غنی شوہر کون ہے؟
لوگ عموماً مرد کی دولت کا اندازہ اس کے مال و زر، عالی شان مکان، قیمتی گاڑی اور بینک بیلنس سے لگاتے ہیں، لیکن ازدواجی زندگی کے تجربات وقت گزرنے کے ساتھ یہ حقیقت آشکار کرتے ہیں کہ یہ پیمانے نہ گھروں کی خوشی کا راز بیان کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی پائیداری کی ضمانت بنتے ہیں۔ کتنی ہی عورتیں ایسی ہیں جو پرتعیش گھروں میں رہتی ہیں مگر قلبی سکون سے محروم ہیں، اور کتنے ہی متوسط گھرانے ایسے ہیں جو محبت، الفت اور سکینت سے لبریز ہوتے ہیں، یہاں تک کہ دیکھنے والا انہیں بہت سے مالدار خاندانوں سے زیادہ خوش حال سمجھتا ہے۔
حقیقی معنوں میں شوہر کی دولت اس کی جیب سے نہیں بلکہ اس کی شخصیت سے ظاہر ہوتی ہے۔ وہ اس بات میں نمایاں ہوتی ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کو یہ احساس دلائے کہ وہ اس کی زندگی میں قابلِ قدر ہے، اس کا وجود ایک معمولی حقیقت نہیں بلکہ ایک نعمت ہے جس کی وہ قدر کرتا اور اس پر شکر بجا لاتا ہے۔ میٹھے بول، عزت و احترام، توجہ سے سننا اور مخلصانہ اہتمام، ازدواجی زندگی کے ضمنی امور نہیں بلکہ انسانی دل کی بنیادی ضرورتیں اور حقیقی دولت کی نمایاں علامتیں ہیں۔
بہت سی بیویاں مالی تنگی سے زیادہ شوہر کی بے توجہی کا شکوہ کرتی ہیں۔ عورت کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی اذیت نہیں کہ وہ گھر کی آسائش اور نظم و نسق کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرے، مگر بدلے میں اسے ایک لفظِ تحسین بھی نہ ملے؛ وہ گفتگو کرے مگر کوئی سننے والا نہ ہو؛ وہ تھکن سے چور ہو مگر کوئی اس کے حال پر توجہ نہ دے۔ انسان کے لیے اپنی قدر و منزلت کا احساس اتنا ہی ضروری ہے جتنا کھانا پینا، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ۔
غنی شوہر وہ ہے جو اپنی بیوی کو احساسِ تحفظ عطا کرے۔ اور یہ تحفظ صرف مالی کفالت کا نام نہیں، بلکہ یہ احساس بھی ہے کہ اختلاف کے وقت اس کی تذلیل نہیں ہوگی، اس پر احسان نہیں جتایا جائے گا، اس کی کمزوریوں کا مذاق نہیں اڑایا جائے گا اور ہر بحث میں اس کی پرانی لغزشیں نہیں دہرائی جائیں گی۔ جو عورت اپنے گھر میں اپنی عزت و وقار کے بارے میں مطمئن ہو، وہ گویا ایک بے بہا خزانے کی مالک ہے۔
حقیقی غنا جذبات کی فراوانی میں بھی جلوہ گر ہوتا ہے، صرف مال و اسباب کی کثرت میں نہیں۔ بعض لوگ ہر چیز پر فراخ دلی سے خرچ کرتے ہیں مگر مسکراہٹ، شکریے کے چند الفاظ یا چند لمحوں کی توجہ دینے میں بخیل ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ محدود وسائل رکھتے ہیں لیکن اپنے اہلِ خانہ پر محبت، شفقت اور اطمینان اس طرح نچھاور کرتے ہیں کہ مالی کمی بھی محسوس نہیں ہونے دیتے۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ رزق کمانے اور اہلِ خانہ پر خرچ کرنے کی اہمیت کم ہے۔ اسلام نے نفقہ کو مرد کی عظیم ذمہ داری قرار دیا ہے اور اس کی ادائیگی کو مردانگی اور شرافت کی علامت بتایا ہے۔ البتہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ صرف مالی ذمہ داری پوری کر دینا باقی تمام فرائض سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ گھر صرف روٹی سے آباد نہیں ہوتے بلکہ رحمت، احترام، قدر دانی، نرمی اور حسنِ معاشرت سے بھی زندہ رہتے ہیں۔
حقیقی معنوں میں غنی شوہر وہ ہے کہ جب گھر میں داخل ہو تو اس کے ساتھ سکون بھی داخل ہو، جب گفتگو کرے تو دلوں میں اطمینان اترے، جب بیوی سے کوئی خطا ہو تو پردہ پوشی اور اصلاح کا رویہ اختیار کرے، اور جب وہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی تحسین و ستائش کرے۔ زندگی کی تنگیاں بھی اگر آن گھیرے تو وہ حسنِ اخلاق، کشادہ دلی اور اللہ تعالیٰ پر حسنِ ظن کو نہ چھوڑے۔
اسی لیے مرد کی سب سے بڑی دولت بینک کا بھاری کھاتہ نہیں، بلکہ ایک رحم دل قلب، ایک کریم النفس طبیعت اور ایسے بلند اخلاق ہیں جو اس کے گھر کو ایسا آشیانہ بنا دیں جہاں جسموں سے پہلے دل پناہ پاتے ہوں۔ یہی وہ دولت ہے جسے نہ حالات کی سختیاں متزلزل کر سکتی ہیں، نہ زمانے کی گردش کم کر سکتی ہے اور نہ دنیا کی کوئی طاقت اس کے مالک سے چھین سکتی ہے۔
محمد مصعب پالنپوری