ہم سننا کیوں بھول گئے ہیں ؟؟؟؟
24 جولائی، 2026
قدرت نے انسان کو دو کان اور ایک زبان عطا کی ہے، گویا یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ بولنے سے زیادہ سننے کی اہمیت ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے شور زدہ دور میں ہر شخص اپنی بات منوانا چاہتا ہے، اپنی رائے کو درست ثابت کرنے میں مصروف ہے اور اپنی آواز کو نمایاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن دوسروں کو توجہ سے سننے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم گفتگو تو کرتے ہیں، مگر مکالمہ نہیں؛ ہم جواب دینے کے لیے سنتے ہیں، سمجھنے کے لیے نہیں۔
آج کا انسان معلومات کے انبار میں گھرا ہوا ہے، مگر فہم و ادراک کی دولت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر فرد کو بولنے کا پلیٹ فارم تو دے دیا ہے، لیکن سننے کا حوصلہ اور برداشت کم کر دی ہے۔ نتیجتاً اختلافِ رائے دشمنی میں بدل جاتا ہے، معمولی غلط فہمیاں بڑے تنازعات کو جنم دیتی ہیں اور رشتوں میں دوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں
اسلام نے سننے اور غور و فکر کرنے کی صفت کو مومن کی نمایاں خصوصیت قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
﴿فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ﴾ (سورۃ الزمر: 17-18)
ترجمہ: "پس میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجیے، جو بات کو غور سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔"
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو محض سنتے ہی نہیں بلکہ تدبر اور بصیرت کے ساتھ سنتے ہیں۔ گویا اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلاف یا تنقید سن کر فوراً ردِّعمل نہ دیا جائے بلکہ حکمت کے ساتھ اس پر غور کیا جائے۔
سننا محض کانوں کا عمل نہیں بلکہ دل، دماغ اور شعور کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جب ہم کسی کی بات پوری توجہ، خلوص اور غیر جانب داری سے سنتے ہیں تو نہ صرف اسے اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے بلکہ باہمی اعتماد اور احترام بھی فروغ پاتا ہے۔ اس کے برعکس جب ہم دوسروں کی بات کاٹتے ہیں، ان کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے یا پہلے سے قائم تصورات کی بنیاد پر فیصلے کر لیتے ہیں تو تعلقات کمزور پڑنے لگتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ "ہم سننا کیوں بھول گئے؟"
شاید اس لیے کہ ہم نے سمجھنے سے زیادہ اپنی بات منوانے کو اہمیت دے دی ہے۔ ہم نے مکالمے کی جگہ مباحثے اور فہم کی جگہ انا کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ حالانکہ کسی کی بات توجہ سے سن لینا محض ایک اخلاقی وصف نہیں بلکہ دلوں تک رسائی کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔ جب انسان سننے کا سلیقہ اختیار کر لیتا ہے تو بہت سی غلط فہمیاں جنم لینے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہیں۔
شاید اسی لیے
دانائی کی پہچان کثرتِ کلام نہیں، بلکہ حسنِ سماعت اور وسعتِ نظر ہے۔"
لہٰذا آئیے! اپنی گفتگو میں نرمی اور اپنی سماعت میں وسعت پیدا کریں، کیونکہ سننے والے دل ہی حقیقی معنوں میں دوسروں کے قریب ہوتے ہیں۔
ازقلم : فاطـــمــ.ابوالكلام.ــــــه 🥀