وقت: وہ خاموش سرمایہ جو ایک بار کھو جائے تو پھر کبھی واپس نہیں آتا!
------------------
دنیا کی تاریخ میں انسان نے بے شمار خزانوں کی تلاش کی ہے۔ کسی نے سونے اور چاندی کو دولت سمجھا، کسی نے جائیداد اور اقتدار کو کامیابی کا معیار قرار دیا، کسی نے شہرت اور منصب کے حصول میں اپنی زندگی کھپا دی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ایک ایسی دولت ہے جو ہر انسان کو یکساں مقدار میں عطا کی جاتی ہے، مگر اس کی قدر ہر شخص یکساں نہیں کرتا۔ یہ دولت وقت ہے۔وقت ایک ایسی حقیقت ہے جسے دیکھا نہیں جا سکتا مگر اس کے اثرات پوری کائنات میں نمایاں ہیں۔ سورج کا طلوع و غروب، موسموں کی آمد و رفت، بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر، پھولوں کا کھلنا اور مرجھانا، دریا کا بہاؤ اور زندگی کا تسلسل، سب وقت ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ انسان خواہ کسی بھی مقام پر ہو، کسی بھی زبان کا بولنے والا ہو یا کسی بھی تہذیب سے تعلق رکھتا ہو، وقت کی گرفت سے آزاد نہیں ہو سکتا۔
اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بے مقصد پیدا نہیں فرمایا۔ چنانچہ قرآن کریم بار بار انسان کو اس کی تخلیق کے مقصد کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ دنیا محض کھیل تماشے کی جگہ نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے، اور اس امتحان کے لیے جو مہلت انسان کو دی گئی ہے، اسی کا نام عمر ہے۔ حقیقت میں عمر سالوں کا نام نہیں بلکہ لمحوں کا مجموعہ ہے۔ انسان کی زندگی کا ہر گزرتا ہوا لمحہ اس کی عمر کے خزانے سے ایک موتی کم کر دیتا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ انسان عموماً اپنی سالگرہ آنے پر خوش ہوتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہو گیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سالگرہ دراصل اس بات کا اعلان ہوتی ہے کہ زندگی کا ایک اور سال کم ہو گیا۔ جو دن گزر گیا وہ قیامت تک واپس نہیں آئے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت، کوئی دولت اور کوئی اختیار گزرے ہوئے ایک لمحے کو بھی لوٹا نہیں سکتا۔
اسی حقیقت کو سمجھانے کے لیے بزرگانِ دین نے بڑی دلنشین مثالیں بیان کی ہیں۔ کسی نے زندگی کو پگھلتی ہوئی برف سے تشبیہ دی، کسی نے جلتے ہوئے چراغ سے، اور کسی نے سفر کرتی ہوئی کشتی سے۔ ان تمام مثالوں کا خلاصہ یہی ہے کہ زندگی مسلسل کم ہو رہی ہے، چاہے انسان اس کمی کو محسوس کرے یا نہ کرے۔ قرآن کریم نے وقت کی غیر معمولی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف مقامات پر اس کی قسمیں ارشاد فرمائی ہیں۔ کبھی ارشاد ہوتا ہے: "وَالْفَجْرِ" یعنی فجر کی قسم، کبھی "وَالضُّحٰی" یعنی چاشت کے وقت کی قسم، کبھی "وَاللَّيْلِ" یعنی رات کی قسم، اور کبھی "وَالْعَصْرِ" یعنی زمانے کی قسم۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کی قسم کھانا اس کی عظمت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ گویا قرآن کا پیغام یہ ہے کہ اگر تم وقت کی حقیقت کو سمجھ لو تو زندگی کا مقصد بھی سمجھ جاؤ گے۔
خصوصی طور پر سورۂ عصر انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ صرف چند مختصر آیات پر مشتمل یہ سورت انسانی کامیابی اور ناکامی کا مکمل دستور پیش کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ زمانے کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کا راستہ اختیار کیا۔ گویا وقت بذاتِ خود نہ کامیابی ہے اور نہ ناکامی، بلکہ کامیابی یا ناکامی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ انسان اپنے وقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وقت کی قدر و قیمت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں مبتلا رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔ انسان جب صحت مند ہوتا ہے تو بیماری کو بھول جاتا ہے، اور جب فرصت میسر ہوتی ہے تو اسے معمولی چیز سمجھتا ہے، لیکن جب یہی نعمتیں چھن جاتی ہیں تو ان کی اصل قدر معلوم ہوتی ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث مبارک میں رسول اللہ ﷺ نے پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جاننے کی تعلیم دی۔ یہ حدیث دراصل انسان کو مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرتی ہے۔ جوانی ہمیشہ باقی نہیں رہتی، صحت ہمیشہ قائم نہیں رہتی، فرصت ہمیشہ میسر نہیں رہتی اور زندگی ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔ عقلمند وہی ہے جو حالات کے بدلنے سے پہلے اپنے وقت کو نیکیوں اور مفید کاموں میں صرف کر لے۔
اسلام کا تصورِ وقت دیگر نظریات سے مختلف ہے۔ دنیا کے بہت سے لوگ وقت کو صرف معاشی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن اسلام اسے آخرت کی کامیابی کا سرمایہ قرار دیتا ہے۔ مسلمان کے لیے وقت صرف گھڑی کی سوئیوں کا نام نہیں بلکہ ایک امانت ہے، ایک ذمہ داری ہے اور ایک ایسا سرمایہ ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہونی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندۂ مومن کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے کہ اسے کن کاموں میں گزارا، اور اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا۔ غور کیجیے! مال، جائیداد اور دنیاوی حیثیت سے پہلے عمر کے بارے میں سوال ہوگا، کیونکہ عمر ہی وہ میدان ہے جس میں انسان اپنے تمام اعمال انجام دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے بڑی امانت ہے۔ ہر صبح ہماری زندگی کے کھاتے میں چوبیس گھنٹے جمع کر دیے جاتے ہیں۔ نہ ان میں اضافہ ممکن ہے اور نہ کمی۔ امیر و غریب، بادشاہ و فقیر، عالم و جاہل، سب کو برابر وقت ملتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ ان لمحوں کو کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں غفلت کی نذر کر دیتے ہیں۔ وقت دراصل زندگی کا دوسرا نام ہے۔ جو وقت کو ضائع کرتا ہے وہ حقیقت میں اپنی زندگی کو ضائع کرتا ہے، اور جو وقت کی حفاظت کرتا ہے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار لیتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھ لینا زندگی کی سب سے بڑی دانشمندی ہے۔
جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ وقت اس کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے تو اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سرمایہ کو خرچ کیسے کیا جائے؟ اس کا بہترین جواب ہمیں نظریات میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں ملتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جن لوگوں نے وقت کو پہچانا، وقت نے انہیں دنیا کی قیادت عطا کی، اور جنہوں نے اسے معمولی سمجھا، وہ تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئے۔
اگر کسی شخصیت کی زندگی کو وقت کی بہترین مثال قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ سرورِ کائنات، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر لمحہ امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ عبادت کا وقت عبادت کے لیے، تعلیم کا وقت تعلیم کے لیے، دعوت کا وقت دعوت کے لیے، گھر والوں کا حق الگ، صحابۂ کرام کی تربیت الگ، مہمانوں کی دلجوئی الگ، مظلوموں کی داد رسی الگ اور امت کی فکر الگ۔ آپ ﷺ کی زندگی میں ہمیں ایک لمحہ بھی بے مقصد دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف تریسٹھ برس کی مختصر زندگی نے وہ انقلاب برپا کیا جسے چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود تاریخ فراموش نہیں کر سکی۔
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے آقا ﷺ سے یہی سبق سیکھا تھا۔ ان کے نزدیک وقت سونے اور چاندی سے بھی زیادہ قیمتی تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرمایا کرتے تھے: "مجھے کسی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا اس دن پر ہوتا ہے جس کا سورج غروب ہو جائے اور میری عمر کم ہو جائے مگر میرے اعمال میں اضافہ نہ ہو۔" یہ جملہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ زندگی کا ایسا فلسفہ ہے جو ہر انسان کو روزانہ اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
تابعین اور ائمۂ امت نے بھی وقت کی حفاظت کو اپنی زندگی کا شعار بنایا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تجارت بھی کرتے تھے، درس بھی دیتے تھے، عبادت بھی کرتے تھے اور فقہ کی تدوین بھی فرماتے تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ حدیث کے درس سے پہلے خود کو باقاعدہ تیار کرتے، خوشبو لگاتے اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ مجلسِ علم میں تشریف لاتے، کیونکہ ان کے نزدیک علم کا ہر لمحہ قابلِ احترام تھا۔
امام نووی رحمہ اللہ کی سوانح پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی علم کے لیے وقف کر دی۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ وہ دن اور رات کا بیشتر حصہ مطالعہ، تدریس، تصنیف اور عبادت میں گزارتے تھے۔ اسی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے کہ آج بھی ان کی تصانیف دنیا بھر کے مدارس، جامعات اور علمی مراکز میں پڑھی جاتی ہیں۔
اسی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے لاکھوں روایات کا سفر طے کیا، ہزاروں میل کا سفر کیا، راتوں کو جاگ کر تحقیق کی، تب جا کر صحیح بخاری جیسی عظیم کتاب امت کو عطا کی۔ اگر وہ وقت کی قدر نہ کرتے تو شاید امت اس عظیم علمی خزانے سے محروم رہ جاتی۔
تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید اصول ہے کہ عظمت ہمیشہ ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو وقت کو مقصد کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ مسلمان جب قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے وقت کے محافظ بنے تو انہوں نے صرف عبادت ہی نہیں کی بلکہ علم، تحقیق، طب، فلکیات، ریاضی، فلسفہ، تعمیرات اور تہذیب کے میدان میں بھی دنیا کی رہنمائی کی۔ بغداد، قرطبہ، دمشق، قاہرہ اور سمرقند صرف شہر نہیں تھے بلکہ وقت کی قدر کرنے والی ایک زندہ تہذیب کی علامت تھے۔ ان کی درسگاہوں میں چراغ رات گئے تک روشن رہتے، کتب خانوں میں تحقیق کا سلسلہ جاری رہتا اور تجربہ گاہوں میں نئے انکشافات جنم لیتے تھے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج جن ایجادات پر دنیا فخر کرتی ہے، ان کی بنیاد رکھنے والوں میں مسلمانوں کا نمایاں کردار رہا ہے۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ ان کے نزدیک وقت تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تعمیرِ امت کا وسیلہ تھا۔
دوسری طرف جب امت نے علم سے زیادہ آرام، محنت سے زیادہ سستی اور مقصد سے زیادہ غفلت کو اختیار کیا تو حالات بدلنے لگے۔ کتب خانے ویران ہونے لگے، درسگاہوں کی رونقیں ماند پڑنے لگیں اور وہ قوم جو کبھی علم کی رہبر تھی، دوسروں کی محتاج بنتی چلی گئی۔ تاریخ کا یہ سبق آج بھی اتنا ہی سچا ہے جتنا صدیوں پہلے تھا کہ زوال اچانک نہیں آتا، بلکہ یہ لمحہ لمحہ وقت کے ضیاع سے جنم لیتا ہے۔
اگر ہم موجودہ دنیا کا جائزہ لیں تو ایک حقیقت واضح نظر آتی ہے۔ ترقی یافتہ اقوام میں بہت سی اخلاقی اور سماجی کمزوریاں ضرور موجود ہیں، لیکن وہ وقت کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں۔ وہاں چند منٹ کی تاخیر بھی غیر ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ تعلیمی ادارے، صنعتی مراکز، تحقیقی ادارے، عدالتیں اور دفاتر ایک منظم نظام کے تحت چلتے ہیں۔ یہی نظم و ضبط ان کی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔
اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں اکثر اوقات وقت کی پابندی کو معمولی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔ دیر سے پہنچنا، وعدے کے وقت کی پروا نہ کرنا، پروگراموں کا گھنٹوں تاخیر سے شروع ہونا اور غیر ضروری گفتگو میں قیمتی وقت صرف کر دینا ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہی چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں رفتہ رفتہ قومی مزاج بن جاتی ہیں، اور پھر پوری قوم اس کی قیمت ادا کرتی ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وقت کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ وقت ہمیشہ انصاف کرتا ہے۔ جو اس کی قدر کرتا ہے، وقت اسے عزت دیتا ہے، اور جو اسے ضائع کرتا ہے، وقت اسے پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وہ قانون ہے جو افراد پر بھی نافذ ہوتا ہے اور قوموں پر بھی۔
آج بھی اگر کوئی نوجوان اپنے مقصد کا تعین کر لے، اپنے اوقات کو منظم کر لے اور ہر دن کو کل سے بہتر بنانے کا عزم کر لے تو چند سال بعد اس کی شخصیت پہچانی نہیں جائے گی۔ اسی طرح اگر ایک قوم اپنے وقت کی حفاظت کرنا سیکھ لے تو اس کے لیے ترقی کی راہیں کبھی بند نہیں ہوتیں۔
یہی وہ سبق ہے جو سیرتِ نبوی ﷺ، اسلافِ امت اور تاریخِ عالم ہمیں دیتی ہے کہ کامیابی قسمت سے نہیں، بلکہ وقت کے صحیح استعمال سے جنم لیتی ہے۔ وقت کی قدر کرنے والے لوگ تاریخ بناتے ہیں، اور وقت کو ضائع کرنے والے لوگ تاریخ پڑھتے رہ جاتے ہیں۔
اگر ہم اپنے گرد و پیش کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں تو یہ حقیقت کسی دلیل کی محتاج نہیں رہتی کہ آج کا انسان وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ ترجیحات کے بگاڑ سے پریشان ہے۔ ہماری زندگی میں پہلے سے کہیں زیادہ سہولتیں موجود ہیں، مگر وقت پہلے سے کہیں زیادہ کم محسوس ہوتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وقت کم نہیں ہوا، بلکہ اس کے استعمال کا طریقہ بدل گیا ہے۔ ہم نے اپنے اوقات کو ایسی مصروفیات کے سپرد کر دیا ہے جن کا نہ دنیا میں کوئی نمایاں فائدہ ہے اور نہ آخرت میں کوئی اجر۔
آج کا انسان صبح آنکھ کھولتے ہی موبائل فون کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ چند لمحوں کے لیے سوشل میڈیا دیکھنے کا ارادہ گھنٹوں پر محیط سفر بن جاتا ہے۔ ایک ویڈیو دوسری ویڈیو تک، ایک پیغام دوسرے پیغام تک اور ایک غیر ضروری بحث دوسری بے مقصد گفتگو تک لے جاتی ہے۔ انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کی زندگی کے قیمتی ترین لمحات خاموشی کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسل رہے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وقت ضائع کرنے والا شخص عموماً خود کو مصروف سمجھتا ہے، حالانکہ وہ صرف مشغول ہوتا ہے، مفید نہیں۔
یہ مسئلہ صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے کے تقریباً ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ طلبہ کے پاس کتابوں کے لیے وقت نہیں، لیکن اسکرین کے لیے کئی کئی گھنٹے ہیں۔ والدین کے پاس اولاد کی تربیت کے لیے فرصت نہیں، مگر غیر ضروری مصروفیات کے لیے وقت نکل آتا ہے۔ اہلِ علم مطالعے کی کمی کا شکوہ کرتے ہیں اور تاجر برکت نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں، حالانکہ وقت کی بے برکتی ہی اکثر دوسری بے برکتیوں کی بنیاد بنتی ہے۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ وقت کے ضیاع کا اثر صرف ہماری دنیاوی زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ ہماری دینی زندگی بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ نمازوں میں تاخیر، قرآن کریم کی تلاوت سے غفلت، ذکر و دعا سے دوری، والدین کے حقوق میں کوتاہی، صلۂ رحمی میں سستی اور علمِ دین کے حصول سے بے رغبتی—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے اپنی ترجیحات کو بدل دیا ہے۔ حالانکہ ایک سچا مسلمان وہ ہے جس کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا سے وابستہ ہو۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ انسان ہر وقت مسجد ہی میں بیٹھا رہے، بلکہ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کا ہر جائز اور مفید کام عبادت بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں اخلاص، نیک نیتی اور شریعت کی پابندی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان کا مطالعہ، اس کی محنت، اس کی تجارت، اس کی ملازمت، اس کی خدمتِ خلق اور اس کی خاندانی ذمہ داریاں بھی ثواب کا ذریعہ بن سکتی ہیں، اگر وہ انہیں اللہ کی رضا کے لیے انجام دے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم روزانہ چند لمحے اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔ اپنے آپ سے پوچھیں کہ آج کا دن کہاں گزرا؟ میں نے اپنے وقت کا کتنا حصہ اللہ کی یاد میں گزارا؟ کتنا حصہ علم حاصل کرنے میں صرف کیا؟ کتنے لوگوں کو میرے وجود سے فائدہ پہنچا؟ اور کتنے گھنٹے ایسے کاموں میں گزر گئے جن کا میرے نامۂ اعمال میں کوئی وزن نہیں ہوگا؟ جو شخص روزانہ اپنا محاسبہ کرتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی زندگی کا رخ بدل لیتا ہے۔
وقت کی حفاظت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان آرام ہی نہ کرے یا اپنے اہل و عیال کے ساتھ وقت نہ گزارے۔ اسلام اعتدال کا دین ہے۔ جسم کا بھی حق ہے، اہل و عیال کا بھی حق ہے، معاشرے کا بھی حق ہے اور اللہ تعالیٰ کا حق سب سے بڑھ کر ہے۔ کامیاب وہی ہے جو ان تمام حقوق کو ان کے مناسب وقت پر ادا کرے اور کسی ایک حق کی ادائیگی میں دوسرے حق کو پامال نہ کرے۔
آج امتِ مسلمہ کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے، ان میں ایک بنیادی مسئلہ وقت کی ناقدری بھی ہے۔ ہم ترقی چاہتے ہیں مگر محنت سے گریز کرتے ہیں، کامیابی چاہتے ہیں مگر نظم و ضبط اختیار نہیں کرتے، عزت چاہتے ہیں مگر وقت کی پابندی نہیں کرتے۔ یاد رکھیے! جو قوم اپنے وقت کی حفاظت نہیں کرتی، وہ اپنی شناخت، اپنی تہذیب، اپنے علم اور اپنی قیادت کی بھی حفاظت نہیں کر سکتی۔
آئیے! آج سے ایک عہد کریں کہ ہم اپنے ہر دن کو گزشتہ دن سے بہتر بنائیں گے۔ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کے لیے وقت نکالیں گے، مطالعے کو اپنی عادت بنائیں گے، والدین اور اہلِ خانہ کے حقوق ادا کریں گے، اپنے پیشے میں دیانت داری اختیار کریں گے، فضول گفتگو اور بے مقصد مشاغل سے بچیں گے، اور ہر رات سونے سے پہلے اپنا احتساب ضرور کریں گے۔ زندگی کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ چھوٹے مگر مسلسل فیصلوں سے جنم لیتی ہیں۔
یاد رکھئے! جب انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ نہ اس کا مال جاتا ہے، نہ اس کی شہرت، نہ اس کا منصب اور نہ اس کی آسائشیں۔ قبر میں صرف اس کے اعمال اس کے ساتھی بنتے ہیں، اور اعمال وہی ہوتے ہیں جو وقت کے صحیح استعمال سے وجود میں آتے ہیں۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ وقت کو ضائع کرنا دراصل اپنی آخرت کو ضائع کرنا ہے، جبکہ وقت کی حفاظت کرنا اپنی ابدی زندگی کو سنوارنا ہے۔
آج جو لمحہ ہمارے پاس ہے، یہی ہماری سب سے بڑی دولت ہے۔ نہ گزرا ہوا کل واپس آسکتا ہے اور نہ آنے والے کل کی کوئی ضمانت ہے۔ اس لیے دانائی اسی میں ہے کہ موجودہ لمحے کو اللہ تعالیٰ کی رضا، علم کے حصول، انسانیت کی خدمت اور اپنی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو قبر کو روشن، میزان کو بھاری اور آخرت کو کامیاب بنا سکتا ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں وقت کی حقیقی قدر نصیب فرمائے، ہماری زندگی کے ہر لمحے کو اپنی اطاعت، اپنے ذکر، اپنے دین کی خدمت اور مخلوقِ خدا کی بھلائی کے لیے وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں غفلت، سستی، فضول مشاغل اور وقت کے ضیاع سے محفوظ رکھے، اور ہماری مختصر سی زندگی کو دنیا و آخرت کی دائمی کامیابی کا ذریعہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔
---------------------
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com