جہیز: ایک خاموش ظلم اور ہماری اجتماعی ذمہ داری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (111)
محترم و معزز قارئین! معاشروں کی تباہی ہمیشہ تلواروں کی جھنکار، جنگوں کی ہولناکی یا قدرتی آفات سے نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات چند ایسی خاموش برائیاں بھی قوموں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہیں جو رفتہ رفتہ رسم، روایت اور معاشرتی مجبوری کا لباس اوڑھ لیتی ہیں۔ "جہیز" بھی انہی خاموش ظلموں میں سے ایک ہے، جس نے نکاح جیسی مقدس عبادت کو بوجھ، محبت کو تجارت، رشتوں کو سودے بازی اور بیٹی جیسی رحمت کو معاشی بوجھ بنا دیا ہے، یہاں تک کہ یہ رسم آج پورے معاشرے کے لیے ایک خطرناک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ وہ ظلم ہے جس کے خلاف اکثر لوگ زبان سے تو بولتے ہیں، مگر عملی زندگی میں شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ ذرا ایک غریب باپ کی زندگی کا تصور کیجیے جس نے اپنی پوری عمر محنت و مشقت میں گزار دی۔ جب بیٹی کی شادی کا وقت آتا ہے تو خوشی کے بجائے اس کے دل میں فکر، پریشانی اور بے بسی جنم لیتی ہے۔ وہ اس سوچ میں ڈوب جاتا ہے کہ معاشرے کی توقعات کیسے پوری ہوں گی؟ ایک ماں اپنی ضروریات قربان کرتی ہے، زیور سنبھالتی ہے اور ایک ایک پیسہ جوڑتی ہے تاکہ بیٹی کی رخصتی کے وقت اسے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دوسری طرف ایک بیٹی اپنے والدین کی پریشانیوں کو دیکھ کر خود کو بوجھ محسوس کرنے لگتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے بیٹی کو اسی لیے رحمت قرار دیا تھا کہ اس کی شادی والدین کے لیے آزمائش اور عذاب بن جائے؟
اسلام کا تصورِ نکاح
اسلام نے نکاح کو عبادت، پاکیزگی، محبت، رحمت اور سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔"(سورۃ الروم: 21)
قرآن مجید نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ اسے مالی بوجھ اور معاشرتی مقابلے کا میدان بناتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ... إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ﴾"تم میں جو بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔"(سورۃ النور: 32)
اسلام نے مالی ذمہ داری مرد پر رکھی ہے، اسی لیے مہر کو عورت کا حق قرار دیا گیا:
﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾
"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔"
(سورۃ النساء: 4)
غور کیجیے! اسلام میں دینے والا مرد ہے اور لینے والی عورت، مگر جہیز کی رسم نے اس فطری اور عادلانہ نظام کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔
جہیز کا آغاز صندوق سے نہیں، ذہن سے ہوتا ہے
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ جہیز صرف سامان کا لین دین ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ابتدا صندوقوں سے نہیں بلکہ ذہنوں سے ہوتی ہے۔ جب معاشرہ انسان کی عزت کو تقویٰ، علم اور اخلاق کے بجائے اس کی مالی حیثیت سے وابستہ کر دیتا ہے تو جہیز جیسی رسمیں جنم لیتی ہیں اور پھر نسلوں تک معاشرے کو زخمی کرتی رہتی ہیں۔یہی وہ وجہ ہے جب رشتہ طے کرنے کا وقت آتا ہے تو دینداری، شرافت اور اچھے اخلاق کے بجائے گھر، گاڑی، فرنیچر اور نقد رقم دیکھا جاتا ہے اور جب یہ چیزیں دیکھی جانے لگے تو سمجھ لیجیے کہ معاشرہ ایک خطرناک راستے پر چل پڑا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو(مسند الشهاب 1245. ترمذی3895)
جو شخص نکاح سے پہلے ہی ایک غریب باپ کو قرضوں میں ڈبو دے، ایک ماں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ختم کروا دے اور ایک بیٹی کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر دے، وہ بھلا اس تعلیمِ نبویؐ کے مطابق کیسے بہترین انسان کہلا سکتا ہے؟
جہیز کے تباہ کن اثرات
جہیز کی لعنت نے معاشرے میں بے شمار مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ہزاروں والدین قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ بے شمار لڑکیوں کی شادیاں محض مالی مجبوریوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں۔بعض خواتین شادی کے بعد طعن و تشنیع، ذہنی اذیت اور گھریلو تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔
رشتوں کی بنیاد محبت اور اعتماد کے بجائے مادی مفادات پر قائم ہونے لگتی ہے۔
بیٹی کو رحمت کے بجائے معاشی بوجھ سمجھنے کی سوچ پروان چڑھتی ہے۔
یہ صرف ایک معاشرتی خرابی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی بحران بھی ہے۔
یہ ناسور ختم کیوں نہیں ہوتا؟
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اس برائی کو غلط تو سمجھتے ہیں لیکن اس کے خلاف عملی موقف اختیار نہیں کرتے۔
ہماری خاموشی، معاشرتی دباؤ، نمود و نمائش، لالچ اور دوسروں کی اندھی تقلید اس رسم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک معاشرہ عزت کا معیار تقویٰ اور کردار کے بجائے دولت اور سامان کو سمجھتا رہے گا، یہ بیماری مختلف شکلوں میں موجود رہے گی۔
ہماری اجتماعی ذمہ داری
اگر ہم واقعی اس ناسور کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انفرادی کوششوں کے ساتھ اجتماعی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
1۔ حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات
جہیز ایک سماجی جرم ہے جس کے مضر اثرات مذہب، قوم اور طبقے کی حدود سے بالاتر ہیں۔ دنیا کے تقریباً تمام مذاہب ظلم، استحصال اور لالچ کی مذمت کرتے ہیں۔ اس لیے حکومتوں کو چاہیے کہ جہیز مخالف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کریں، متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کریں اور اس مسئلے کے خلاف مؤثر بیداری مہم چلائیں۔
2۔ مذہبی و سماجی رہنماؤں کا کردار
ہر مذہب میں ایسی شخصیات اور رہنما موجود ہوتے ہیں جو اخلاق، قناعت اور انصاف کی تعلیم دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اپنی اولاد کی شادیوں سے پہلے ایسے نیک اور باکردار افراد کی صحبت اختیار کریں، ان سے مشورہ لیں اور اپنی زندگیوں میں سادگی اور خدا خوفی پیدا کریں۔ جب دلوں سے لالچ کم ہوگا تو جہیز کی طلب بھی کم ہوگی۔
3۔ مساجد اور مقامی کمیٹیوں کی ذمہ داری
مسلمانوں کے لیے خصوصی طور پر ضروری ہے کہ مساجد، ائمہ، محلہ کمیٹیاں اور مقامی تنظیمیں جہیز کے خلاف اجتماعی مؤقف اختیار کریں۔ محلوں اور بستیوں میں مستقل مؤثر مظبوط مہم کا آغاز ہو اور ایسے اصول طے کیے جائیں جن کے تحت جہیز کا مطالبہ کرنے والے رویوں کی حوصلہ شکنی اور سادہ نکاح کی حوصلہ افزائی ہو ۔ کیوں کہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا مرکز بھی ہے ۔
4۔ مالدار طبقے کی عملی قیادت
معاشرے میں سب سے پہلے صاحبِ حیثیت اور مالدار لوگوں کو آگے آنا ہوگا۔ اگر وہ اپنی اولاد کی شادیاں بغیر جہیز، سادگی اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق انجام دیں تو دوسروں کے لیے بہترین مثال قائم ہوگی، کیونکہ اکثر رسمیں اور معاشرتی رجحانات بااثر طبقے سے ہی عام ہوتے ہیں۔ اس لیے اصلاح کا آغاز بھی اسی طبقے سے ہونا چاہیے۔ البتہ کمزور اور متوسط طبقہ دوسروں کی سادگی کو اپنا معیار نہ بنائے، کیونکہ ہر شخص کی سادگی اس کی مالی وسعت کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی استطاعت کے مطابق نکاح کو آسان بنائے، امیروں کی نقل یا غیر ضروری مقابلہ آرائی سے بچے، کیونکہ نکاح کو آسان بنانا ہی حقیقی سنت ہے، نہ کہ دوسروں کی ظاہری شان و شوکت کی پیروی کرنا۔
5۔ والدین اور نوجوانوں کی ذمہ داری
والدین بیٹیوں کے لیے جہیز جمع کرنے کے بجائے ان کی تعلیم، تربیت، دینی شعور اور کردار سازی پر توجہ دیں۔ اسی طرح نوجوان یہ عہد کریں کہ وہ جہیز کو اپنا حق نہیں سمجھیں گے بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق سادہ نکاح کو ترجیح دیں گے۔
6۔ اہلِ قلم، میڈیا اور تعلیمی ادارے
معاشرے کی فکری تشکیل میں قلم اور میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔ مضامین، خطبات، دروس، سیمینارز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے اس برائی کے خلاف مسلسل شعور بیدار کیا جانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں اس رسم کو عزت
نہیں بلکہ عیب سمجھیں۔
لہذا :آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں کہ ہم قرآن و سنت کے ساتھ کھڑے ہیں یا رسم و رواج کے ساتھ؟ ہم بیٹی کو رحمت سمجھتے ہیں یا بوجھ؟ ہم نکاح کو عبادت سمجھتے ہیں یا کاروبار؟ حقیقت یہ ہے کہ جہیز صرف قانون سے ختم نہیں ہوگا اور نہ صرف تقریروں اور مضامین سے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔مگر یہ تب ختم ہوگا جب حکومت اپنا کردار ادا کرے، مذہبی و سماجی قیادت بیدار ہو، مساجد اصلاح کا مرکز بنیں، صاحبِ حیثیت لوگ مثال قائم کریں، والدین اپنی ترجیحات بدلیں اور نوجوان سنتِ نبوی ﷺ کو اپنا شعار بنائیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾
"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل لے۔"
(سورۃ الرعد: 11)
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی بیٹیوں کی عزت کو سامان سے نہیں، ان کے کردار سے پہچانیں گے؛ اپنے بیٹوں کی شادی کو لالچ کا ذریعہ نہیں بلکہ سنتِ رسول ﷺ کا نمونہ بنائیں گے؛ اور اس خاموش ظلم کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں گے۔
کیونکہ یاد رہے بیٹیاں جہیز کا صندوق نہیں، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ رحمت ہیں، اور رحمتوں کی قیمت نہیں لگائی جاتی، ان کی قدر کی جاتی ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وما توفيقي إلا بالله.
بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com