*بوادرُ النّوادر کی طلب و جستجو لوگوں میں آج کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟*
*(حکیم الامت مجددِ ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ)*
*از: ابو اشرف علی گڈاوی*
حضرت حکیم الامت مجددِ ملت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی علمی و روحانی میراث برصغیر کی تاریخ میں ہمیشہ ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی رہی ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں خاص طور پر بوادرُ النّوادر کی طرف جس غیر معمولی توجہ، طلب اور جستجو میں اضافہ ہوا ہے، وہ محض ایک ادبی رجحان نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی فکری پیاس کا زندہ ثبوت ہے۔ موجودہ زمانہ جس الجھن، انتشار، علمی بے اعتدالی اور فکری بے سمتی سے دوچار ہے، اس نے قلوب و اَذہان کو اس جستجو پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایک ایسی آواز سنیں جس میں دلیل بھی ہو، بصیرت بھی ہو، روحانیت بھی ہو اور اعتدال بھی۔ بوادرُ النّوادر اسی آواز، اسی توازن اور اسی نور کا نام ہے۔
یہ کتاب حضرت تھانویؒ کی آخری تصنیف ہونے کے ناتے ان کی علمی زندگی کے پورے سفر کا نچوڑ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ تفسیر و حدیث سے لے کر فقہ و کلام تک، اور روحانیت و تصوف سے لے کر عقلی تحقیق تک، ہر فن اس انداز میں جلوہ گر ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے گویا ایک ہی مجلس میں قرآن کی حکمتیں بھی بیان ہو رہی ہیں، حدیث کا نور بھی چھلک رہا ہے، فقہ کی باریکیاں بھی کھل رہی ہیں، اور دل کے اندر کی گتھیاں بھی سلجھ رہی ہیں۔ یہی جامعیت آج کے قاری کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے، کیونکہ آج ذہن ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے اور دین کا مجموعی مزاج کہیں نظر نہیں آتا۔ بوادرُ النّوادر وہ کتاب ہے جو اسے دوبارہ ایک ہی مرکز پر جمع کر دیتی ہے۔
اس جدید و معیاری طبع نے اس کتاب کی محبوبیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ محدث کبیر، فقیہ النفس حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب دامت برکاتہم کی نگرانی میں اس کی تصحیح، تنقیح، ترتیبِ جدید، شاملِ کتاب حصّہ ”البدائع“ کا انضمام، آیات و احادیث کے رواں ترجمے، نصوص کی تخریج، اور بعض مقامات پر نہایت وقیع توضیحات؛ یہ سب مل کر بوادرُ النّوادر کو عصرِ حاضر کے معیار پر ایک نئی زندگی دے گئے ہیں۔ علم کا وہ ذخیرہ جو پہلے صرف اہلِ ذوق کی دسترس میں تھا، اب عام قاری کے لیے بھی سہل، واضح اور قابلِ استفادہ ہو گیا ہے۔ یہ رسائی بھی لوگوں میں اس کتاب کی طلب بڑھانے کا اہم سبب ہے۔
آج کے فکری ماحول میں ایک ایسا متن جس میں نہ شدت ہے، نہ بےجا نرمی؛ نہ عقل کی سنگ دلی ہے، نہ جذبات کی بے لگامی؛ نہ تصوف کا بےسند رویہ ہے، نہ فقہ کی خشک رسمیّت، بلکہ ایک ایسا اعتدال ہے جو دل کو بھی نوازے اور عقل کو بھی مطمئن کرے؛ یہی وہ چیز ہے جس کی کمی آج پوری دنیا محسوس کر رہی ہے۔ بوادرُ النّوادر اسی اعتدال کا زندہ پیکر ہے۔ اس میں ہر مسئلے پر وہ حکمت جھلکتی ہے جو نہ صرف علمی اشکالات کو رفع کرتی ہے بلکہ باطن کی بےچینی بھی دور کرتی ہے اور انسان کو شریعت کے رنگ میں ڈھال دیتی ہے۔
یہ کتاب پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ وہ محض معلومات نہیں حاصل کر رہا، بلکہ اس کے اندر ایک نئی فکری ساخت پیدا ہو رہی ہے۔ دل میں نور اتر رہا ہے، اور ذہن کی دھند چھٹ رہی ہے۔ یہی احساس آج کی دنیا میں سب سے زیادہ مطلوب ہے، اور یہی بوادرُ النّوادر کو دورِ حاضر کی علمی و روحانی ضرورت بنا دیتا ہے۔
یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ یہ کتاب حضرت تھانویؒ کے قلم سے نکلا ہوا آخری فیضان ہے، جو اس امت کے لیے ایک روشن رہنمائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لوگ اس لیے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ اس دورِ فتن میں “سمجھ کر جینے” کے لیے، “اعتدال پر قائم رہنے” کے لیے، اور “دل و دماغ دونوں کو یکساں روشن رکھنے” کے لیے اسی طرح کے علمی نصاب کی ضرورت ہے۔
اگر کوئی پوچھے کہ بوادرُ النّوادر آج کیوں مطلوب ہے؟
تو جواب یہی ہے:
کیونکہ دلیں اندھیرے میں ہیں، ذہن بھٹکے ہوئے ہیں، اور انسان روشنی تلاش کر رہا ہے، اور یہ کتاب روشنی دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس نور سے حصہ عطا فرمائے اور حضرت تھانویؒ کے فیوض کو قیامت تک جاری رکھے۔ آمین۔
رابطہ نمبر 👇
9065331343