موجودہ ماحول میں ملت اسلامیہ کی دو بنیادی ضرورتیں
20 جولائی، 2026
کہنے کو تو ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، لیکن خصوصی نقطہ نظر رکھنے والے افراد بر سر اقتدار ہیں، قانون ان کے رنگ میں رنگ چکا ہے، میڈیا پر ان کے بول بولے جارہے ہیں، ان کے حسیں خواب شرمندہ تعبیر ہورہے ہیں، سالوں قبل جو منصوبہ بنایا گیا تھا اب اسے عملی شکل دی جارہی ہے، ہر اس حربے کو اپنایا جارہا ہے جس کے ذیعہ قوم مسلم کو بے چین کیا جاسکے، ان کے رگ وپے میں خوف و ہراس داخل کیا جاسکے۔
غور کیا جائے تو ان تمام مقاصد کےلئے دو ذرائع بکثرت استعمال ہورہے ہیں۔
۱: میڈیا
۲: عدالت اور قانون
میڈیا کے ذریعہ عوامی ذہن کو اسلام اور مسلمان سے برگشتہ کیا جارہا ہے، ان کے ذہنوں میں اس خاص قوم کےلئے زہر گھولا جارہا ہے، جب وقت پڑے تو قانون کو توڑ مروڑ کر استعمال کیا جاتاہے، اور عدالت تو عدالت ہے، دلائل و شواہد سے چشم پوشی نے تو بس مایوسی عطاء کی ہے۔
ایسے نازک وقت میں اس ملت کو اچھے قانون داں درکار ہیں جو ملی مسائل کو اسلامی منظرنامے کے ساتھ بہترین انداز میں پیش کرسکیں، اور ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس درکار ہیں جو الزامات کا مقابلہ کریں اور اتنی قوت حاصل کریں کہ ہم دفاعی پوزیشن سے نکل کر اقدام تلک آجائیں۔
یقینا یہ دونوں محاذ نہایت اہم ہیں، چلئے دونوں کو دیکھتے چلیں۔
قانونی بیداری:
ہندوستانی دستور نے ہر شہری کو حقوق فراہم کئے، انصاف کا وعدہ کیا، عدلیہ کا نظام اسی کےلئے قائم کیا گیا، لیکن جو قوانین عام شہریوں کےلئے قید ورق میں لائے گئے، کیا ہر شہری کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنے حقوق سے واقف ہو؟ استعمال حق کے طریقے جانتا ہو؟ مکمل قانون نہ سہی، اپنے حلقہ ربط و ضبط کے قوانین سے لازما واقف ہو کہ :
دستورِ ہند میں کریمنل لاء کسے کہتے ہیں؟
سول لاء کسے کہتے ہیں؟
کس کی خلاف ورزی پر کونسا فرد جرم عائد ہوتا ہے؟
کوٹ کی کتنی اقسام ہیں
ہمیں کونسا معاملہ کہاں دائر کرنا چاہئے؟
کس معاملے میں حقیقتا ایف آئی آر ہوسکتی ہے؟ اور کن معاملات میں بس ایک کاغذ پر رپوٹ لکھ کر ایف آئی آر کی دھمکی دی جاتی ہے؟
کتنے نوجوان جیلوں میں بس اس لئے قید ہیں کہ وہ چند سو روپئے جرمانہ ادا نہیں کرسکتے، کتنے ایسے جن کی بیل ہوسکتی ہے، لیکن کسی نے ان کا کیس کوٹ میں داخل ہی نہیں کیا، آخر ان امور پر توجہ کون دیں گے؟
یہ تو عمومی چیزیں ہیں، ہر شہری کو ان سے واقف ہونا چاہئے، بالخصوص اس وقت جب قانونی باریکیوں کو حربے کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہو!
ایک بڑا مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ مسلم قیادت کورٹ جاتی ہے تو ایسے وکلاء دستیاب نہیں ہوتے جو قانون ہند کے ساتھ قانون اسلام کی بہترین موافقت ظاہر کرسکیں، کسی اسلامی حکم کی بہترین توضیح کرسکیں، اور یقینی بات ہے کہ جب تک اسلامی حکم کی برتری ثابت نہ کر دیں، قانون ہم پر رحکم کیونکر کرے؟
اور جب مسلم قیادتیں کورٹ پہنچتی ہیں تو ملی مسائل میں بھی لوگ متفرد ہوتے ہیں، دو دو، چار چار افراد مل کر پیٹیشن دائر کرنے لگتے ہیں، خیال ہوتا ہے کہ ہم نے بڑا اچھا کام انجام دیا ہے، اسلام کا دفاع کی بڑی اچھی کوشش کی ہے، لیکن لیکن......
حقیقت یہ ہے کہ قانون جذباتی بیان کو نہیں دیکھتا، وہ پیٹیشن انداز اور قوت دلیل پر نظر رکھتا ہے، اگر قانونی لحاظ سے کہیں کمزوری معلوم ہوتو انہیں صد فیصد حق ہوتا ہے کہ اس درخواست کو مسترد کردیں......
مسلم نمائمدہ تنظیموں نے یہ درد ظاہر کیا ہے کہ ہم تجربہ کار وکلاء کے ساتھ اسی معاملے کی ترجمانی کررہے تھے، کئی افراد نے انفرادی پیٹیشن دائر کی، قانونی معیار پر وہ کھڑے نہ اترے، ان کی درخواست ہی مسترد نہ ہوئی بلکہ پورے معاملے کو کمزور قرار دے دیا گیا!
لہذا جذبات سے نکل عقل و شعور کے ساتھ کام کرنا پڑے گا۔
فی الحال ہم دو کام کرسکتے ہیں:
(۱) عوام و خواص کو سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے بنیادی حقوق سے واقف کرائیں، طریقہ استعمال بتائیں، قانونی شعور بیدار کریں۔
(۲) ایسے مسلم وکلاء تیار کریں جو ملی مسائل کے ساتھ اسلامی احکام کی بہترین ترجمانی کرسکیں، اس کام کےلئے ایک باصلاحیت عالم کا وکیل بن جانا بہترین اقدام ثابت ہوگا، ان شاءاللہ۔
آخر کب تک ہاتھ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا رہیں؟ کب تک اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرکے چند تنظیموں پر نقد کریں گے؟ اگر وہ اجتماعی نمائندگی کررہے ہوں تو کیا ہر فرد پر انفرادی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ یقینا ہوتی ہے! لیکن ہم نقد و تبصرہ کرکے خاموش ہوجاتے ہیں، شور مچاتے ہیں، مچلتے ہیں، اچھلتے ہیں، پھر اپنے کام میں لگ جاتے ہیں، وقف بل کا مسئلہ آجاتا ہے تب بیدار ہوتے ہیں، وہ بھی اسی قدر جتناکہ یہ تنظیمیں بیدار کرتی ہیں۔
ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ حالیہ ایک دہائی میں دسیوں قوانین پر گفتگو ہوئی، شرعی مسائل کو خرد برد کرنے کی کوشش کی گئی؟ ہم نے جذبات اور نعروں کے سوا کیا کیا؟ کیا اپنے حقوق سے واقف ہوئے، قانون کا کچھ مطالعہ کیا؟ وکلاء کی ضرورت تھی تو اپنے ترجمان وکیلوں کوتیار کیا؟
اکثر جوابات محض نفی میں ہیں!
کیوں؟
ہم جذبات میں بہہ گئے، نعروں میں رہ گئے، اور وہ قوم خاموشی کے ساتھ ہم پر حاوی ہوتی چلی گئی۔
اب بھی وقت ہے، چمن ویران نہیں ہوا ہے!
بس خزاں موسم آیا ہے، کوششیں جاری رہیں تو موسم بہار بھی دو قدم دور ہے، بس ہر فرد ذاتی طور پر آغاز کرے، یوٹیوب اور موبائل پر ہی سہی، دستور سے واقفیت حاصل کرے۔
جاری.....