اے جنت کی طلبگار خواتینِ اسلام!

پردہ اسلام کا نہایت خوبصورت اور حکمت سے بھرپور حکم ہے، جو عورت کو عزت، تحفظ اور وقار عطا کرتا ہے۔ پردہ صرف کپڑے کا نام نہیں بلکہ حیا، کردار اور خودداری کا نام ہے۔

یہ نہ صرف ایک لباس ہے بلکہ حیا، پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا مظہر ہے۔ پردہ دراصل ایک ایسا حصار ہے جو عورت کو گندگی، فتنہ، اور شیطانی نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے، اور اُسے عزت و عظمت کے مقام پر فائز کرتا ہے۔


ارشاد ربانی ہے:

"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ، ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ"

(سورۃالاحزاب: آیت نمبر 59)

کہ "اے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم )!آپ اپنی ازواج مطہرات سے اور اپنی بیٹیوں اور مؤمنین کی عورتوں سے فرمادیجیے کہ وہ اپنے چہرے پر اپنی چادر کا کچھ حصہ لٹکائے رکھیں۔ یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ انہیں پہچان لیا جائے ، پھر انہیں ایذاء نہ دی جائے۔"

یہ آیت اس بات کو صاف طور پر واضح کرتی ہے کہ پردہ عورت کی عزت، شناخت اور حفاظت کا ذریعہ ہے۔



اے عفت و شرم و حیاء کی مجسم تصویر!

پردہ عورت کو بےحیائی، فتنہ، اور برائیوں سے بچاتا ہے اور اسے عزت و احترام کی ڈھال فراہم کرتا ہے۔ ایک باپردہ عورت اپنی نظروں، گفتار اور لباس سے خود کو محفوظ رکھتی ہے، اور دوسروں کے دل میں بھی احترام پیدا کرتی ہے۔


پردہ عورت کی خوبصورتی کو نہیں چھپاتا بلکہ اس کی اصل عظمت اور پاکیزگی کو ظاہر کرتا ہے۔

بعض لوگ پردے کو قید یا پابندی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ درحقیقت عزت و آزادی کی علامت ہے۔ پردہ عورت کو ان نظروں سے بچاتا ہے جو اسے صرف جسمانی شے سمجھتی ہیں، اور اسے وہ آزادی دیتا ہے جو خودداری، اطمینان اور تحفظ سے بھرپور ہوتی ہے۔



الغرض

پردہ عورت کا وقار، عزت اور تحفظ ہے۔ یہ نہ صرف اللہ کا حکم ہے بلکہ ایک عظیم نعمت بھی ہے جو عورت کو دنیا و آخرت میں کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ پردہ اختیار کر کے عورت خود کو "نگینہ" بناتی ہے، جسے زمانہ عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔





القلم: محمد احمد اسلمی مدھوبنی