ہم نے اسلام بولنا سیکھ لیا ہے، اسلام جینا نہیں
تاریخِ انسانیت میں کچھ قومیں اپنی سلطنتوں کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں، کچھ اپنے علوم و فنون کی بنا پر یاد رکھی جاتی ہیں، مگر امتِ محمدیہ کی شناخت نہ اس کے محلات تھے، نہ اس کی دولت، نہ اس کی فوجیں، بلکہ اس کی اصل پہچان اس کا کردار تھا۔ یہ وہ امت تھی جس کے افراد کو دیکھ کر قرآن کی تفسیر سمجھ میں آتی تھی، جس کے اخلاق میں سنتِ رسول ﷺ جھلکتی تھی، جس کے معاملات میں دیانت بولتی تھی، جس کی تجارت میں امانت دکھائی دیتی تھی، جس کے گھروں میں محبت اور رحم تھا، جس کے دلوں میں آخرت کی فکر اور اللہ کا خوف زندہ تھا۔ اس امت کے پاس اسلام صرف ایک عقیدہ نہیں تھا، بلکہ سانس لینے سے لے کر دنیا سے رخصت ہونے تک زندگی کا مکمل نظام تھا۔
آج بھی ہمارے پاس وہی قرآن ہے، وہی کعبہ ہے، وہی اذان ہے، وہی کلمہ ہے، وہی رسول اللہ ﷺ ہیں جن سے محبت کا دعویٰ ہم کرتے ہیں، مگر افسوس! وہ زندگی نہیں رہی جس نے کبھی دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ ہم نے اسلام کو پڑھ لیا، پڑھا بھی دیا، لکھ لیا، لکھ بھی دیا، بول لیا، سنا بھی دیا، مگر اسے جینا بھول گئے۔ یہی ہمارے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے اسلام کو صرف الفاظ میں پیش نہیں فرمایا بلکہ اپنی پوری حیاتِ مبارکہ سے اس کی عملی تصویر دنیا کے سامنے رکھی۔ آپ ﷺ کی راتیں عبادت میں گزرتی تھیں، دن خدمتِ خلق میں، دشمنوں کے لیے بھی دل میں رحم تھا، یتیموں کے لیے شفقت تھی، بیواؤں کا سہارا تھے، غلاموں کے لیے عزت تھے، تاجروں کے لیے دیانت کی مثال تھے، حکمرانوں کے لیے عدل کا معیار تھے اور عام انسان کے لیے اخلاق کا بلند ترین نمونہ تھے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ سے صرف الفاظ نہیں سیکھے بلکہ زندگی جینا سیکھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچائی کو زندگی بنا لیا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عدل کو اپنی پہچان بنایا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سخاوت کو اپنا شعار بنایا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے علم، حلم اور شجاعت کو کردار کا حصہ بنایا۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا ان کے قدموں میں آئی، مگر دنیا ان کے دلوں میں کبھی داخل نہ ہو سکی۔
پھر تابعین، تبع تابعین اور ائمہ و اولیائے کرام کا دور آیا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ کی آنکھوں میں آخرت کا خوف جھلکتا تھا، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ سے پہلے ان کا کردار بولتا تھا، حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ نے تصوف کو سنتِ نبوی ﷺ کے تابع رکھا، حضرت خواجہ غریب نواز رحمہ اللہ نے محبت، خدمت اور حسنِ اخلاق سے لاکھوں دلوں کو فتح کیا، حضرت سید سالار مسعود غازی رحمہ اللہ نے دین کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی، حضرت مخدوم اشرف سمنانی رحمہ اللہ اور دیگر اولیائے کرام نے اپنے کردار سے اسلام کو زندہ رکھا۔ ان کی عظمت کا راز صرف ان کا علم نہیں تھا بلکہ وہ علم جو عمل میں ڈھل گیا تھا۔ وہ بولنے سے پہلے خود عمل کرتے تھے، اسی لیے ان کے الفاظ دلوں میں اتر جاتے تھے۔
مگر آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آج ہمارے پاس علم پہلے سے زیادہ ہے، کتابیں پہلے سے زیادہ ہیں، مدارس پہلے سے زیادہ ہیں، جامعات پہلے سے زیادہ ہیں، مقرر پہلے سے زیادہ ہیں، خطیب پہلے سے زیادہ ہیں، مناظرے پہلے سے زیادہ ہیں، سوشل میڈیا پر دینی ویڈیوز پہلے سے زیادہ ہیں، مگر کیا ہمارے کردار بھی پہلے سے بہتر ہوئے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ خرابی کہاں پیدا ہوئی۔
آج ہم اسلام پر گھنٹوں گفتگو کرتے ہیں مگر نماز میں خشوع نہیں۔ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے۔ سیرتِ رسول ﷺ کے جلسے منعقد کرتے ہیں مگر گھروں میں اخلاقِ نبوی ﷺ نظر نہیں آتے۔ ہم داڑھی، لباس، ظاہری شناخت اور مذہبی نعروں پر بحث کرتے ہیں مگر جھوٹ، دھوکہ، رشوت، سود، ظلم، حسد، تکبر، غیبت، قطع رحمی اور بے ایمانی کو معمولی گناہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہماری زبانیں جنت کا تذکرہ کرتی ہیں مگر ہمارے اعمال دوسروں کی زندگی جہنم بنا دیتے ہیں۔
ہم نے دنیا کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ بچپن سے بڑھاپے تک ہماری دوڑ صرف اچھی نوکری، بڑا کاروبار، عالی شان مکان، مہنگی گاڑی، شہرت، عہدہ اور دنیا کی آسائشوں کے لیے ہے۔ آخرت ہماری گفتگو میں تو ہے مگر ہماری ترجیحات میں نہیں۔ ہم اس مسافر کی طرح ہو گئے ہیں جو راستے کے سرائے کو اپنا مستقل گھر سمجھ بیٹھا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے، قیام گاہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دنیا کو مسافر کی طرح گزارنے کی تعلیم دی، مگر ہم نے اسے ہمیشہ رہنے کی جگہ سمجھ لیا۔
ہم ہر روز جنازے دیکھتے ہیں، قبرستان جاتے ہیں، اپنے پیاروں کو مٹی میں دفن کرتے ہیں، مگر چند لمحوں بعد پھر اسی دنیا کی دوڑ میں ایسے گم ہو جاتے ہیں جیسے ہمیں کبھی مرنا ہی نہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ایک دن یہی جسم قبر کی مٹی میں ہوگا، یہی زبان خاموش ہوگی، یہی آنکھیں بند ہوں گی، یہی ہاتھ بے جان ہوں گے، اور پھر نہ دولت ساتھ جائے گی، نہ شہرت، نہ عہدہ، نہ سوشل میڈیا کے تعریفی الفاظ۔ ساتھ جائے گا تو صرف ایمان، اخلاص، نیک اعمال، حسنِ اخلاق اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی۔
امتِ مسلمہ کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کردار کم ہو گیا ہے۔ ہم نے قرآن کو تلاوت تک محدود کر دیا، سنت کو تقریروں تک محدود کر دیا، دین کو رسموں تک محدود کر دیا اور عبادت کو ظاہری اعمال تک محدود کر دیا۔ حالانکہ اسلام زندگی کے ہر شعبے کا نام ہے؛ عبادت بھی اسلام ہے، تجارت بھی اسلام ہے، تعلیم بھی اسلام ہے، سیاست بھی اسلام ہے، معیشت بھی اسلام ہے، خاندان بھی اسلام ہے، پڑوسی کا حق بھی اسلام ہے، صفائی بھی اسلام ہے، امانت بھی اسلام ہے اور انسانیت کی خدمت بھی اسلام ہے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم مزید تقریریں کریں، مزید مناظرے کریں یا ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدلیں۔ ہمارے بچے ہمیں دیکھ کر اسلام سیکھیں، ہمارے پڑوسی ہمارے اخلاق سے اسلام کو پہچانیں، ہمارے کاروبار ہماری دیانت کی گواہی دیں، ہمارے گھروں میں رحمت، محبت اور عدل نظر آئے، اور ہماری تنہائیوں میں بھی اللہ کا خوف زندہ رہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں دوبارہ عزت کی نگاہ سے دیکھے تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار، تابعین و تبع تابعین کے تقویٰ اور اولیائے کرام کے اخلاص کی طرف لوٹنا ہوگا۔ تاریخ نے ہمیشہ انہی لوگوں کو زندہ رکھا جنہوں نے اسلام پر تقریریں کم اور اسلام کو جیا زیادہ۔ ان کی قبریں آج بھی لوگوں کے دلوں کو زندہ کرتی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی اللہ کے لیے گزاری، دنیا کے لیے نہیں۔
آئیے! ہم اپنے آپ سے ایک سوال کریں: اگر آج ہمارا نامۂ اعمال بند ہو جائے تو کیا ہمارے الفاظ ہمارا ساتھ دیں گے یا ہمارے اعمال؟ اگر آج ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کر دیا جائے تو کیا ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے صرف اسلام کی باتیں نہیں کیں بلکہ اسلام کو اپنی زندگی بنا لیا تھا؟
یاد رکھیے! امتوں کی عظمت کتابوں سے نہیں، کردار سے لوٹتی ہے؛ تقریروں سے نہیں، عمل سے پیدا ہوتی ہے؛ اور اسلام زبان سے نہیں، زندگی سے پہچانا جاتا ہے۔ ہم نے اسلام بولنا سیکھ لیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ اسلام جینا بھی سیکھ لیں، کیونکہ جو اسلام کو جیتا ہے وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے، اور جو صرف اسلام بولتا ہے وہ اپنی آواز کے ساتھ ہی خاموش ہو جاتا ہے۔
----------------
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
رابطہ: 9037099734
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا