دوسری قسط
(گزشتہ سے پیوستہ)
دنیاۓ مغرب میں پھیلے اس انحطاط کو ختم کرنے کے لیے یورپ نے بڑا اہم کردار ادا کیا، یورپ کے مسیحی علماء نے عورت کے معاملے میں فواحش لا انسداد کی ، عریانیت کو ختم کیا ؛ اور قحبہ گری پر پابندی عائد کی گئی۔ اول اول تو سب اچھا تھا مگر انتہا پسندی کی حد یہ ہوئی کہ مسیحی علماء نے عورت کو گناہ کی ماں اور برائی کی جڑ کہا
ترتولیان جو کہ ائمہ مسیحیت میں سے تھا کہتا ہے
” وہ شیطان کے آنے کا دروازہ وہ شجر ممنوع کی طرف لے جانے والی خدا کی تصویر غارت کرنے والی “ (اقتباس: پردہ سید ابو الاعلی مودودی صفحہ: ۱۷)
مسیحی علماء نے عورت کو معاشی حیثیت سے عورت کو بالکل مرد کے قابو کردیا، ان کے قوانین میں عورت کو طلاق خلع کی کوئی اجازت نہیں تھی،
حتى کہ شوہر کی وفات کے بعد بیوی کے پاس مرنے کے سوا کوئی راستہ نا تھا کہ وہ نکاح ثانی کرے۔
یورپ کے مسیحی علماء کے ان قوانین اور انتہاء پسندی کے انسداد کے لیے جدید یورپ کا قیام کیا گیا، یورپ کے فلاسفہ اور اہل علم نے آزادی نسواں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، اہل قلم نے صنف نازک کو پستی سے اٹھانے کے لیے نکاح و طلاق پر کی گئی سختی کو کم کیا ۔ عورتوں کے سلب شدہ معاشرتی حقوق کو واپس کیا اور ان اخلاقی نظریات کی اصلاح جن کی بنا پر صنف نازک کو حقیر اور ادنی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔
اعلی تعلیم وتربیت کو مروج کیا معاشرے میں نفاست اور فنون خانہ داری کی نشو نما کی ، ان اقدامات سے انیسویں اور بیسویں صدی میں جدید یورپ نے بڑی ترقی کی۔
اہل یورپ کے علماء نے اپنی معاشرت جن نظریات پر رکھی وہ یہ تھے۔ جن کے ذریعے انہوں نے خود کو تحفظ نسواں کا علمبردار جانا۔
۱- مردو خواتین میں برابری
معلمینِ اخلاق نے خواتین کو مساوات کے وہ معانی سکھا کہ جس کے ذریعے ہر خاتون نے سمجھا کہ مرد و عورت اخلاقی طور پر ہم مرتبہ ہوں یا نا ہوں۔ بلکہ تمدنی زندگی میں مرد و عورت کا مقام مساوی ہونا چاہیے، چنانچہ مساوات اور برابری کے اس تخیل نے خواتین کو ان کے فطری وظائف سے غافل اور منحرف کردیا ۔ جن کی بجاآوری پر معاشرۂ انسانی کی بقا ہے۔
انسانی حقوق کی آزادی اور مساوات نے مرد و عورت کی اخلاقی بندشوں کو ڈھیلا کر دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی زندگی اصل فطری مشاغل سے متنفر ہوگئی۔
خواتین کے ذہنوں میں مساوات کے بیج نے اس قدر جڑیں مضبوط کیں دفتروں سے کار خانے تک، تجارتی اداروں سے لے کر صنعتی اداروں تک، کھیلوں میں، معاشرے کے تفریحی مشاغل کے لیے بنام مساوات ان کا استعمال کیا جانے لگا، حتی کہ رقص و سرود کی محافل ، کلب اور اسٹیج کی زینت بنا دیا گیا
الغرض خاندانی نظام، گھریلو زندگی کا سکون سب تار عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہوگیا
حتیٰ کہ فی الحال بھی یہ فلسفہ مساوات نے صنف نازک کو اس طرح ھلاک کر دیا ہے کہ وہ مردوں سے برابری کر نے کے لیے ان بے حیائیوں کو بھی عام کرتی ہیں جو کہ مردوں کے لیے بھی شرمناک ہوا کرتی تھیں۔
٢- عورتوں کا معاشی استقلال(economic Endependenc)
معاشی استقلال کے اس خیال نے عورت کو مرد سے بالکل بے نیاز کر دیا، مرد کا کمانا اور عورت کا خاندانی نظام کا منظم کرنا یہ اصول بدل گیا اور یوں ہوا کہ مردو عورت دونوں کمائیں گھر اور خاندانی نظام بازار کے حوالے کردیا جائے
اس نظریہ کا اثر یہ ہوا کہ جب عورت خد کما سکتی ہے پھر ایک مرد کی محتاج کیوں ؟ کیوں وہ خاندانی نظام کے ذمہ دار بنے؟ جب اخلاقی اور تمدنی مساوات کے تخیل نے اس کی تمام روکاوٹوں کو دور کردیا ہے، پھر ایک عورت اس (بظاہر) آسان اور پر لطف راہ کو چھوڑ کر دقیانوسی راہ کو کیوں اختیار کرے
الغرض نظریہ مساوات اقر معاشی استقلال کی بحالی (Economic endependece) نے معاشرے کو اس قدر اثر انداز کیا کہ اب معاشرے کی نظر میں فاحشہ ہونا کوئی ملامت کی بات نہیں، اس تاثر کے زیر اثر معاشرے میں ناجائز مولود کا ہونا جو کہ قابلِ تشویش بات تھی ایک عام سی شئی بن گئی ، ساتھ ہی ساتھ منع حمل اور اسقاط حمل عام ہو گیا۔
اگر بد قسمتی سے کوئی ننھی جان اس دنیا میں آ بھی جاۓ تو یورپی قوانین کے تحت کنواری ماں بننا کسی طرح کا عیب نہیں ہوتا، البتہ اسے معیوب سمجھنے والے کو دقیانوسیت کا الزام دیا جاتا
جاری