غریب کی بیٹی کا رشتہ اتنا مشکل کیوں؟
ایک غریب باپ کی زندگی کا سب سے بڑا خواب یہ نہیں ہوتا کہ اس کے پاس عالیشان بنگلہ ہو، قیمتی گاڑی ہو یا بے شمار دولت ہو؛ اس کی سب سے بڑی خواہش صرف اتنی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو عزت و وقار کے ساتھ رخصت کر دے۔ وہ عمر بھر محنت کرتا ہے، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دیتا ہے، اپنے آرام کو قربان کر دیتا ہے اور ایک ایک روپیہ جوڑتا ہے، مگر اس کے دل کی سب سے بڑی فکر یہی رہتی ہے کہ "آخر میری بیٹی کا گھر کب بسے گا؟" ہر دروازے پر امید لے کر جاتا ہے، ہر رشتے میں اپنی بیٹی کا مستقبل تلاش کرتا ہے، لیکن اکثر اسے واپس صرف مایوسی، خاموشی اور انکار ہی ملتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر غریب کی بیٹی کا قصور کیا ہے؟ کیا اس کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ ایسے گھر میں پیدا ہوئی جہاں اس کے والد کے پاس نہ عالیشان بنگلہ ہے، نہ قیمتی گاڑی، نہ بینک بیلنس، اور نہ ہی جہیز کے نام پر لاکھوں روپے لٹانے کی استطاعت؟ کیا ایک بیٹی کی عزت، اس کی دینداری، اس کا کردار، اس کی تعلیم، اس کی حیا، اس کی بہترین تربیت اور اس کی انسانیت صرف اس لیے بے قیمت ہو جاتی ہے کہ اس کے والد مالی طور پر کمزور ہیں؟
یہ سوال کسی ایک گھر یا ایک خاندان کا نہیں بلکہ لاکھوں غریب والدین کے دل کی صدا ہے۔ کتنی ہی مائیں اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی دعائیں کرتے کرتے بوڑھی ہو جاتی ہیں، کتنے ہی باپ اپنی پوری زندگی کی کمائی اس امید میں جمع کرتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی باکردار انسان ان کی بیٹی کو اس کے اخلاق اور دین داری کی بنیاد پر قبول کر لے، لیکن افسوس! آج کا معاشرہ انسان نہیں بلکہ حیثیت دیکھتا ہے، کردار نہیں بلکہ دولت دیکھتا ہے، اور اخلاق نہیں بلکہ جہیز کی فہرست دیکھتا ہے۔
حالانکہ اسلام نے نکاح کو عبادت قرار دیا، اسے آسان بنانے کی تلقین کی اور معیارِ فضیلت تقویٰ، حسنِ اخلاق اور دین داری کو قرار دیا، مگر ہم نے اپنی خواہشات، جھوٹی انا، مادہ پرستی اور بے جا رسم و رواج کے ذریعے اس مقدس سنت کو اس قدر مشکل بنا دیا کہ غریب گھر کی بیٹی کے لیے مناسب رشتہ ملنا ایک امتحان بن گیا ہے۔ آج نکاح دو خاندانوں کے ملاپ سے زیادہ دولت کی نمائش اور معاشرتی برتری کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
رشتے اب کردار کی بنیاد پر نہیں بلکہ حیثیت کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ لڑکی کی دینداری، حسنِ اخلاق، شرم و حیا، تعلیم اور خاندانی تربیت کے بجائے سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے والد کیا دیں گے؟ کہیں گاڑی کی شرط، کہیں سونے کے زیورات کی فہرست، کہیں لاکھوں روپے کا مطالبہ، کہیں قیمتی فرنیچر، اور کہیں صرف اس بنیاد پر رشتہ مسترد کر دیا جاتا ہے کہ لڑکی والوں کا گھر کرائے کا ہے یا ان کا تعلق کسی غریب علاقے سے ہے۔ افسوس! بعض لوگوں نے اپنے بیٹوں کو اولاد نہیں بلکہ سرمایہ بنا لیا ہے، جس کا منافع وہ جہیز کی صورت میں وصول کرنا چاہتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جب اپنی بیٹی کے لیے رشتہ تلاش کیا جاتا ہے تو ہر شخص ایک دیندار، بااخلاق، ذمہ دار اور باکردار داماد چاہتا ہے، لیکن جب اپنے بیٹے کی شادی کا وقت آتا ہے تو وہی شخص دولت، جہیز، خوبصورتی، کم عمری اور ظاہری شان و شوکت کو معیار بنا لیتا ہے۔ یہی دوہرا معیار ہمارے معاشرے کے اخلاقی زوال کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
اس ظلم کا سب سے زیادہ شکار غریب گھر کی وہ بیٹی بنتی ہے جو ہر اعتبار سے اچھی ہونے کے باوجود صرف غربت کی وجہ سے مسترد کر دی جاتی ہے۔ اس کے والد اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی بھی قربان کر دیں تو بعض لوگوں کی خواہشات ختم نہیں ہوتیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک باپ جہیز جمع کرتے کرتے بوڑھا ہو جاتا ہے، ایک ماں دعائیں کرتے کرتے تھک جاتی ہے اور ایک بیٹی انتظار کرتے کرتے اپنی جوانی کی دہلیز پار کر جاتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے نکاح جیسے مقدس رشتے کو اس قدر مشکل بنا دیا؟ کیوں ایک ایسی سنت، جسے رسولِ اکرم ﷺ نے آسان بنایا، آج ہمارے معاشرے میں سب سے مشکل مرحلہ بن چکی ہے؟ اس کے پیچھے کون سی سوچ، کون سے رسم و رواج اور کون سی معاشرتی بیماریاں کارفرما ہیں؟ جب تک ہم ان اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیں گے، اس وقت تک اس مسئلے کا حقیقی حل بھی سامنے نہیں آ سکے گا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ یہ ہماری اپنی پیدا کردہ بیماری ہے۔ ہم نے اپنی خواہشات، جھوٹی انا، مادہ پرستی اور غیر اسلامی رسم و رواج کے ذریعے نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا ہے کہ آج ایک غریب باپ کے لیے اپنی بیٹی کی شادی کرنا زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان اور سادہ رکھنے کی تعلیم دی، مگر ہم نے اسے سماجی مقابلہ، خاندانی برتری اور دولت کی نمائش کا ذریعہ بنا دیا۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ جب کسی غریب باپ کے گھر رشتہ آتا بھی ہے تو اس سے پہلے سوال یہ نہیں کیا جاتا کہ لڑکی کتنی دیندار ہے، اس کا اخلاق کیسا ہے، اس کی تربیت کس نہج پر ہوئی ہے یا وہ گھر سنبھالنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے، بلکہ سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ "جہیز میں کیا دیں گے؟" گویا رشتہ دو انسانوں کے درمیان نہیں بلکہ دو مالی حیثیتوں کے درمیان طے کیا جا رہا ہو۔ افسوس! بعض لوگوں نے اپنے بیٹوں کو اس طرح پیش کرنا شروع کر دیا ہے جیسے وہ کسی بازار میں فروخت ہونے والی چیز ہوں، حالانکہ بیٹے اللہ کی امانت ہیں، تجارت کا سامان نہیں۔
اس مادہ پرستانہ سوچ نے نہ صرف غریب گھرانوں کی بیٹیوں کی زندگیاں روک دی ہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی ڈھانچے کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ کتنی ہی باکردار، تعلیم یافتہ، باپردہ اور سلیقہ شعار لڑکیاں صرف اس لیے رشتوں سے محروم رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین مہنگے تحفے، قیمتی گاڑیاں یا لاکھوں روپے دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف بعض لوگ معمولی معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر بہترین رشتے بھی مسترد کر دیتے ہیں؛ کبھی گھر چھوٹا ہونے پر اعتراض، کبھی علاقے پر، کبھی خاندانی حیثیت پر اور کبھی محض اس لیے کہ لڑکی والوں نے خاطر خواہ "پروٹوکول" نہیں دیا۔
اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ اگر کوئی مرد عمر رسیدہ ہو، بیوہ ہو یا کئی بچوں کا باپ ہو تو بھی اس کے لیے کم عمر کنواری لڑکی تلاش کی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی لڑکی تیس یا پینتیس سال کی ہو جائے یا بیوہ ہو تو اسے قبول کرنے سے لوگ ہچکچاتے ہیں۔ یہ انصاف نہیں بلکہ کھلا ہوا دوہرا معیار ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ شریعت نے تو معیارِ فضیلت تقویٰ، کردار اور حسنِ اخلاق کو قرار دیا ہے، لیکن ہم نے دولت، عمر اور ظاہری حیثیت کو اصل معیار بنا لیا۔
اس معاشرتی بے حسی کا ایک اور پہلو بھی نہایت تشویش ناک ہے۔ جب نکاح مسلسل مؤخر ہوتا رہتا ہے تو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں فطری تقاضوں کے باوجود ایک طویل انتظار کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر معاشرے میں بے راہ روی، غیر شرعی تعلقات اور اخلاقی برائیاں بڑھتی ہیں تو اس کا ایک سبب یہی ہے کہ ہم نے حلال کو مشکل اور حرام کے راستوں کو نسبتاً آسان بنا دیا ہے۔ جو نوجوان پچیس برس کی عمر میں نکاح کر سکتا تھا، وہ گھر، گاڑی، دولت اور سماجی معیار پورا کرتے کرتے پینتیس برس کا ہو جاتا ہے، اور غریب کی بیٹی جہیز جمع ہونے کے انتظار میں اپنی جوانی کھو دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پوری امت کا نقصان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود احتسابی کریں۔ اگر واقعی ہم اپنے معاشرے کو پاکیزہ، مضبوط اور باوقار دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہمیں اپنے بیٹوں کی شادیوں میں جہیز لینے سے انکار کرنا ہوگا، نکاح کو سادہ بنانا ہوگا، غیر ضروری رسم و رواج کو ختم کرنا ہوگا، بیوہ خواتین کی دوسری شادی کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی، اور غریب گھرانوں کی بیٹیوں کو عزت و احترام کے ساتھ قبول کرنا ہوگا۔ یاد رکھیے! ایک باکردار، دیندار اور صالح بیٹی دنیا کی ہر دولت سے زیادہ قیمتی ہے، اور ایک نیک بہو پورے خاندان کی خوش بختی کا سبب بن سکتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بیٹی بوجھ نہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جو شخص کسی غریب کی بیٹی کو عزت کے ساتھ اپنے گھر کی زینت بناتا ہے، وہ درحقیقت ایک خاندان کی امیدوں کو زندگی دیتا ہے، ایک باپ کی جھکی ہوئی کمر کو سہارا دیتا ہے، ایک ماں کی برسوں پرانی دعاؤں کو قبولیت سے ہم کنار کرتا ہے اور ایک مظلوم بیٹی کی آنکھوں سے انتظار کے آنسو پونچھ دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے؟
آئیے! آج عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں سے اس اصلاح کا آغاز کریں گے۔ نہ جہیز مانگیں گے، نہ اس کی حوصلہ افزائی کریں گے، نہ دولت کو رشتوں کا معیار بنائیں گے، بلکہ تقویٰ، کردار، دیانت اور حسنِ اخلاق کو ترجیح دیں گے۔ کیونکہ جس دن معاشرہ یہ فیصلہ کر لے گا کہ بیٹے فروخت ہونے کے لیے نہیں بلکہ ایک گھر آباد کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں، اسی دن غریب کی بیٹی کا رشتہ بھی آسان ہو جائے گا، ہزاروں بوڑھے باپوں کی پریشانیاں ختم ہوں گی، لاکھوں ماؤں کی دعائیں قبول ہوں گی اور بے شمار گھر خوشیوں سے آباد ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق نکاح کو آسان بنانے، جہیز جیسی لعنت سے اپنے معاشرے کو پاک کرنے، غریبوں کے ساتھ انصاف کرنے اور ہر بیٹی کو عزت و وقار کے ساتھ اس کا حق دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
-----------------------------
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری 
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا