ہر دور کی اپنی آزمائشیں ہوتی ہیں، لیکن موجودہ دور کی نوجوان نسل، جسے عموماً "جنریشن زی" (Gen Z) کہا جاتا ہے، ایسے حالات سے گزر رہی ہے جہاں ذہنی دباؤ، غیر یقینی مستقبل، شدید مقابلہ بازی، سوشل میڈیا کے اثرات اور معاشرتی توقعات نے زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔

اسلام نوجوانوں کی مشکلات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کی تعمیر کا درس دیتا ہے۔

دباؤ سے بھرپور ماحول

آج کا نوجوان ہر طرف مقابلے کی فضا میں سانس لے رہا ہے۔ تعلیم، کیریئر، معاشرتی مقام اور سوشل میڈیا پر دوسروں کی بظاہر کامیاب زندگیوں کو دیکھ کر وہ مسلسل اپنا موازنہ دوسروں سے کرتا رہتا ہے۔ یہ تقابل آہستہ آہستہ اس کے اعتماد اور ذہنی سکون کو کمزور کر دیتا ہے۔

اسلام انسان کو دوسروں سے حسد یا بے جا موازنہ کرنے کے بجائے اپنی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"اور جس چیز میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اس کی تمنا نہ کرو۔"
(سورۃ النساء: 32)»

محنت کے باوجود غیر یقینی مستقبل

جب نوجوان برسوں محنت کرنے کے باوجود میرٹ کی پامالی، بے ضابطگی یا محدود مواقع کا سامنا کرتے ہیں تو ان کے دل میں مایوسی پیدا ہونا فطری بات ہے۔

اسلام عدل و انصاف کو معاشرے کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ جہاں انصاف کمزور پڑ جائے، وہاں اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے، اور اس کے اثرات پوری نسل پر مرتب ہوتے ہیں۔

ذہنی صحت اور صبر

مسلسل دباؤ، غیر یقینی حالات اور مستقبل کی فکر انسان کو بے چینی اور ذہنی تھکن میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ اسلام ایسے حالات میں صبر، دعا، توکل اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"پس یقیناً دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔"
(سورۃ الشرح: 5-6)»

اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

«"اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔"
(سورۃ البقرہ: 286)»

یہ آیات نوجوانوں کو امید، حوصلہ اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا عطا کرتی ہیں کہ آزمائشیں دائمی نہیں ہوتیں، اور ہر مشکل کے بعد اللہ تعالیٰ آسانی پیدا فرماتا ہے۔

والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری

نوجوانوں کو صرف تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی بات سننا، ان کے احساسات کو سمجھنا اور ان کی رہنمائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نوجوانوں کے ساتھ محبت، شفقت اور حکمت سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد فرمایا، انہیں ذمہ داریاں عطا فرمائیں اور بہترین انداز میں ان کی تربیت کی۔

سوشل میڈیا کا محتاط استعمال


سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن اگر اسے بے سوچے سمجھے استعمال کیا جائے تو یہ بے چینی، احساسِ کمتری اور وقت کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔

مسلمان نوجوان کو چاہیے کہ وہ ایسے ذرائع اختیار کرے جو اس کے علم، کردار، ایمان اور مہارت میں اضافہ کریں، اور اپنی زندگی کا مقصد صرف دوسروں کی توجہ حاصل کرنا نہ بنائے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنی حقیقی اصلاح کو اپنا نصب العین بنائے۔

ہماری اجتماعی ذمہ داری


صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، تعلیمی ادارے، حکومتیں اور پورا معاشرہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ ایسا ماحول فراہم کرے جہاں محنت کا احترام ہو، میرٹ قائم رہے، انصاف کو فروغ ملے اور نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لا سکیں۔

اختتامیہ

جنریشن زی کا بحران صرف ایک نسل کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو سمجھیں، ان کی رہنمائی کریں، ان کے لیے انصاف پر مبنی مواقع پیدا کریں اور انہیں قرآن و سنت کی تعلیمات سے جوڑ دیں، تو یہی نوجوان مستقبل کے بہترین معمار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نوجوان نسل کی صحیح رہنمائی کرنے، ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور انہیں علم، ایمان، حکمت، صبر اور بہترین کردار سے آراستہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ازقلم: زا-شیخ