الأثر في صفو علوم الأثر لابن الحنبلي: كلمة المحقق: ص: ٥، ت: عبد المفتاح أبو غدة، ط: مكتب المطبوعات الإسلامية بحلب)
    جب دائرۂ اسلام وسیع ہوا، اور عجمی خطہ حلقہ بگوش اسلام ہوا، تو عربیت کی کمزوری اور شریعت فہمی کی کمی کی وجہ سے روایتِ حدیث میں غلطیاں ہونے لگیں، اس کے بعد دانستہ تحریف کا سلسلہ شروع ہوا، دوسری صدی ہجری میں سیاسی مفاد کے لیے احادیث میں تحریف کی جرأت کی گئ، ان حالات میں احادیث کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے ائمہ اور محدثین پیدا فرمائے؛ جنہوں نے سنتِ نبویہ کی حفاظت کی، اس کی خاطر اصول وضع کیے، اسناد کو محفوظ کیا، حدیث کی اسنادی حیثیت کو اصول کی روشنی میں پرکھا، ذخیرۂ احادیث کو ہر قسم کی آمیزش سے محفوظ رکھنے کے لیے فن اصول حدیث کی باضابطہ بنیاد ڈالی، ملا علی قاری رحمہ اللہ کی "شرح شرح النخبۃ" کے محقق نے اس کی تصریح فرماتے ہوۓ لکھا ہے: 
  ودخل في الإسلام أصحاب تلك البلاد والحضارات من الأعاجم البعيدين عن أصالة اللغة، وروح التشريع الإسلامي، وأصحاب الأهواء عامة، فكثر الخطأ في رواية الأحاديث تعمداً من أصحاب الأهواء، وسهواً من البعض، وخطاً من أصحاب اللكنة والعجمة، وازداد هذا الخطأ خطورة في عصر صغار التابعين، وذلك بعد سنة مئة وخمسين، حيث ظهرت الفرق السياسية وانتشرت النحل والعصبية، فكان من يتعمد الكذب ترويجاً لبدعته، ونصرة لمذهبه، فأقام الله للسنة رجالاً يحرسونها من كيد الكائدين، ودس الكاذبين، وتحريف الزائغين، ويحفظون أحكامها وأسانيدها، حتى لا تختلط بغيرها، كما اختلطت شريعة اليهود والنصارى بأقوال رهبانهم وقسيسيهم.
(شرح شرح نخبة الفكر للقاري، مقدمة التحقيق: ص: ١٠، ت: محمد نزار، هيثم نزار، ط: شركة دار الأقم بن أبي الأرقم، بيروت)
     اس موضوع پر علماء امت ہر نوع سے کام کیا ہے، اسی طویل سلسلہ کی ایک اہم کڑی "نخبۃ الفکر" ہے، اس میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے "مقدمۂ ابن الصلاح" کے اہم مباحث کو مفید اضافوں کے ساتھ مختصر انداز میں مرتب کیا ہے، بعد ازاں اس کی شرح "نزهۃ النظر" کے نام سے لکھی؛ جس میں بے شمار علمی فوائد اور دقیق نکات جمع کیے، حافظ ابن الحنبلی رحمہ اللہ اس کتاب کے تعارف میں ارقام فرماتے ہیں:
   فلخص المهم من هذا الاصطلاح، مما جمعه في كتابه الحافظ ابن الصلاح، مع فرائد ضُمَّتْ إليه، وفوائد زيدت عليه، في أوراق قليلة هي في نفسها جليلة سماها "نخبة الفكر، في مصطلح أهل الأثر" ، فصارت جديرة - إذ صغُرت حجماً، وتراءت نجماً، لكل أثري : بقول من قال :
والنَّجمُ تَستصغرُ الأبصارُ صُورَتَهُ
والذَّنبُ للطَّرفِ لا للنَّجمِ فِي الصِّغَرِ
إلى أن شَرَحَها ، وضمَّن شَرحَها من طُرَف الفوائد، وزوائد العوائد، كرةً فكرةً، ما لا يُحصَى كثرةً، وإن لم يَخلُ عن فواتِ تحرير، وركاكة تقرير، كما لم يَخلُ متنه عن ضيق العبارة، وإن لَطُفَت منه الإشارة، كما قيل :
يُشير إلى غر المعاني بلفظهِ
كَحبُّ إلى المُشتَاقِ بِاللَّحظِ يَرمُزُ
(قفو الأثر في صفو علوم الأثر، ص: ٤٢، ت: عبد المفتاح أبو غدة، ط: مكتب المطبوعات الإسلامية بحلب)
     یقینا یہ فنِ اصولِ حدیث کی نہایت اہم، جامع اور منفرد کتاب ہے، اس کا اسلوب نہایت علمی ہے، تعبیر میں قدرے تعقید ہے، جس کی وجہ عبارت فہمی میں کچھ مشکلات پیش آتی ہیں، حافظ صاحب نے "مقدمۂ ابن الصلاح" اور اس پر ہونے والی علمی کاوشوں کا نچوڑ نہایت اختصار کے ساتھ اس میں پیش کیا ہے، متعدد مقامات پر طویل مباحث کو محض اشارات وکنایات میں سمو دیا ہے، اس کی عبارت نہایت دقیق ہے، جملوں اور الفاظ کے باہمی ربط کو سمجھنا بسا اوقات دشوار ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ترجمہ مشکل محسوس ہوتا ہے، بلکہ مصنف کی اصل مراد تک پہنچنے میں بھی خاصی دشواری پیش آتی ہے، اس کی عمدہ شرح کی ایک عرصہ سے ضرورت محسوس ہورہی تھی۔
    الحمد للہ حضرت الاستاذ، محدثِ جلیل، مولانا مفتی عبداللہ معروفی صاحب -زید مجدہم- کے قلم سے اس کی بہت ہی شاندار شرح "العرف المبتكر" کے نام سے منظر عام پر آچکی ہے، بندہ کو اس شرح کا اسی وقت سے انتظار تھا جب بندہ ہفتم کا ‌طالب علم تھا، آپ گذشتہ دس سالوں سے ہفتم ثانیہ میں اس کتاب کا درس دے رہے رہیں، آپ کا درس طلبہ میں نہایت مقبول ہے، ہر طالب علم کی دلی خواہش اور قلبی تمنا یہ ہوتی ہے کہ اسے "فنِ حدیث" میں آپ سے شرفِ تلمذ حاصل ہو، بندہ کو بھی حضرت سے پڑھنے کا‌ بہت شوق تھا، ششم ہی سے حضرت سے نیاز مندانہ تعلق ہوگیا تھا، چوں کہ آپ اس کتاب کا ہفتم ثانیہ میں درس دیتے ہیں، اس لیے ششم کے سالانہ امتحان کے بعد سے ہی ہمیں یہ فکر لاحق ہوگئ تھی کہ ہفتم ثانیہ میں کس طرح ہمارا نام آۓ، اور حضرت سے پڑھنے کا موقع ملے، ہم نے اپنی والدہ ماجدہ مد ظلہا سے خصوصی دعا کی درخواست کی، اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی، اور ہمارا نام ہفتم ثانیہ میں آگیا، چناں چہ ١٤٤٥- ٤٦ھ میں آپ سے "نزھۃ" پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، پہلے ہی دن حضرت نے شفقت فرمائی اور دعاؤں سے نوازا، اس کے بعد ہم نے پوری توجہ کے ساتھ تمام اسباق سنے، آپ کا درس مثالی ہوتا تھا، پوری سلاست کے ساتھ آپ متقدمین کے علوم کو پیش کرتے تھے، آپ کتاب پر حاوی ہوکر درس دیتے تھے، تشنہ باتوں کی تکمیل فرماتے تھے، اجمال کی تفصیل کرتے تھے، حقیقت سے ہٹی ہوئی باتوں پر نقد کرتے تھے، فن کے بنیادی مصادر سے آشنا کراتے تھے، کتاب کے نظری مضامین کو بدیہی بنادیتے تھے، آپ کے درس میں شرکت سے حدیثی ذوق پیدا ہوجاتا تھا، اس میں شک نہیں کہ آپ کے درس سے "نزھۃ" سے استفادہ کا صحیح نہج ملتا ہے، آپ اس کے رمز شناس اور محرم اسرار ہیں، آپ نے اس کی شرح لکھ کر ہم پر بڑا احسان کیا ہے، اپنے تمام تر تجربات کو اس شرح کا حصہ بنا‌دیا ہے، یہ ہم جیسے تشنہ کاموں کے لیے نعمت عظمیٰ سے کم نہیں۔
   حضرت والا کو علومِ حدیث میں اختصاصی درجہ حاصل ہے، اس کی تدریس وتحقیق میں زندگی کا طویل عرصہ گذار چکے ہیں، آپ مقدمۂ ابن الصلاح، تدريب الراوي اور دیگر اہم کتب کا درسی تجربہ رکھتے ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ گذشتہ دس برس سے "نزھۃ النظر" کی تدریس آپ سے متعلق ہے، فن حدیث پر آپ کی متعدد علمی خدمات منظرِ عام پر آچکی ہیں، جن میں العرف الذكي، العرف الفياح اور حدیث اور فہم حدیث کو خاص شہرت حاصل ہے، اب آپ کی شرح "العرف المبتكر" زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر آئی بے، یہ شمار خصوصیات کی حامل ہے۔
    اس میں متعدد نسخوں کے تقابلی مطالعے کے بعد صحیح ترین متن لکھا گیا ہے، عبارت کے الفاظ کی رعایت کرتے ہوئے نہایت سلیس، رواں اور عام فہم اردو ترجمہ کیا گیا ہے، جملوں اور الفاظ کے باہمی ربط کو واضح کرنے کے لیے بین القوسین میں توضیحی عبارات کا اضافہ کیا گیا ہے؛ جس سے عبارت کا مفہوم اور مصنف کی مراد از خود واضح ہوجاتی ہے، مستقل تشریح کی ضرورت باقی نہیں رہتی، نیز اس میں متن کی بعض تشنگیوں کو دور کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
  صحیح کی تعریف، شذوذ و علت، صحیح کی اقسام، معاصر غیر مدلس راوی کا عنعنہ، اس مسئلے میں امام بخاری و امام مسلم رحمہما اللہ کے ہم مسلک ہونے کی وضاحت، حسن کی اقسام، امام ترمذی رحمہ اللہ کی تعریفِ حسن اور اس کی واقعی تشریح، تدلیس اور ارسالِ خفی کی بحث میں ماتن پر نقد، صحیحین میں مدلسین کی روایات، شاذ کی مختلف تعریفات، اصولِ جرح وتعدیل اور دیگر اہم مباحث پر نہایت محققانہ اور بصیرت افروز گفتگو اس شرح کا مغز ہے۔
  کتاب کے آغاز میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی حیات، علمی خدمات، مسلکی نقطۂ نظر اور امتیازات پر ایک جامع مقالہ شامل ہے، اسی طرح فنی اصطلاحات کی مختصر تعریفات اور "تدوینِ اصولِ حدیث پر ایک نظر" کے عنوان سے اس فن کی ارتقائی تاریخ بھی پیش کی گئی ہے۔
    بلاشبہ حضرت کی اس کتاب کے مطالعہ سے علومِ حدیثیہ میں بصیرت پیدا ہوگی، یہ متقدمین کے دفاتر کا خلاصہ ہے، اگر اس کا مطالعہ متقدمین کی کتابوں کو پیش نظر رکھ کر کیا جائے گا تب اس کی علمی قدر وقیمت کا حقیقی اندازہ ہوپاۓ گا، متداول شروحات سے اس کا مقارنہ بے سود ہے، درسِ نظامی کے ہر طالبِ علم کے لیے ضروری ہے کہ اصولِ حدیث کی کم از کم اتنی معلومات مستحضر رکھنے کی کوشش کرے؛ جو حضرت نے اس شرح میں درج کی ہیں، اللہ کے واسطے "نزھۃ النظر" کو محض حلِ عبارت تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کے مباحث کو مالہ وماعلیہ کے ساتھ سمجھنے کی پوری کوشش کریں۔