اے مسلم قوم کے ذمہ دارو! ذرا ایک لمحہ ٹھہر جاؤ... امت تمہیں پکار رہی ہے

`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com 


کبھی رات کی گہری خاموشیوں میں، جب نیند ہر دروازے پر دستک دے رہی ہوتی ہے، تب کہیں ایک ایسی آہ بھی اٹھتی ہے جسے دنیا کے کان نہیں سنتے، مگر آسمان کے دروازے لرز اٹھتے ہیں۔

یہ کسی ایک انسان کی آہ نہیں ہوتی...
یہ پوری امتِ محمد ﷺ کی سسکی ہوتی ہے۔

اس کے آنسو زمین کی خاک میں جذب ہو جاتے ہیں، مگر عرش کا مالک انہیں اپنے علم میں محفوظ کر لیتا ہے۔

اے ملتِ اسلامیہ کے ذمہ دارو!
اے دین کے علمبردارو!
اے منبروں کے وارثو!
اے مدارس، مساجد اور اداروں کے نگہبانو!

آج میں تم سے خطاب نہیں کر رہا...
آج امت کے زخمی دل تمہیں پکار رہے ہیں۔

ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر بتاؤ...
کیا ہم نے اس امانت کا حق ادا کیا، جو اللہ نے ہمارے کندھوں پر رکھی تھی؟

کبھی یہی امت تہجد کے آنسوؤں سے تاریخ کا رخ موڑ دیا کرتی تھی...
آج اسی امت کی آنکھیں بے بسی سے پتھرا گئی ہیں۔

کبھی اس کے نوجوان قرآن کو سینوں میں بسائے میدانوں میں اترتے تھے...
آج انہی نوجوانوں کے دل فتنوں، خواہشات اور غفلت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔

کبھی اس کی بیٹیاں حیا کی خوشبو سے پہچانی جاتی تھیں...
آج وہ ایمان اور عزت کے چراغ کو تیز آندھیوں میں دونوں ہاتھوں سے بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اور ہم...؟

ہم نے شاید یہ گمان کر لیا ہے کہ چند پُرجوش تقریریں...
چند کامیاب اجتماعات...
چند تصویریں...
اور چند تعریفی جملے...

ہماری ذمہ داری کا بوجھ ہلکا کر دیں گے۔

نہیں... ہرگز نہیں!

امت کو خطیبوں کی بلند آوازوں سے پہلے ایسے دل چاہییں جو اس کے درد میں راتوں کو جاگ سکیں۔

امت کو نعروں سے زیادہ آنسو چاہییں...
الفاظ سے زیادہ اخلاص چاہیے...
اور دعووں سے زیادہ کردار چاہیے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾»

"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ نہ کرے۔"
(سورۃ الرعد: 11)

آج ہمارا سب سے بڑا المیہ دشمنوں کی طاقت نہیں...

بلکہ اپنے دلوں کی بے حسی ہے۔

ہم زخم دیکھتے ہیں، مگر بے چین نہیں ہوتے...
ہم آہیں سنتے ہیں، مگر جاگتے نہیں...
ہم نسلوں کو بکھرتا دیکھتے ہیں، مگر ہمارے معمولات نہیں بدلتے۔

یاد رکھو!

امتیں دشمن کی تلوار سے کم...
اپنوں کی غفلت سے زیادہ ٹوٹا کرتی ہیں۔

چراغ باہر کی آندھی سے نہیں بجھتا...
وہ اس وقت بجھتا ہے جب اس کے اندر کا تیل ختم ہو جائے۔

اور قومیں بھی اسی دن زوال کے کنارے پہنچتی ہیں، جب ان کے ذمہ داروں کے سینوں سے امت کا درد رخصت ہو جاتا ہے۔

اے ذمہ دارو!

اب بھی وقت ہے...

اپنے دلوں میں امت کی تڑپ کو زندہ کرو...
اپنی آنکھوں کو امت کے آنسوؤں کا امین بناؤ...
اور اپنی زندگیاں اس مشن کے لیے وقف کر دو، جس کے لیے رحمتِ عالم ﷺ نے طائف کے پتھر بھی سینے پر سہے، بھوک بھی برداشت کی، ہجرت بھی کی، اور اپنی امت کے لیے راتوں کو اتنا روئے کہ قدم مبارک سوجھ گئے۔

خدا کے لیے...

اس امت کو تنہا مت چھوڑو۔

اس کے یتیم بچوں کی سسکیاں...
اس کی ماؤں کی لرزتی ہوئی دعائیں...
اس کے نوجوانوں کی خاموش چیخیں...
اور اس کی بیٹیوں کی بے زبان فریاد...

آج بھی تمہارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔

خدارا! اس دستک کو سن لو، اس سے پہلے کہ تاریخ تمہیں بے حس لکھ دے، اور قیامت کے دن امت تمہارے خلاف گواہی دینے کے لیے کھڑی ہو جائے۔

ابھی بھی وقت ہے... اگر ہمارے دل جاگ جائیں۔

(جاری ہے...)

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H