سوشل میڈیا پہ حقوقِ انسانی کی ہمدردی بٹورنے والے آج کہاں غائب ہوگئے، ملک میں ہر طرف افرا تفری، انسانوں کا سیلاب، جنتر منتر کا متاثر کن ماحول چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ پروٹیسٹ ملک کا قانونی حق ہے۔
زر خرید غلام گودی میڈیا منظر کو یکسر تبدیل کرنے کا پرانا ہنر آزما رہی ہے۔
 اس ملک میں یہ عوام کی آزادی پر اندھا دُھن لاٹھی چارج، آنسو گیس، مرد و زن دونوں پر یکساں جبر و تشدد سے حکومت ان کو ہراساں، خوف زدہ، غلام بنا سکتی ہے؟
 نہیں نہیں اسلیے بھی کہ انقلاب زندہ باد کا نعرۂ مستانہ بلند تر مسلمانوں کا عطیہ ہے، جنہوں نے کبھی خوف و ہراس کو دل میں جگہ نہ دی۔
جرات و عزیمت کے تاریخ ساز متوالوں نے نہ کبھی چڑھتے سورج کی پرستش کی، نہ کبھی ستاروں کو اپنا معبود مانا،
غیرت ایمانی جن کا طرۂ امتیاز رہا۔
تاریخِ جرأت و عزیمت جن کی مرہونِ منت ہے۔ 
پروازِ چمن جن کے بلندی کی دلیل ہو۔
ایسے تاریخ ساز کو پڑھنے والوں کے قدم متزلزل ہو سکتے ہیں؟
نہیں نہیں ہرگز نہیں !
 اور یہ نعرۂ دیوانگی و مستانگی مسلمانوں کے جزبۂ ارادت سے ملا ہے۔ اگر یقین نہ ہو تو تمام اقوام عالم کی جنگوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں کوئی اور قوم ,مستانگی تو کُجا, دیوانگی کی نظیر نہ پیش کرسکی۔


اب آزادی، حقوقِ انسانی، ملک ملت کے لیے سینہ سپر ہوجانا صرف مسلمانوں کی نہیں ہر قوم کی ضرورت بھی ہے۔

ملک و ملت پر فدا عمر رواں کرتے چلو
یہ حیاتِ چند روزہ جاوداں کرتے چلو

آنے والوں کے لیے بن کر چراغِ آگہی
اپنا ہر نقشِ قدم منزلِ نشاں کرتے چلو

محمد شاہد رحمانی 
۷ صفر المظفر ۱۴۴۸ھ