*فتنوں سے حفاظت تعلیماتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی روشنی میں*

✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
29 محرم الحرام 1448ھ
___________________________________

آج انسان ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے مگر اسی رفتار کے ساتھ فتنوں کا سیلاب بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے نازک دور میں ہر مسلمان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ فتنوں کی حقیقت کو پہچانے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ان سے بچنے کے اسباب اختیار کرے اور اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔
اس میں شک و شبہ نہیں کہ موجودہ دور فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے اور فتنے بھی مختلف رنگ و روپ مختلف طرز و انداز مختلف نتائج و عواقب لے کر آتے جارہے ہیں ۔ ہر دن ہی نہیں بل کہ ہر لمحہ ایک نیا فتنہ سامنے آتا ہے اور کوئی نہ کوئی گل کھلاتا ہے۔ خارجی فتنے بھی ہیں اور داخلی بھی چھوٹے فتنے بھی ہیں اور بڑے بھی چھوٹوں پر بھی فتنے ہیں اور بڑوں پر بھی جانی و مالی فتنے بھی ہیں اور ایمانی و روحانی بھی اور ان فتنوں کی وجہ سے جہاں ہماری اقتصادیات و معاشیات متاثر ہوتی ہیں وہیں ہمارے ایمان و اعمال کے لیے بھی خطرات لاحق ہیں بل کہ بعض فتنوں کا تعلق براہ راست ہمارے ایمان و اعمال سے ہوتا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن کو اللّٰہ ربّ العزت نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا اور ساری کائنات کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کی ذمہ داری سونپی اور نظام عالم کو محفوظ رکھنے اور اس کو ہر قسم کے خلل اور بے ربطی سے بچانے کے لیے تا کہ وہ فتنہ و فساد کی آماجگاہ نہ بن جائے قوانین عطا فرمائے اور مکمل دستور دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ غایت شفقت اور امت پر غایت درجہ کرم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز سے روک دیا جو امت کے کسی فرد کو کسی درجے میں بھی نقصان پہنچانے والی ہو حتی کہ جسمانی طور پر بھی تکلیف و اذیت کا اندیشہ محسوس کیا تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور دھار دار چیز مجمع میں لے کر چلنے سے منع فرمایا غرض کہ ہر وہ چیز جس سے خود کو یا دوسروں کو جسمانی اذیت پہنچے اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔
جو نبی ایسا شفیق ایسا ہمدرد ایسا رہنما اور ہادی اور ایسا امت کا خیال رکھنے والا ہو اور اس کے لیے گھلنے پگھلنے والا ہو وہ کیسے امت کو ایسے خطرات اور فتنوں سے آگاہ نہ کرے گا جو اس کے دین و ایمان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اس کے عقیدے کا سودا کر سکتے ہیں؟ یہی نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام فتنوں سے خبردار کیا ہے بل کہ تمام چھوٹے بڑے فتنوں کی جو قیامت تک پیش آنے والے ہیں نشان دہی بھی فرمادی ہے۔ یہ نہایت درجہ رحم و کرم کی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے خبر دار کر دیا کہ جو بچنا چاہے وہ بہ آسانی بچ سکے اور سامان حفاظت کر سکے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے اس کے بھی واضح اشارے فرما دئے ہیں مثلاً دجال اکبر کا فتنہ جس سے ہر نبی نے اپنی امت کو خبر دار کیا ہے اس کا علاج جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت سے بتایا اور دجالی فتنوں ( جو وقتا فوقتا پیش آتے رہیں گے) سے بچنے کے لیے سورہ کہف کی تلاوت کے ساتھ اس کی آیات کا تدبر بھی نہایت ہی مفید و موثر قرار دیا گیا۔
اللہ ربّ العزت ہمیں ہر ظاہر و باطن فتنے سے محفوظ فرمائے ایمان و عقیدہ کی سلامتی نصیب فرمائے اور سنتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ثابت قدم رکھے آمین یا رب العالمین۔