شریعت فہمی کا صحیح منہج؟
بقلم: معاذ حیدر 
٢٧/ محرم الحرام ١٤٤٨ھ
١٣/ جولائی ٢٠٢٦ء، پیر

    "علم وتحقیق" مستقل وقت چاہتی ہے، اپنی عمر کا بہترین زمانہ ہے اس کے لیے وقف کرنا پڑتا ہے، جوانی اس وادی میں بڑھاپے سے بدل جاتی ہے، یہاں زندہ لاش بن کر کام کرنا ہوتا ہے، اس کی خاطر دلوں کے ارمان طاق پہ رکھ دیئے جاتے ہیں، "مبادیات" ازبر کرنے ہوتے ہیں، "متعلقہ علوم وفنون" پر گرفت حاصل کی جاتی ہے، اسلاف کی تشریحات کی روشنی میں اکابرِ وقت کے ماتحت رہ کر "نص فہمی" پیدا کی جاتی ہے، اس وادی کی نزاکت آفرینی سمجھنی ہوتی ہے، مستقل آبلہ پائی کرنی پڑتی ہے، تب جا کر شریعت کی کچھ فہم نصیب ہوتی ہے۔
     یہ کوئی بازیچۂ اطفال نہیں ہے، بلکہ نہایت حساس مقام ہے؛ جہاں "فاضل" کو بھی محتاط رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے، لہذا "عصری دانش گاہوں کے نیم متدین فارغین" سے درخواست ہے کہ وہ ہرگز اس کی جرأت نہ کریں، ورنہ گمراہی مقدر ہوگی، ترجمہ پڑھ لینا ان مراحل کے لیے فرض کفایہ نہیں بن سکتا، صرف ترجمہ خوانی کر کے عالمانہ مقام کے خواب کو "اضغاث احلام" کے خانہ میں رکھا جاۓ گا، اسکرولنگ اور سرچنگ کے عمل کو علمی مشغولی سمجھنا نادانی ہے، اعداد کے مجموعہ کو کتاب کے نام کے ساتھ لگا کر اپنے آزادنہ دعوی کو مبرہن نہیں کیا جاسکتا، یہ طریقہ جادۂ حق سے ہٹا ہوا ہے، پیشوائی کا اتنا ہی شوق تھا تو پہلے ہی مدارسِ دینیہ کا رخ کرنا تھا، اساطینِ علم کے رو برو زانوۓ تلمذ طے کرنا چاہیے تھا؛ لیکن جب آپ نے عصری ادارے کا انتخاب کیا ہے تو اب دینی امور میں خود کو تابع سمجھیں، متبوعیت کا وہم بھی جرم ہے، دینی علم؛ علماء سے حاصل کریں، اپنی سمجھی ہوئی باتوں کی تغلیط کریں، علماۓ حق کی تشریحات کو بسر وچشم قبول کریں، یہ حضرات نصوص کے جو معانی بیان کریں وہی صحیح ہے؛ اس لیے کہ انہوں نے ان معانی کو صحابۂ کرام -رضوان اللہ علیہم اجمعین- اور تابعین -رحمہم اللہ- کے آثار سے سمجھا ہے، ہدایت کے ستاروں سے انوار اخذ کیا ہے، صواب وخطا کا فرق انھیں معلوم ہے، ضروریاتِ دین کی رہنمائی ان سے ملے گی۔
     حضرتِ اقدس، مجدد الف ثانی، مولانا احمد سرہندی -رحمۃ اللہ علیہ- نے اپنے مکتوب میں اس مضمون کو بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے: 
   "وإنما قلت إن المعتبر هو المعاني المفهومة لعلماء أهل الحق، وإن ما سواها مما يخالفها غير معتبرة؛ بناء على أنهم أخذوا تلك المعاني من تتبع آثار الصحابة والسلف الصالحين رضوان الله تعالى عليهم أجمعين، واقتبسوها من أنوار نجوم هدايتهم؛ ولهذا صارت النجاة الأبدية مخصوصة بهم، والفلاح السرمدي نصيبا لهم، أولئك حزب الله ألا إن حزب الله هم المفلحون ...... فإن ناقلي تلك الضروريات هم العلماء،‌ وناقدي جيدها عن رديئها هم العلماء، فلولا نور هدايتهم لما اهتدينا، ولولا تمييزهم الصواب عن الخطأ لغوينا، وهم الذين بذلوا جهدهم في إعلاء كلمة الدين القويم، وسلكوا بأناس كثيرة إلى صراط مستقيم، فمن تابعهم نجا وأفلح، ومن خالفهم ضل وأضل من الطريق الأوضح."
(المكتوبات للإمام الرباني، المجدد للألف الثاني؛ أحمد السرهندي رحمه الله: ١/ ٤٠٠، رقم المکتوب: ٢٨٦، ت: عبدالله المصري، ط: مكتبة النيل، القاهرة)
      حضرت کی مذکورہ بالا ہدایات کے مخاطب صوفیاء کرام بھی ہیں، ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اساطینِ علم کے بیان کردہ معانی کی روشنی میں دین کی تشریح کریں، مطابقت نہ ہونے کی صورت صوفیاء کرام کی بات نہیں لی جاۓ گی، حضرت رحمہ اللہ نے اس بات کو اپنے مکتوبات میں لکھا ہے:
    "فاعلم أن كلامهم إن لم يكن مطابقًا لأحكام الشريعة فلا اعتبار له أصلًا فكيف يصلح للحجة والتقليد وإنما الصالح للحجة والتقليد أقوال العلماء من أهل السنة فما وافق أقوالهم من كلام الصوفية يقبل وما خالفهم لا يقبل" 
 (المكتوبات للإمام الرباني، المجدد للألف الثاني؛ أحمد السرهندي رحمه الله: ١/ ٤٢٣، رقم المکتوب: ٢٨٩، ت: عبدالله المصري، ط: مكتبة النيل، القاهرة)
    خلاصہ یہ کہ ہر ایک علماء کی تشریح کا پابند ہے، جب اہلِ قلب کو پابند بنایا گیا، تو اہل ہوی کیسے آزاد ہوسکتے ہیں، حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے ذکر کردہ ان ہدایات کی تشریح فرماتے ہوۓ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کاندھلوی -نور اللہ مرقدہ- نے لکھا ہے: 
     "جب اکابر صوفیہ کا یہ حال ہے کہ جن کے قلوب حقیقۃً روشن ہیں، اللہ جل جلالہ کی عظمت اور دین کا احترام، دینیات کی وقعت اور احکامِ شرعیہ پر مرمٹنا ان کی جان ہے، جب ان کے اقوال بھی علماء کی موافقت کے بغیر ناقابل احتجاج، ناقابل تقلید، ناقابل بیان ہیں، تو پھر ان لوگوں کے اقوال وافعال کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے؛ جنہیں نہ دین کی خبر ہے، نہ قرآنِ پاک اور احادیث اور اقوالِ سلف کی ہوا لگی ہے، کلام اللہ شریف کا ترجمہ دیکھا اور ایک مطلب سمجھ لیا، اس کے بعد پھر وہ مستقل مجتہد ہیں، اور اس کے خلاف کوئی عالم، بلکہ سارے علماء مل کر بھی جو کہیں وہ سب لغو و بے کار ہے، حالاں کہ قرآن وحدیث کا مطلب وہی ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم فرماگئے اور عمل کر کے بتاگئے۔"
   (الإعتدال في مراتب الرجال/ اسلامی سیاست: مؤلفہ: شیخ الحدیث رحمہ اللہ، ص: ٢٠٢ - ٢٠٣، ت: جاوید سہارن پوری، اشرف اعظمی، ط: مكتبة الاتحاد، ديوبند)
     لہٰذا ہر مسلمان، خصوصاً عصری تعلیم یافتہ افراد، کے لیے ضروری ہے کہ دینی مسائل میں اپنی رائے کو معیار بنانے کے بجائے علماءِ راسخین کی طرف رجوع کریں، اسی میں دین کی حفاظت، فکری اعتدال اور دنیا وآخرت کی کامیابی پنہاں ہے۔
 

9058996629