✍🏻بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

انسان اس دنیا میں آیا، کچھ عرصہ ٹھہرا، مسکرایا، رویا، خواہشوں کے تعاقب میں دوڑتا رہا، آرزوؤں کے محل تعمیر کرتا رہا، پھر ایک دن خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ یہی منظر روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے دہرایا جاتا ہے، مگر افسوس! ہم دوسروں کی رخصتی سے سبق لینے کے بجائے اپنی باری کو گویا بھلا بیٹھتے ہیں۔

یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں، دل آزمانے کی جگہ ہے۔ یہاں کی بہاریں عارضی ہیں، خوشیاں فانی ہیں، کامیابیاں محدود ہیں، اور ہر نعمت اپنے زوال کی خبر ساتھ لاتی ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے، وہ خواہ دنیا کی ہر آسائش حاصل کر لے، اس کے دل کا خلا کبھی پُر نہیں ہوتا۔ کیونکہ دل کو سکون مال و دولت سے نہیں، اپنے رب کی معرفت سے حاصل ہوتا ہے۔

انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ اس کے پاس دولت کم ہو، منصب نہ ہو یا شہرت حاصل نہ ہو بلکہ اصل محرومی یہ ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کو بھول جائے۔ جب بندہ اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لیتا ہے تو آزمائشیں بھی اسے مایوس نہیں کرتیں، تنہائیاں بھی اسے بے سہارا محسوس نہیں ہونے دیتیں، اور دنیا کی بے ثباتی بھی اس کے دل کو متزلزل نہیں کرتی۔

ہماری زندگی کا مقصد صرف کھانا، پینا، تعلیم حاصل کرنا، روزگار کمانا، گھر بنانا یا دنیاوی آسائشیں سمیٹنا نہیں۔ یہ سب زندگی کے وسائل ہیں، مقصد نہیں۔ مقصد تو یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اس کی بندگی اختیار کرے، اس کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے، اور اپنی پوری زندگی کو اس کی رضا کے تابع بنا دے۔

کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے، مگر سکون نہیں۔ اور کتنے ایسے بھی ہیں جن کے پاس دنیاوی اعتبار سے بہت کم ہے، مگر ان کے دل ایمان کی دولت سے اس قدر مالا مال ہیں کہ مصیبتیں بھی ان کے اطمینان کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ یہی ایمان کی حلاوت ہے، یہی معرفتِ الٰہی کا ثمر ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ضامن بنتا ہے۔

افسوس اس انسان پر جو اپنی پوری زندگی دوسروں کو راضی کرنے میں گزار دے مگر اپنے رب کو راضی کرنے کی فکر نہ کرے۔ وہ اپنے لباس، اپنی شہرت، اپنے کاروبار اور اپنی ظاہری کامیابی کے لیے تو بے شمار منصوبے بناتا ہے، مگر اپنی قبر کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتا۔ حالانکہ دنیا کی ہر منزل عارضی ہے، جبکہ آخرت کی منزل دائمی ہے۔

زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ ہر طلوع ہونے والا سورج ہماری عمر کا ایک ورق سمیٹ لیتا ہے، ہر غروب ہونے والی شام ہمیں ہماری منزل کے مزید قریب کر دیتی ہے، اور ہر گزرتا لمحہ یہ اعلان کرتا ہے کہ واپسی کا سفر قریب تر ہو رہا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو وقت کے گزرنے سے پہلے اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، اپنے دل کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرے، اور اپنے رب کی طرف سچی توبہ کے ساتھ رجوع کرے۔

کامیاب وہ نہیں جس کا نام دنیا میں بلند ہو، بلکہ کامیاب وہ ہے جس کا ذکر آسمانوں میں نیک بندوں کے ساتھ ہو۔ کامیاب وہ نہیں جس کے ہاتھ دنیا کے خزانوں تک پہنچ جائیں، بلکہ کامیاب وہ ہے جس کا ہاتھ روزِ قیامت رحمتِ الٰہی کی ڈور سے وابستہ ہو۔ کامیاب وہ نہیں جو لوگوں کی نگاہوں میں بڑا بن جائے، بلکہ کامیاب وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول قرار پائے۔

 آج ہم اپنے دل سے ایک سوال کریں: اگر آج ہماری زندگی کا آخری دن ہو تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب اطمینان بخش نہیں، تو یہی لمحہ تبدیلی کا ہے، یہی وقت توبہ کا ہے، اور یہی موقع اپنی زندگی کا رخ درست کرنے کا ہے۔

اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی معرفت سے منور فرما، ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما، ہماری زندگی کو اپنی رضا کے تابع بنا دے، اور جب اس دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آئے تو ہمیں ایمانِ کامل، عملِ صالح اور اپنی رحمت کے سایے میں اپنے پاس بلا لینا۔

آمین یا رب العالمین۔