امام اعظم ابو حنیفہ کو اللہ تعالی نے بے پناہ فراست و زکاوت سے نوازا تھا امام صاحب مشکل سے مشکل مسئلہ کو اتنی آسانی سے حل فرماتے تھے کہ بڑے بڑے علم و فن کے تاجدار بھی حیران و ششدر رہ جاتے تھے یہی وجہ ہے کہ وقت کے جبال العلم علماء اور فقہ و حدیث کے آفتاب و مہتاب نے اپ کی ذہانت حاضر جوابی اور فراست و ذکاوت کا اعتراف کیا ہے اور نہ صرف اپ کے معتقدین بلکہ معاصرین اور متعصبین نے بھی اس حقیقت کا اظہار کیا ہے



عبداللہ ابن مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو فہم و فراست میں ابو حنیفہ سے بڑھ کر نہیں پایا( تاریخ بغداد (469/15) 
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر ابو حنیفہ کی عقل کو اہل زمین کی عقل سے تولے تو ابو حنیفہ کی عقل غالب ا
جائے گی (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ 1 /91)


 ہارون رشید نے جب امام صاحب کے بارے میں سنا تو فرمایا کہ ابو حنیفہ اپنے دل کی انکھوں سے وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جو ہم اپنے سر کی انکھوں سے نہیں دیکھ پاتے ہیں
 /تاریخ بغداد جلد(16
(369


 یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ میں بہت سے لوگوں سے ملا لیکن میں نے امام ابو حنیفہ سے زیادہ عقلمند کسی کو نہیں پایا اخبار ابی حنیفہ وصحابی جلد ایک صفحہ 42 امام شافعی فرماتے ہیں کہ عورتوں نے ابو حنیفہ سے زیادہ کسی کا عقلمند پیدا نہیں کی(مناقب ابی حنیفہ للموفق جلد 1 /
(155

تاریخ کی کتابوں میں امام صاحب کی ذہانت و زکاوت اور فہم و فراست کے بہت سے حیران کن واقعات مذکور ہیں امام صاحب کی فراست کے ان واقعات سے علمی و فقہی مسائل کی گرہ کشائی کے راستے معلوم ہوتے ہیں نیز یہ واقعات ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں اور فکر صحیح اور فکر سلیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں زیل میں چند واقعات نقل کیے جاتے ہیں جن سے امام صاحب کا علمی تباہور جامعیت کاملیت قوت استہزار اور مجتہدانہ شام جھلکتی نظر آتی ہے