!نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد


ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں آئین میں ہر شہری کو رائے دہی کا حق، مساوات، انصاف، مذہبی ازادی اور ترقی کی ضمانت دی ہے، مگر آج 77 سال سے زائد گزرنے کے باوجود ملک کی بڑی اقلیت مسلمان نہ صرف سیاسی پسماندگی کا شکار ہے بلکہ سیاسی شعور موثر نمائندگی اور قیادت کی تیاری میں بری طرح پیچھے ہے،


آزادی کے بعد مسلمانوں نے سیاسی قیادت سے کنارہ کشی اختیار کر لی، علمائے کرام اور دینی طبقات نے اسلامی سیاست کو ترک کر دیا، سیکولر جماعتوں پر اندھا اعتماد کیا مگر بدلے میں صرف ووٹ لیا گیا وقار نہیں دیا گیا


 ہم نے اپنی جماعتیں بنانے میں دیر کی اور جب بنائی تو انہیں افتراق اور مفاد پرستی نے کمزور کر دیا تعلیم و میڈیا جیسے شعبوں سے لا تعلقی نے سیاسی شعور کو بانچ کر دیا مسلم نوجوان صرف احتجاج تک محدود ہے سوشل میڈیا پر غصہ مگر میدان میں سکون لیڈر کم اثر انداز نیتا اور یوٹیوبر زیادہ سیاست میں ری ایکشن  تو ہے ویژن نہیں،




اب بھی وقت ہے ہم بات کو سمجھیں کہ ووٹ صرف انگلی کی سیاہی نہیں یہ نسلوں کا فیصلہ ہے مسلمانوں کو اپ شکایت چھوڑ کر حکمت سے کام لینا ہوگا رد عمل کے بجائے پیش قدمی کرنی ہوگی صرف نعرے ہی نہیں فکری انقلاب لانا ہوگا دین کو سیاست سے جوڑ کر اصلاحی سیاست کا اغاز کرنا ہوگا قیادت جو رب سے ڈرتی ہو وہیں قوم کو اندھیروں سے نکال سکتی ہے اگر مسلمان آج بھی بیدار نہیں ہوئے تو صرف ان کا ووٹ نہیں چھنے گا ان کا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے



 ستارے ٹوٹ گئے لیکن سورج ابھی چمک رہا ہے یہ کتنا پرمانہ جملہ ہے اگر ہمارے کچھ رہنما چلے گئے کچھ چراغ بجھ گئے تو کیا کچھ ختم ہو گیا نہیں ابھی قرآن ہمارے پاس موجود ہے ابھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں ابھی امت میں خیر باقی ہے ہمیں اسی سورج سے کرنیں مانگتی ہے اور انہیں ان راہوں پر بچھانا ہے جہاں امت اندھیروں میں بھٹک رہی ہے خود کو چراغ بناؤ دوسروں کو روشنی دو



 آج اگر دنیا میں ظلم ناانصافی فکری انحراف اخلاق پستی ذہنی غلامی اور روحانی خلا ہے تو اس کا سبب صرف دوسروں کی چالاکی نہیں بلکہ ہماری غفلت خاموشی اور بے حسی بھی ہے ہمیں اپنی ذات کو ایک چراغ بنانا ہوگا علم کا چراغ عمل کا چراغ، صداقت اخلاص اور قربانی کا چراغ، یہی وہ چراغ ہے جو قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے یہی وہ چراغ ہے جو معاشرے کو زندہ کر سکتا ہے یہی وہ چراغ ہے جو امت کو قیادت عطا کر سکتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں وقت بدل چکا ہے مسائل نئے ہیں لہذا طریقہ بھی نیا ہونا چاہیے ہم کہتے ہیں مسائل نے ضرور ہیں مگر اصول ہدایت وہیں قدیم ہے قران نے ہمیشہ ایک ہی
فارمولہ دیا ہے

 آل عمران ایت نمبر
139

کمزور مت بنو غم نہ کرو اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب اؤ گے یہ قران کا انقلابی پیغام ہے کہ غلبہ نہ مال سے نہ طاقت سے اور نہ تعلقات سے بلکہ صرف اور صرف ایمان سے حاصل ہو سکتا ہے سچ مچ کے ایمان سے

ہمیں بدلنا ہوگا، دنیا خود بدل جائے گی، اب وقت آ چکا ہے کہ ہم خود کو بدلیں ہم اپنے دل میں ایمان کی حرارت پیدا کریں ہم اپنے علم کو ہتھیار بنائیں ہم عمل اخلاص استقامت اور قربانی کو شعار بنائے یہی تبدیلی ہماری زندگی کی سمت بدلے گی یہی،انقلابی،امت کے مقدر کا سورج طلوع کرےگا





اے اللہ ہمیں خود کو پہچاننے کی توفیق عطا فرما ہمیں مایوسی خوف اور بے عملی سے نکال ہمیں وہ یقین وہ ہمت و حکمت اور وہ روشنی عطا کر جس سے ہم خود بھی بدلیں اور دنیا کو بھی بدل دے امین یا رب العالمین