آئینہ صرف اپنے لیے!
17 جولائی، 2026
جب بھی کوئی دینی یا اصلاحی بات ہمارے کانوں تک پہنچتی ہے تو ہمارا پہلا ردِّعمل ہی ہمارے باطن کی کیفیت کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اس وقت ہمارے سامنے دو راستے ہوتے ہیں:
❶ دوسروں پر منطبق کرنا
بات سنتے ہی ذہن میں کسی اور کا چہرہ آ جائے کہ "یہ نصیحت تو فلاں کے لیے ہے" یا "کاش وہ یہ بات سن لیتا!" تو یہ نفس کا ایک دھوکہ ہے۔ اس رویّے سے ہم دوسروں کی اصلاح میں لگ جاتے ہیں، جبکہ اپنی اصلاح سے غافل رہتے ہیں۔
❷ خود اپنا احتساب کرنا
اہلِ ایمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ ہر نصیحت کو سب سے پہلے اپنے لیے سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے عیب تلاش کرتے ہیں، اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خاموشی سے اپنے کردار کو بہتر بناتے ہیں۔
یاد رکھیے!
دینی یا اصلاحی بات کا اصل مقصد دوسروں کو بدلنا نہیں، بلکہ خود کو بدلنا ہے۔ جو شخص ہر نصیحت کو اپنے لیے آئینہ بنا لیتا ہے، وہی حقیقی اصلاح کی منزل تک پہنچتا ہے۔
آئیے عہد کریں!
اگلی بار جب بھی کوئی نصیحت سنیں تو یہ نہ سوچیں کہ "یہ کس کے لیے ہے؟" بلکہ خود سے پوچھیں:
"اس بات میں میرے لیے کیا سبق اور کیا اصلاح ہے؟"
ازقلم: زا-شیخ