صدقِ آغاز اور استقامت ِ سفر
23 جولائی، 2026
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، جس نے انسان کو ایمان، عملِ صالح اور استقامت جیسی عظیم نعمتوں سے نوازا، صدق و اخلاص کو اپنے قرب کا ذریعہ بنایا، اور سچے بندوں کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی مقدر فرمائی۔ درود و سلام ہو سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر، جنہوں نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ کے ذریعے امت کو یہ سبق دیا کہ زندگی کی حقیقی کامیابی صرف نیک کام کا آغاز کرنے میں نہیں بلکہ اس پر آخر دم تک ثابت قدم رہنے میں ہے۔
اسلام انسان کو صرف وقتی جوش، جذباتی نعروں یا عارضی نیکیوں کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ اخلاص کے ساتھ آغاز، ثابت قدمی کے ساتھ سفر اور ایمان پر خاتمہ کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی وہ تین بنیادی ستون ہیں جن پر ایک کامیاب مومن کی پوری زندگی استوار ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ. اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
تقویٰ ہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کو صدقِ نیت عطا کرتا ہے، اخلاص پیدا کرتا ہے، استقامت بخشتا ہے اور انجام کو سنوار دیتا ہے۔
دنیا کا ہر عظیم کارنامہ ایک سچے ارادے سے شروع ہوتا ہے۔ انسان اگر اپنے مقصد کے آغاز میں مخلص نہ ہو تو راستے کی پہلی رکاوٹ ہی اسے ہرا دیتی ہے، لیکن جب ابتدا اللہ کی رضا، خلوصِ نیت اور پختہ عزم کے ساتھ ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔
کوئی عالم ایک دن میں عالم نہیں بنتا، کوئی مصلح ایک دن میں امت کا رہنما نہیں بنتا، کوئی داعی ایک تقریر سے انقلاب برپا نہیں کرتا، بلکہ ہر عظیم شخصیت کے پیچھے صدقِ نیت، مسلسل محنت، صبر، قربانی اور استقامت کی طویل داستان ہوتی ہے۔
اسی لیے قرآن کریم نیکی کے آغاز میں تاخیر سے روکتا اور فوراً عمل کی دعوت دیتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ. اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑ پڑو۔
دوسری جگہ فرمایا: فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ. نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ. وہ نیکیوں میں سبقت کیا کرتے تھے۔
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ مومن کا شعار سستی، کاہلی اور ٹال مٹول نہیں بلکہ فوری اطاعت، عملی اقدام اور اخلاص کے ساتھ نیکی کا آغاز ہے۔
دنیا میں کوئی کسان بیج بوئے بغیر فصل کا انتظار نہیں کرتا، کوئی طالبِ علم کتاب کھولے بغیر کامیابی کی امید نہیں رکھتا، کوئی تاجر محنت کے بغیر منافع حاصل نہیں کرتا۔ اسی طرح دین کے میدان میں بھی بغیر اخلاص، بغیر قربانی اور بغیر محنت کے کامیابی ممکن نہیں۔
جو شخص ہر وقت یہ کہتا رہے کہ میں کل سے توبہ کروں گا، کل سے نماز شروع کروں گا، کل سے قرآن پڑھوں گا، کل سے دعوت کا کام کروں گا، اس کا یہ "کل" اکثر کبھی نہیں آتا۔
اس کے برعکس مومن آج ہی سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔
صرف نیک آغاز کافی نہیں بلکہ اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ انسان پوری زندگی اسی راہ پر قائم رہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ. اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جس میں دوام ہو اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وقتی جوش سے کیا گیا بڑا عمل اتنا محبوب نہیں جتنا مستقل مزاجی سے کیا جانے والا چھوٹا عمل۔
استقامت انسان کی شخصیت میں پختگی پیدا کرتی ہے، ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کا ذریعہ بنتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء نے ہمیں یہی سبق دیا کہ دعوت کا راستہ مشکلات سے خالی نہیں ہوتا۔
حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔ رات ہو یا دن، تنہائی ہو یا مجمع، مخالفت ہو یا تمسخر، آپ نے دعوت کا سلسلہ منقطع نہیں کیا۔ قوم نے مذاق اڑایا، تکذیب کی، ایذائیں پہنچائیں، مگر آپ کی ثابت قدمی میں کوئی فرق نہ آیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوئی۔
اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگ برداشت کی مگر توحید سے پیچھے نہ ہٹے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے جابر کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مخالفتوں کے باوجود اللہ کا پیغام پہنچایا۔
تمام انبیاء کی مشترک صفت یہی تھی کہ انہوں نے سچے دل سے آغاز کیا اور استقامت کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کی۔
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی استقامت کا روشن مینار ہے۔ مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، شعبِ ابی طالب کا سخت محاصرہ برداشت کرنا پڑا، طائف میں لہولہان کیا گیا، صحابہ کرام کو سخت اذیتیں دی گئیں، مگر نہ آپ ﷺ نے دعوت کا راستہ چھوڑا، نہ حق سے پیچھے ہٹے، نہ دشمنوں کے سامنے جھکے۔ یہی استقامت تھی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ. آخرکار دینِ اسلام کو غلبہ نصیب ہوا اور اللہ کی نعمت مکمل ہوئی۔
ایک صحابی نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے اسلام کی ایسی جامع بات بتا دیجئے کہ پھر مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ. کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اسی پر ثابت قدم رہو۔
گویا ایمان کے بعد سب سے بڑی ضرورت استقامت ہے۔ یہی ایمان کو محفوظ رکھتی، اعمال کو قبولیت عطا کرتی اور حسنِ خاتمہ کا ذریعہ بنتی ہے۔
انسان کی اصل کامیابی دولت، شہرت، اقتدار یا منصب نہیں بلکہ ایمان پر خاتمہ ہے۔
جو شخص پوری زندگی اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت کرتا ہے، مشکلات میں ثابت قدم رہتا ہے، گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے حسنِ خاتمہ کا فیصلہ فرماتا ہے۔ اسی لیے ہر مسلمان کو صرف نیکی شروع کرنے کی فکر نہیں بلکہ اس پر زندگی بھر قائم رہنے کی فکر بھی کرنی چاہیے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں صدق، اخلاص، استقامت اور دوام کو اختیار کریں۔ ہر نیک کام کا آغاز اللہ کی رضا کے لیے کریں، مشکلات سے نہ گھبرائیں، آزمائشوں میں ثابت قدم رہیں، اور پوری زندگی حق کے راستے پر چلتے رہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں عزت، آخرت میں نجات اور اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی نیت کے ساتھ نیک اعمال کا آغاز کرنے، ان پر استقامت اختیار کرنے، اپنی پوری زندگی کو اطاعت و عبادت سے آراستہ کرنے اور ایمان و تقویٰ کے ساتھ حسنِ خاتمہ نصیب فرمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔