*ماؤں کے نام*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
____________________________
رات بھر بچوں کی دیکھ بھال میں جاگنا دن بھر ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرنا ان کی ہر چھوٹی بڑی بات کا خیال رکھنا ان کی بیماری میں بے چین رہنا ان کی خوشی میں مسکرانا اور ان کے غم میں غمگین ہو جانا یہ سب صرف ایک ماں ہی کر سکتی ہے۔ واقعی ماں تو ہر حال میں ماں ہی ہوتی ہے۔
یہ الفاظ ان تمام تھکی ہاری پریشان حال مصروف اور ایثار کرنے والی ماؤں کے نام ہے جو اپنی نیند آرام خواہشات اور آسائشیں اپنے بچوں پر قربان کر دیتی ہیں۔ وہ خاموشی سے گھر سنبھالتی ہیں رشتے نبھاتی ہیں ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں اور ہر حال میں اپنے بچوں کے لیے ڈھال بنی رہتی ہیں۔
ماں چاہے تعلیم یافتہ ہو یا نہ ہو لیکن زندگی کا سب سے قیمتی خالص اور بے لوث علم انسان اپنی ماں ہی سے سیکھتا ہے۔ بولنا چلنا محبت کرنا احترام کرنا ایثار اخلاق دعا صبر برداشت اور انسانیت کے ابتدائی اسباق ماں کی گود ہی سے ملتے ہیں۔ اسی لیے ماں ایک رشتہ ہی نہیں بلکہ محبت تربیت قربانی اور رحمت کا وہ عظیم درسگاہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
اے میری پیاری ماں آج اگر یہی ننھے ننھے بچے آپ کو تھکا رہے ہیں تو ان شاء اللہ ایک دن یہی آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک دل کا سکون اور بڑھاپے کا سہارا بنیں گے۔
اللہ ربّ العزت آپ کی ہر قربانی کو قبول فرمائے آپ کی ہر تھکن کو راحت میں بدل دے آپ کی اولاد کو نیک صالح فرمانبردار اور دین و دنیا میں کامیاب بنائے اور ان کی وجہ سے آپ کے دل پر کامل سکون نازل فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔